ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستانی اقدامات غیر تسلی بخش قرار

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2018

ای میل

ایشیا پیسفک گروپ کا وفد   پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ برس دوبارہ دورہ کرے گا—فائل فوٹو
ایشیا پیسفک گروپ کا وفد پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ برس دوبارہ دورہ کرے گا—فائل فوٹو

اسلام آباد: ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کے وفد نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستانی اقدمات کو بین الاقوامی معیارات کے تناظر میں غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

ڈان اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے باخبر ذرائع نے بتایا کہ اے پی جی وفد نے اپنی مشاہداتی رپورٹ سے تمام متعلقہ اداروں کے حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

رپورٹ میں قوانین، قواعد و ضوابط اور میکانزم میں خرابیوں اور اداروں کی خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس رفتار سے کام کر کے پاکستان فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے باہر نہیں آسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے 'ایف اے ٹی ایف' گرے لسٹ سے اخراج کیلئے اقدامات پر رپورٹ تیار

پاکستان آنے والے وفد نے اس سلسلے میں وزارت خزانہ، داخلہ، خارجہ اور قانون، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی (نیکٹا)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، قومی احتساب بیورو (نیب)، انسدادِ منشیات فورس، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز اور انسدادِ دہشت گردی کے صوبائی محکموں سے مشاورت کی۔

وفد نے ان اداروں کو بتایا کہ وہ اپنی مرتب کردہ رپورٹ 19 نومبر کو پاکستان کو پیش کر دے گا جس کے بعد پاکستان کو اس حوالے سے 15 دن کے اندر اپنا جواب جمع کروانا ہوگا، جس کا جائزہ لے کر اے پی جی پیرس میں ایف اے ٹی ایف کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گا۔

واضح رہے کہ اے پی جی وفد آئندہ برس مارچ اور اپریل میں دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گا جس میں ایک بار پھر اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، بعد ازاں اس کی رپورٹ جولائی 2019 میں عوام کے سامنے پیش کردی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کا وفد پاکستان کی کارکردگی سے اب تک متاثر نہ ہوسکا

خیال رہے کہ حکام کو واضح طور پر بتایا جاچکا ہے کہ اگر پاکستان گرے لسٹ سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے وفد کے آئندہ دورے سے قبل بھرپور اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے، بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق وفد نے انسدادِ منی لانڈرنگ کی کوششوں، غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی اور دہشت گردوں کے مالی تعاون کو روکنے کے طریقہ کار میں برتی جانے والی کوتاہیوں پر روشنی ڈالی، وفد کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات انتہائی غیر تسلی بخش ہیں۔

وفد کے مطابق جن معاملات میں قانون مضبوط ہے اس میں بھی عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف وفد کے پاکستانی اداروں سے سوالات

خیال رہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون میں کیے گئے سمجھوتے کے تحت پاکستان کو آئندہ برس ستمبر تک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے 'ایف اے ٹی ایف' کے 10 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔

اس سلسلے میں حکومت کو دہشت گرد تنظیموں اور مشتبہ دہشت گردوں کے مالی اثاثوں، خاندانی پس منظر اور دیگر معلومات مرتب کر کے اسے جنوری تک تمام اداروں کو فراہم کرنا ہے، اگر پاکستان ان اقدامات پر مکمل طور پر عمل کرنے میں ناکام رہا تو اس کا اندراج بلیک لسٹ میں کردیا جائے گا۔