امریکا،خلیجی ریاستوں نے 9 افراد کو عالمی دہشتگرد قرار دےدیا
واشنگٹن: امریکا، سعودی عرب اور 5 دیگر خلیجی ریاستوں نے طالبان رہنماؤں سمیت 9 افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کردی۔
ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ افراد ایران کے ساتھ مل کر افغان حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔
دہشت گرد قرار دیئے گئے ان افراد میں 2 پاکستانی اور 4 افغان طالبان بھی شامل ہیں، جنہیں ٹیررسٹ فنانسنگ ٹارگیٹنگ سینٹر (ٹی ایف ٹی سی) کی تمام 7 رکن ریاستوں کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’پاکستان کو دہشت گردوں کے معاون ممالک کی فہرست میں کوئی شامل نہیں کرسکتا‘
خیال رہے کہ 'ٹی ایف ٹی سی' میں امریکا، سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) شامل ہیں، جو مئی 2017 میں قائم کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام حکومتوں کو ان کے دائرہ کار کے تحت ان افراد کی جائیدادوں یا جائیدادوں میں کی گئی سرمایہ کاری کو منجمد کرنے کی اجازت دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہدف بنائے گئے افراد میں کچھ ’ایران کی حمایت ‘ سے طالبان کو سہارا دے رہے تھے جبکہ دیگر’ ایرانی حکومت کے اسپانسر‘ تھے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسٹیون منیوچن کا کہنا تھا کہ ’ٹی ایف ٹی سی رکاوٹ ہے اور وہ خودکش دھماکوں اور دیگر مہلک سرگرمیوں میں ملوث طالبان کے اہم رہنماؤں کو سامنے لارہی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم طالبان کو مالی اور مادی امراد فراہم کرنے والے کلیدی ایرانی اسپانسرز کو بھی ہدف بنا رہے ہیں‘۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیائی حکمت عملی کی حمایت کرتی ہیں۔
خلیجی ریاستوں اور امریکا کی جانب سے جن افراد پر پابندی اور انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا، ان کی فہرست میں سب سے پہلے ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس (آئی آر جی سی-کیو ایف) کے مبینہ افسر محمد ابراہیم احدی ہیں، جنہوں نے ہیرات کے لیے طالبان کے ڈپٹی گورنر کے ساتھ مبینہ طور پر حملوں میں معاونت کا معاہدہ کیا تھا۔
ایران کے مبینہ طالبان ساتھی عبداللہ صمد فاروقی پر ایران سے ہتھیار اور عسکری امداد لینے پر پابندی لگائی گئی، اس کے علاوہ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر برجند ایران میں تربیتی کیمپ کا دورہ کیا، جہاں پاسداران انقلاب کی قدس فورس طالبان جنگجوؤں کو تربیت دیتی تھی۔
اسی طرح اسمٰعیل رضوی پر قدس فورس کے لیے کام کرنے اور طالبان کو مالی، مادی یا تکنیکی مدد فراہم کرنے کی وجہ سے پابندی لگائی گئی۔
فہرست میں شامل طالبان رہنماؤں میں محمد داؤد مزمل شامل ہیں، جو افغان صوبہ فرح کے لیے طالبان کے ڈپٹی گورنر ہیں، اس سے قبل وہ 2017 میں طالبان کے کوئٹہ ملٹری کمیشن کے رہنما بھی رہ چکے ہیں۔
ٹی ایف ٹی سی کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنے والوں میں عبدالرحیم منان بھی شامل ہیں جو ہلمند کے لیے طالبان کے گورنر ہیں اور انہوں نے افان حکومتی فورسز پر حملے کے لیے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں تعداد جنگجو فراہم کیے۔
فہرست میں طالبان کے وزیر خارجہ امور اور ایران کے ساتھ طالبان کے تعلقات دیکھنے والے نعیم بریچ بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے دہشت گرد گروپوں کی فہرست پاکستان کو فراہم کردی
اس کے علاوہ مبینہ طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے منشیات فروش عبدالعزیز شامل ہیں، جو طالبان کوئٹہ شوریٰ کو فنڈز فراہم کرتے ہیں اور شوریٰ کے لیے رقم کا انتظام کرنے کے لیے خلیجی ممالک کا دورہ کرتے تھے۔
پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں افغانستان میں طالبان کے حکومت میں وزیر دفاع رہنے والے طالبان کے ملٹری کمیشن کے رکن صدر ابراہیم شامل ہیں۔
اسی طرح پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالبان شوریٰ کے سینئر رکن اور ملا عمر کے مشیر رہنے والے حافظ مجید بھی شامل ہیں جبکہ طالبان کے مزید 2 رکن ایسے ہیں، جن پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔











لائیو ٹی وی