برطانیہ: کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزام میں 20 افراد کو قید

20 اکتوبر 2018

ای میل

کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزام میں قید کی سزا پانے والے افراد — فوٹو: اے پی
کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزام میں قید کی سزا پانے والے افراد — فوٹو: اے پی

برطانیہ کے شمالی علاقے میں ایک درجن سے زائد کم عمر لڑکیوں کو ریپ اور ان کے جنسی استحصال کے الزام میں 20 افراد کو قید کی سزا سنادی گئی، جن میں سے بیشتر پاکستانی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے علاقے ہوڈرز فیلڈ سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو رواں سال مذکورہ ٹرائل کے دوران مجرم قرار دیا گیا تھا لیکن اس وقت تک فیصلے کو منظر عام پر نہیں لایا گیا جب تک جج کی جانب سے جمعہ کے روز اس اشاعت پر عائد پابندی ختم نہیں کردی گئی۔

برطانیہ کے شمالی علاقوں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں تمام ملزمان کا تعلق ایشیا سے اور انہیں بچوں کے جنسی استحصال کے الزام میں سزائیں سنائی گئیں۔

مزید پڑھیں: برطانوی عدالت کا 3 پاکستانی نژاد مجرموں کو ڈی پورٹ کرنے کا حکم

رپورٹ کے مطابق بیشتر ملزمان کا تعلق پاکستان سے ہے۔

ملزمان پر الزام ہے کہ وہ ایک ایسے گینگ کا حصہ تھے جنہوں نے 11 سے 17 سال کی 15 کم عمر لڑکیوں کا ریپ کیا اور عدالت میں دیئے گئے بیان کے مطابق یہ لڑکیاں 'تنہا' تھیں۔

پروسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ متاثرین کو شراب اور دیگر ڈرگز دی جاتی تھیں جس کے بعد انہیں کار یا کار پارکنگ، اسنوکرز سینٹرز، ریسٹورانٹس اور پارٹیز میں ریپ کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گینگ کا سربراہ امیر سنگھ دہالیوال نامی شخص تھا جنہیں رواں سال کے آغاز میں ریپ کے 22 مقدمات میں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دیگر افراد کو 5 سے 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

خیال رہے کہ مسلم مخالف مہم کے رضاکار اسٹیفن لینون، جو اپنا تخلص ٹومی رابنسن بتاتے ہیں، کو مئی میں اس کیس کا فیصلہ سوشل میڈیا پر لائیو چلانے پر توہین عدالت کی سزا سنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ :'جنسی کاروبار' میں ملوث پاکستانی ڈی پورٹ

پولیس کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ کم عمر بچوں کے جنسی استحصال میں بیشتر سفید فارم افراد ملوث ہوتے ہیں اور بچوں کو اسکول، دیگر تعلیمی اداروں، مکانات اور آن لائن بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔

سابق پروسیکیوٹر نظر افضال، جو بہت سے متاثرین کو ٹرائل میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سامنے آنے والے ہائی پروفائل کیسز میں پاکستانی شہری ملوث پائے گئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان سب کی وجہ ایشیا سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کا ٹیکسی فرمز، ریسٹورانٹ پر ملازمت کرنا اور خاص طور پر ان کا خواتین کے حوالے سے جنسی رویے کی جانب مائل ہونا ہے۔