بغاوت کیس: صحافی سرل المیڈا کے وارنٹ منسوخ،نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2018

ای میل

شاہد خاقان عباسی، نواز شریف اور سرل المیڈا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا—فائل/فوٹو
شاہد خاقان عباسی، نواز شریف اور سرل المیڈا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا—فائل/فوٹو

لاہور ہائی کورٹ نے بغاوت کیس میں ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سرل المیڈا کے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

سابق وزرائے اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا لاہور ہائی کورٹ میں بغاوت کے الزام میں دائر کی گئی درخواست کی سماعت پر پیش ہوئے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس چوہدری مسعود جہانگیر پر مشتمل 3 رکنی فل بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے سرل المیڈا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے اور ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سرل المیڈا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری صرف حاضری کو یقینی بنانے کے لیے جاری کیے تھے۔

عدالت نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جبکہ نواز شریف، شاہد خاقان عباسی کی حاضری کو نوٹ کیا جائے۔

درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست سابق وزیر اعظم نواز شریف کے متنازع بیان کو بنیاد بنا کر دائر کی گئی ہے، اس لیے ان کے خلاف بغاوت کے الزام کے تحت کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیر اعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی، اس لیے ان کے خلاف بھی بغاوت کی کارروائی کی جائے۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

جسٹس مسعود جہانگیر نے سوال کیا کہ کیا سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی کارروائی کی گئی؟ وفاقی حکومت نے آرٹیکل 6 کے تحت کیا کارروائی کی جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں طارق نے کہا کہ یہ معاملہ پیمرا سے متعلق ہے۔

جسٹس مسعود جہانگیر نے کہا کہ پیمرا کا کام تقاریر نشر کرنے سے روکنا ہے، آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی وفاقی حکومت کا کام ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے نواز شریف کے وکیل نصیر بھٹہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹہ صاحب آپ نے بھی ایک وعدہ کیا تھا جس پر انہوں نے کہا کہ جی بالکل نواز شریف بھی عدالت میں موجود ہیں۔

عدالت نے نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور سرل المیڈا کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

ہائی کورٹ نے بغاوت کیس کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت میں اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی طلب کرلیا۔

سابق وزرائے اعظم کی عدالت میں حاضری کے پیش نظر پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کو بھی اطراف میں تعینات کیا گیا تھا اور داخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت کے دوران نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور سرل المیڈا کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے صحافی سرل المیڈا کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ سرل المیڈا کو پیش کرنے کی ذمہ داری لیں ورنہ ہم ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر رہے ہیں اور ان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

—فوٹو: بشکریہ عائشہ تنظیم، وائس آف امریکا
—فوٹو: بشکریہ عائشہ تنظیم، وائس آف امریکا

عدالت نے سرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔

اخبار کے ایڈیٹر ظفر عباس نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ سرل المیڈا قانون پر عمل کرنے والے شہری ہیں اور وہ عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پیش ہوں گے اور سرل المیڈا کے ہمرا ایڈیٹر خود عدالت پہنچے۔

مزید پڑھیں: غداری کیس: نواز شریف، صحافی سرل المیڈا کو عدالت پیش ہونے کا حکم

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے رواں سال مئی میں ڈان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

جس کے بعد سول سوسائٹی کی رکن آمنہ ملک نے لاہور ہائی کورٹ میں دونوں سابق وزرائے اعظم اور صحافی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کردیا تھا۔

درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ نواز شریف کے خلاف بغاوت کے الزام کے تحت کارروائی کی جائے۔