غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 فلسطینی جاں بحق

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2018

ای میل

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

غزہ کی سرحد پر ہونے والی تازہ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 فلسطینی نوجوان جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فائرنگ سے 12 سالہ فارس حفیظ اور 24 محمود اکرم موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی فوج کی فائرنگ، فلسطین میں 2014 کے بعد بدترین خونی دن

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران اسرائیلی فورسز کی شیلنگ سے 376 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

اشرف القدرہ نے بتایا کہ جمعہ کی شب فلسطینی مظاہرین نے احتجاجاً ٹائر جلائے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا لیکن اسرائیلی فوجیوں نے جواب میں نہتے فلسطینیوں پر آنسو گیس اور گولیاں برسا دیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آنسو گیس سے متاثرہ 192 مظاہرین کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 جاں بحق، 1400 سے زائد زخمی

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 126 افراد زخمی ہوئے جس میں سے 7 کی حالت تشویش ناک ہے۔

اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسیطنی ایمبولینس پر براہ راست آنسو گیس سے حملہ کیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب جبالیا پناہ گزین کیمپ میں مقامی صحافی محمد ہزمین کے سر پر آنسو گیس شیل لگا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی قبضے کے خلاف 30 مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے تقریباً 200 فلسطینی جاں بحق اور 21 ہزار 600 مظاہرین زخمی ہوچکے ہیں۔

تاہم اس دوران جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی کے ہلاک ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آچکا ہے۔

اسرائیل نے سرحد کو بند کرکے غزہ کو دنیا سے منقطع کر رکھا ہے اور ان کا موقف ہے کہ حماس کو تنہا کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے جبکہ 2008 سے اب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان 3 جنگیں بھی لڑی جاچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے بچے سمیت 3 فلسطینی جاں بحق

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے علاقے میں رہائش پذیر 20 لاکھ افراد کو سزا دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے ایک ہفتے پر محیط پرتشدد احتجاج اور جھڑپوں کے بعد گزشتہ روز صرف عام شہریوں کو غزہ جانے کے لیے سرحد مکمل طور پر کھول دی تھی۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایویگدور لیبرمین کا کہنا تھا کہ سرحد کو پرامن رہنے کی شرط پر کھولا جاتا ہے۔