’ نجی اسکول اضافہ بتائیں ،معقول فیس ہم طے کریں گے‘

16 اکتوبر 2018

ای میل

سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔۔۔۔ فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔۔۔۔ فائل فوٹو

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ نجی اسکول بند ہوں گے نہ نیشنلائز بلکہ ہم معقول فیسوں کا تعین کریں گے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پرائیویٹ اسکول من مانی فیس وصول کرتے ہیں۔

نجی اسکولوں کے وکیل سے مکالمے میں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں فیسوں میں اضافے پر کوئی قدغن نہ ہو، جنہوں نے بچوں کو پڑھانا ہے پڑھائیں آپ اپنی مرضی سے تعلیم فروخت کریں گے۔

مزید پڑھیں : نجی اسکولوں کو اضافی وصول کی گئی فیسیں سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ استاد کے احترام کا سبق اشفاق احمد کے واقعے سے ملتا ہے۔

نجی اسکول کے وکیل شہزاد الٰہی نے کہا کہ عدالت نجی اسکولوں کی فیس طے نہیں کر سکتی بلکہ فیس میں اضافے کا تعین کر سکتی ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جتنے اسکول ہیں سب آکر بتائیں ہم طے کر دیں گے کہ کتنی فیس ہونی چاہیے، اس موقع پر عدالت میں موجود حاظرین نے تالیاں بجانا شروع کردیں جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے لوگوں کو تالیاں بجانے سے روک دیا۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آپ تعلیم کے قومی جذبے سے ہٹ کر صرف پیسے کمانے کا سوچ رہے ہیں،آپ لوگوں نے سرکاری اور نجی سکولوں میں بہت فاصلہ پیدا کر دیا ہے۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ نجی اسکول مالکان روتے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس پیسے نہیں۔

وکیل فیصل صدیقی نے عدالت سے نجی اسکولوں کا فارنزک آڈٹ کروانے کی درخواست کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ذریعے تعلیمی پالیسی دی ہے، نجی اسکول بند ہوں گے نہ نیشنلائز،ہم معقول فیسوں کا تعین کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : نجی اسکول فیس کیس: تمام ہائیکورٹس، رجسٹریوں سے سماعت کا ریکارڈ طلب

جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بعض نجی اسکولوں نے بیرون ملک برانچیں کھول رکھی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نجی اسکولوں کا آڈٹ اکاؤنٹ پیش کریں،کسی ایک کا فارنزک آڈٹ کرالیں گے جس پر نجی اسکول کے وکیل نے جواب دیا کہ ہم نے آڈٹ اکاؤنٹس پیش کردیے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسکول مالکان نے چار چار رجسٹر بنائے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے وکیلوں کے ساتھ پیش ہوجاتے ہیں،آپ لوگوں کو ملک کا فائدہ دیکھنا چاہیے، فیسوں کے لیے کوئی ضابطہ کار ہونا چاہیے۔

عدالتی معاون لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس ملک میں تین قسم کے تعلیمی نظام ہیں،تینوں کے طالب علم ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ممی ڈیڈی اسکولوں کے بچے منشیات لیتے ہیں، آپ طبقاتی تقسیم کو سمجھنے کے لیے بھارتی فلم ہچکی دیکھیں۔

بعد ازاں عدالت نے نجی اسکولوں کو آڈٹ اکاؤنٹس جمع کروانے کی ہدایت دے دی۔

عدالت نے حکم دیا نجی اسکول لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ساتھ بیٹھ کر معقول فیس کا تعین کریں اور قانون سازی کے لیے بھی تجاویز دیں جس کے بعد اس مسئلے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔