سعودی عرب، پاکستان کو 3ارب ڈالر امداد دینے پر رضامند

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2018

ای میل

وزیر اعظم عمران خان سعودی فرمانرواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے گفتگو کر رہے ہیں— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
وزیر اعظم عمران خان سعودی فرمانرواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے گفتگو کر رہے ہیں— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

سعودی عرب نے معاشی بحران سے دوچار پاکستان کی مدد کے لیے 3ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب فرمانرواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر عالمی سرمایہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ریاض میں موجود ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقاتیں کی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے سعودی فرمانرواں اور ولی عہد کو پاکستان کو درپیش معاشی بحران اور مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

ملاقات کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمتی یادداشت کر دستخط کیے گئے جس کے تحت پاکستان کو ایک سال کے لیے 3ارب ڈالر دیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی شاہ سلمان سے ملاقات،مختلف امور پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی وزیر خزانہ عبد اللہ الجدان نے ایم او یو پر دستخط کیے جس کے مطابق سعودی عرب رقم کی ادائیگیوں میں توازن کے لیے پاکستان کو 3ارب ڈالر کی امداد دے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 3ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر پاکستان کو تیل بھی فراہم کرے گا۔

سعودی عرب نے پاکستان میں معدنی وسائل کی ترقی کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستان میں آئل ریفائنری منصوبے پر بھی آمادگی ظاہر کی لیکن سعودی عرب اپنی کابینہ کی منظوری کے بعد آئل ریفائنری منصوبے پر دستخط کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ہمارے اگلے 3 سے 6 ماہ سخت ہوں گے، وزیر اعظم

پاکستان کے معدنی وسائل میں سعودی عرب کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان تمام اسٹیک ہولڈرز سے گفتگو کرے گی جس کے بعد سعودی وفد کو اس سلسلے میں سرمایہ کاری کے لیے دورہ پاکستان کی دعوت دی جائے گی۔

اس سے قبل ریاض میں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں اقتدار میں آئے 60 دن ہوئے ہیں، ہمیں فوری طور پر کرنٹ خسارے کے مسئلے کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تجارتی اور بجٹ خسارہ ورثے میں ملا، قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت ہے جس کے لیے آئی ایم ایف سے بات کر رہے ہیں، جبکہ کوشش ہے کہ دوست ممالک سے بھی قرض حاصل کیا جاسکے۔

ضرور پڑھیں: پیسوں کی ضرورت ہے، سعودی عرب کی دعوت ٹھکرا نہیں سکتے تھے، عمران

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز دو روزہ دورے پر سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ پہنچے تھے، جہاں مدینہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان اور سعودی سفیر نے ان کا استقبال کیا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے سبب آئی ایم ایف اور امریکی سیکریٹری خارجہ سمیت اہم رہنماؤں نے سعودی میں سرمایہ کاری کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے عمران خان اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کا موقف ہے کہ سعودی صحافی کے قتل کے خلاف پاکستان کو بھی عالمی برادری کی پیروی کرتے ہوئے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا۔

تاہم وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے باوجود سعودی عرب کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور پاکستان، سعودی عرب سے اچھے تعلقات جاری رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت شدید بحرانی صورتحال سے دوچار ہے اور ہمیں تاریخ کے بدترین قرضوں کا سامنا ہے لہٰذا ایسی صورت میں ہم اپنے پرانے دوست سعودی عرب کی جانب سے دی گئی دعوت کو ٹھکرا نہیں سکتے تھے۔

25اگست کو عام انتخابات میں کامیابی کے ذریعے اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کے موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) کے پاس جانے کا اعلان کیا تھا تاکہ معاشی استحکام کے لیے عالمی ادارے سے 8 سے 12ارب ڈالر کا فنڈ حاصل کیا جا سکے۔

عمران خان کی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف جانے کے اعلان کے بعد ملکی روپے کی قدر میں مزید کمی دیکھنے کو ملی اور ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 136روپے تک پہنچ گیا جہاں ایک دن قبل اس کی مالیت 124رروپے تھی۔

تاہم گزشتہ دنوں صحافیوں سے گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا تھا کہ ہم سعودی عرب سمیت دیگر دوست ملکوں سے مالی معاونت اور پاکستان میں سرمایہ کاری کی درخواست کریں گے اور ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔

البتہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین اور آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج پاکستان کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر مسلسل تنزلی کا شکار ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ حسارہ بھی بڑھ رہا جبکہ اسٹیٹ بینک کو روپے کی قدر میں کمی کرنا پڑی۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے ماہر معاشیات خبردار کر رہے تھے کہ موجودہ خراب صورتحال اور کرنٹ اکاؤنٹ کے بحران کے پیش نظر ملکی روپے کی قدر میں کمی واقع ہو گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک پر چڑھے کھربوں روپے کے قرض کی ادائیگی اور درآمدات کی خریداری کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔