افغان انٹیلی جنس کا 17 سالہ جنگ کو نجی کمپنی کے سپرد کرنے پر تحفظات کا اظہار

اپ ڈیٹ 06 اکتوبر 2018

ای میل

بلیک واٹر اہلکار ایک آپریشن میں مصروف ہیں — فائل فوٹو
بلیک واٹر اہلکار ایک آپریشن میں مصروف ہیں — فائل فوٹو

افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے ملک میں 17 سال سے جاری جنگ کو نجی ٹھیکیدار کے حوالے کرنے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے ان پر تحفطات کا اظہار کردیا۔

خاما پریس کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل سیکیورٹی کونسل (این ایس سی) کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ان دنوں ہماری فورسز ملک کی داخلی خود مختاری، افغان شہریوں کے حقوق اور ہمارے قومی اور اسلامی نظریات کا کامیابی سے تحفظ کررہی ہیں'۔

مزید پڑھیں: افغان جنگ کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دینے کا منصوبہ پھر زیر غور

افغان جنگ کو نجی کمپنی کے حوالے کرنے سے متعلق این ایس سی کے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'یہ تصور اس بات کی نفی کرے گا کہ افغانی اپنے مستقبل کا تعین خود کریں گے، افغان سیکیورٹی اور دفاعی فورسز ملک میں موجود تمام قوانین کے مطابق اسلام کے بنیادی اصولوں کے تحت عوام اور ملک کی قومی خود مختاری، دفاع اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں'۔

امریکی فورسز افغانستان میں آپریشن کرتے ہوئے — فائل فوٹو
امریکی فورسز افغانستان میں آپریشن کرتے ہوئے — فائل فوٹو

رپورٹس کے مطابق ایک سال قبل بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ تجویز دی تھی کہ افغان جنگ کو نجی کمپنی کے اہلکاروں کے سپرد کردیا جائے۔

کچھ روز قبل ہی ایرک پرنس نے نجی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا تھا کہ افغان جنگ کو نجی کمپنی کے سپرد کردینا چاہیے اور انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ جنگ کو نجی کمپنی کے حوالے کرنے سے تنازع کچھ وقت کے لیے ختم ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 'افغان جنگ شام سے زیادہ خطرناک روپ دھار لے گی‘

افغان انٹیلی جنس ایجنسی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی اتحادیوں کی مدد سے افغان سیکیورٹی فورسز کے ذریعے ہی لڑی جانی چاہیے'۔

ادارے کا مزید کہنا تھا کہ 'کسی بھی حالات میں افغان حکومت اور یہاں کے عوام انسداد دہشت گردی کی جنگ کو پرائیویٹ یا منافع بخش کاروبار بننے کی اجازت نہیں دیں گے'۔

بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس — فائل فوٹو
بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس — فائل فوٹو

این ایس سی کا مزید کہنا تھا کہ 'افغان حکومت اس معاملے پر جو چاہے موقف اپنائے لیکن قومی خود مختاری کے وجہ سے ہم اس جنگ کو ملک میں نجی کمپنی کے سپرد کرنے کے خلاف تمام قانونی اختیارات استعمال کریں گے'۔

افغان انٹیلی جنس ادارے کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمارے اصولوں، ہمارے قومی طریقہ زندگی اور ہماری عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اسے نجی تجارت کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور ہم اپنی جدوجہد کو منافع کی غرض سے ارزاں نہیں ہونے دیں گے'۔

ادھر طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل جوزیف ووٹیل کا کہنا تھا کہ یہ اچھا اقدام نہیں ہوگا کہ امریکا کے قومی مفاد کو ٹھیکیدار کے حوالے کردیا جائے۔

بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس کے حالیہ بیانات پر انہوں نے مزید کہا کہ 'نہ ہی افغان حکومت اور نہ ہی امریکی افواج ایرک پرنس کے افغان جنگ کو نجی کوانٹریکٹر کو دینے کے منصوبے میں یقین رکھتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: امریکا کا افغانستان میں نجی سیکیورٹی ٹھیکیداروں کی تعیناتی پر غور

امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ 'یہاں ہمارے وسیع مفادات ہیں اور ہمارے پاس اس کے تحفظ کے لیے قابل فورسز موجود ہیں'۔

پینٹاگون میں نیوز بریفنگ کے دوران امریکی جنرل کا کہنا تھاکہ 'دوسری جانب اگر وسیع تناظر میں بھی دیکھا جائے تو افغانستان کے ساتھ کیے جانے والے دوطرفہ معاہدے ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے، افغانی یہ نہیں چاہیں گے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اس حوالے سے ان سے اجازت کی ضرورت ہوگی اور جیسا کہ آپ متعدد افغان حکام کے بیانات دیکھ رہے ہیں وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے'۔

دوسری جانب خاما پریس کی علیحدہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جاری جنگ کے دوران نیٹو مشن میں شامل ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا۔

ریزولٹ سپورٹ مشن کے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'نیٹو کے افغان مشن میں شامل ایک امریکی فوجی 4 اکتوبر کو آپریشن کے دوران ہلاک ہوگیا'۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔