دیامر بھاشا، مہمند ڈیم کی تعمیر کا آغاز 2019 میں ہوگا، چیئرمین واپڈا

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2018

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد: مہمند اور دیامر بھاشا ڈیمز پر تعمیراتی کام کا آغاز 2019 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی سے شروع ہوجائے گا، مذکورہ منصوبوں کی کل لاگت 8 سو 83 ارب روپے ہے۔

ڈیمز کی تعمیر سے متعلق وزیر آبی ذخائر محمد فیصل واوڈا کو بریفنگ دیتے ہوئے واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین مزمل حسین کا کہنا تھا کہ تمام معاملات بخوبی انجام پا رہے ہیں اور تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز 2019 سے کیا جائے گا۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ 3 سو 9 ارب روپے مالیت کے مہمند ڈیم کے منصوبے پر کام 2019 کی پہلی سہہ ماہی میں شروع ہوگا جس کے لیے کنسلٹنٹس کی بھرتیوں کا مرحلہ آخری مراحل میں ہے، جو بولی کے عمل اور اس کی کارروائی کی نگرانی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: دیامر بھاشا ڈیم حدبندی تنازع: فریقین سے 15 روز میں جواب طلب

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ حکام نے 4 سو 78 ارب روپے مالیت کے دیامر بھاشا ڈیم کے لیے مشاورتی کمپنیوں کو دعوت دی تھی جس پر متعدد کمپنیوں کی جانب سے پری کوالفکیشن مرحلے کے لیے درخواستیں جمع کروا دی گئی تھیں، جن کی پیشکشوں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں بولی کے مرحلے کے لیے پرکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ حکام دیامر بھاشا ڈیم کو 2 مراحل میں تقسیم کر چکے ہیں جس میں سے ایک مرکزی ڈیم اور دوسرا اس کے ذیلی ڈھانچے ہیں۔

پہلے مرحلے کا آغاز 2019 میں کردیا جائے گا جبکہ الیکٹرو مکینکل فیز اور پاور ہاؤس جس کا تخمینہ 7 سو 51 ارب روپے ہے، بعد میں تعمیر کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: دیامر بھاشا ڈیم: 14 ہزار سے زائد ایکڑ زمین واپڈا کے سپرد

اجلاس میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے اعلان کردہ ڈیمز فنڈ میں اب تک 4 ارب 60 کروڑ روپے کی رقم جمع ہوچکی ہے جبکہ پبلک سیکٹر پروگرام برائے 19-2018 کے تحت مہمند ڈیم کے لیے 2 ارب روپے اور بھاشا ڈیم کے لیے 23 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

چیئرمین واپڈا کا مزید کہنا تھا کہ بہت سی وجوہات ملک میں پانی کے بحران کا سبب بن رہی ہیں چنانچہ ڈیمز کی تعمیر اور پانی کا ذخیرہ کرنے کی حکمتِ عملی مستقبل کے لیے ناگزیر ہوچکی ہے۔

اس کے علاوہ وزیر آبی ذخائر کو حال ہی میں مکمل ہونے والے واپڈا کے پانی اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی گئیں جن میں داسو، کیال خوار ہائیڈرو پاور، کرم تنگی اور نئی گج ڈیم شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم

اجلاس میں تعمیراتی عمل کے لیے تیار منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا جس میں کچھی کنال فیز 2 اور 3، کرم تنگی ڈیم، تربیلا پانچویں توسیعی اور ہارپو اور بنجی ہائیڈرو پاور پلانٹس شامل ہیں۔

اس موقع پر وزیر آبی ذخائر فیصل واوڈا نے واپڈا کی ٹیم کو یقین دہانی کروائی کے حکومت ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے تاکہ گھریلو، صنعتی اور ذرعی شعبوں کے لیے پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے او ر کم خرچ پر بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جاسکے۔


یہ خبر 9 اکتوبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔