سپریم کورٹ آف پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین واپڈا کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے ڈیمز کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی جس میں عدالت نے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق مختصر فیصلہ سنایا۔

چیف جسٹس نے اندرون ملک و بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے ڈیم کی تعمیر کے لئے عطیات دینے کی اپیل کی اور اپنی جانب سے 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے عوام 1965 والے جذبے کا ایک بار پھر اظہار کریں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان ’آبی وسائل کی قلت‘ کے شکار 15 ممالک میں شامل

عدالت عظمیٰ کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر کے لئے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام عطیات کا خصوصی اکاؤنٹ بنانے کی ہدایت کی گئی۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ پانی ملک کی زندگی ہے، سپریم کورٹ کا باپ بھی کالاباغ ڈیم نہیں بناسکتا جیسے ریمارکس نہ دیئے جائیں، سپریم کورٹ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے حوالے سے حکم دے سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو فوری طور پر دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم تعمیر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت 3 ہفتوں میں ڈیموں کی تعمیر شروع کرنے سے متعلق رپورٹ دے۔

یہ بھی پڑھیں: فنڈز کی عدم فراہمی: دادو ڈیم کی تکمیل 4 برس تاخیر کا شکار

دوران سماعت سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے عدالت کو بتایا کہ دنیا بھر میں 46 ہزار سے زائد ڈیمز بنے، بھارت نے ساڑھے 4 ہزار ڈیمز اور چین نے 22 ہزارہ ڈیمز بنائے جب کہ ورلڈ بینک اور کینیڈا مدد نہ کرتے تو پاکستان میں ایک ڈیم بھی نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیموں کی شدید قلت ہے، ڈیموں کی تعمیر پر فوری کام شروع ہونا چاہئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کو پانی کی قلت کاسامنا ہے، پانی کے بغیر ملک کی بقاء مشکل ہوجائے گی، جنگی بنیادوں پر پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو بحران شدید ہوجائے گا لہذا فوری طور پر دیامربھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے جب کہ کالاباغ ڈیم پر بہت لوگوں کے اختلاف ہیں، سب کا اتفاق ہو تو کالا باغ ڈیم بھی بن سکتا ہے۔

پانی و بجلی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ 2001 سے پانی کی دستیابی میں بتدریج کمی آرہی ہے، رواں سال پانی کی دستیابی گزشتہ سالوں کی نسبت انتہائی کم ہے، تربیلا کے بعد ہمیں ہر 10 سال بعد ایک نیا ڈیم بنانا چاہئے تھا۔

مزید پڑھیں: داسو ڈیم کی تعمیر کے ٹھیکے چینی کمپنی کے حوالے

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 13.7 ملین ایکڑ پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد ہے، بھاشا اور مہمند ڈیم سے ہمارے اسٹوریج میں اضافہ ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کو ڈیمز کی ضرورت ہے، پاکستان کی ضرورت کے تحت جتنے ڈیمز بنائے جائیں کم ہیں، زیر زمین پانی ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور ہم نے کھربوں روپے کا پانی مفت میں دے دیا

انہوں نے کہا کہ ڈیمز تو بننے ہیں، یہ ملکی بقاء کے لئے بہت ضروری ہیں، ہمیں ملک متحد کرنا ہے تقسیم نہیں، اس لئے فی الحال کالا باغ ڈیم کی بات نہیں کررہے، ممکن ہے کہ مستقبل میں سندھ کالا باغ ڈیم بنانے کا مطالبہ کرے، فی الحال ان ذخائر پر توجہ مرکوز کررہے ہیں جن پر کوئی تنازع نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے جن دو ڈیموں کو فوری بنانے کا حکم دیا ہے ان کی تفصیل:

دیامر بھاشا ڈیم: یہ کے پی کے اور گلگت بلتستان کے درمیان واقع ہے، جس میں گلگت بلتستان کا علاقہ بھاشا اور کے پی کے کوہستان کا علاقہ دیامر شامل ہے۔ اس ڈیم سے 4 ہزار 500 میگا واٹ بجلی بنائی جاسکے گی جبکہ یہ 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مہمند ڈیم: یہ ڈیم دریائے سوات پر مندا کے علاقے میں بنایا جائے گا، اس لئے اس کو مندا ڈیم بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس ڈیم سے 800 میگا واٹ بجلی بنائی جاسکے گی جبکہ یہ 0.676 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نوٹ: رپورٹس کے مطابق کالا باغ ڈیم سے 4000 میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔