وزیرِاعظم عمران خان پاکستان کوارٹرز سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

30 اکتوبر 2018

ای میل

جمشید کوارٹرز، مارٹن ایسٹ، مارٹن ویسٹ اور جہانگیر کوارٹرز، یہ سب پاکستان کوارٹرز کا حصہ ہیں جنہیں تقسیم کے وقت سرکاری ملازمین کی رہائش کے لیے سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ کوارٹرز مرکزی سڑکوں کے پاس قائم ہیں اور شہر کے مرکزی کاروباری علاقے سے یہاں تک آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ علاقے میں گرین لائن بی آر ٹی کی تعمیر سے اس زمین کی قیمت خاصی بڑھ چکی ہے۔

1960ء کی دہائی کے بعد سرکاری اداروں نے کوارٹر خالی کردیے اور رہائیشیوں کی ضرورت کے مطابق پھلنے پھولنے کے لیے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ الاٹیز کی اکثریت اب انتقال کرچکی ہے مگر اب بھی کچھ پینشنر یہاں مقیم ہیں۔ کوارٹرز میں اب حقیقی الاٹیز کے بچے، پوتے پوتیاں اور کچھ کے تو پَڑپوتے اور پَڑپوتیاں بھی یہاں رہتے ہیں اور آبادی میں اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ گھر مزید گھروں میں تقسیم کیے جاچکے ہیں۔

کئی گھروں نے اب یہ کوارٹرز کرائے پر بھی دیے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں اسپورٹس کلب، مذہبی سوسائٹیاں، فلاحی تنظیمیں، اسکول، مساجد اور امام بارگاہیں بھی قائم ہیں جبکہ یہاں معاشی سرگرمیاں بھی خوب ہوتی ہیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ہر چیز ہے جو اس علاقے کے لوگوں کو آپس میں باندھے رکھتی ہے۔ ان سب چیزوں نے گزشتہ 70 سال میں یہاں اپنی جڑیں بنائی ہیں۔

ویڈیو: پاکستان کوارٹرز خالی کروانے کیلئے پولیس کا ایکشن

لیکن اب اچانک ان کوارٹرز کے رہائشیوں کو بغیر کوئی معاوضہ یا متبادل رہائش دیے مکان خالی کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے جو ان کے لیے اب گھر کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ان میں سے زیادہ تر پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں۔ انہیں ریاستی غفلت اور کرپشن کی سزا دی جا رہی ہے اور کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ان لینڈ ڈیولپرز کی حرص کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس زمین پر اپنی نظریں گاڑ رکھی ہیں۔ اس پورے مرحلے میں کراچی میں گھروں کی موجودہ تعداد کم ہوجائے گی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تقریباً 8 ہزار رہائشی یونٹ ہیں اور ان کے رہائشیوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق کوارٹرز 335 ایکڑ پر محیط ہیں اور سیٹلائٹ تصاویر اور مشاہدے کے مطابق یہاں فی ایکڑ 200 لوگ مقیم ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں کی آبادی 90 ہزار نفوس یا 13 ہزار گھرانوں پر مشتمل ہے۔

ایک مثالی دنیا میں یہ رہائشی یہیں رہتے اور اپنے علاقے کی بتدریج ترقی کے لیے ادائیگی کرتے ہوئے اس کی ترقی کا انتظام کرتے رہتے۔ مگر ہم مثالی دنیا میں نہیں بلکہ مارکیٹ اکانومی میں رہتے ہیں جہاں زمین کا استعمال اس کی قیمت دیکھ کر کیا جاتا ہے نہ کہ ماحولیاتی اور سماجی عوامل کو دیکھتے ہوئے۔

مگر پھر بھی یہ صورتحال وزیرِاعظم کے ہاؤسنگ پروگرام کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ اس پورے علاقے کو ازسرِنو ڈیولپ کرتے ہوئے کم بلند اپارٹمنٹس یا 2 منزلہ گھر تعمیر کیے جاسکتے ہیں جس سے آبادی کا تناسب 800 افراد فی ایکڑ ہوجائے گا۔ اس سے ہمیں 40 ہزار گھر حاصل ہوں گے جو موجودہ تعداد میں 27 ہزار کا اضافہ ہے۔ موجودہ آبادی کو کم قیمت یونٹس میں ٹھہرایا جا سکتا ہے اور مزید 27 ہزار یونٹس کو درمیانی آمدنی کے رہائشی اور کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رہائشیوں سے کہا جانا چاہیے کہ وہ اپنے نئے گھروں کی اصل قیمت آسان اقساط میں اگلے 15 سالوں میں ادا کردیں۔ منافع خوری کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے 15 سالوں تک کسی بھی گھر کی فروخت یا ٹرانسفر کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اس کے علاوہ رہائشی یونٹس کو برادریوں کی ملکیت میں دینے پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ کرائے پر رہنے والوں کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کے پاس بھی اپنا گھر ہونا چاہیے۔ ان کے لیے کئی آپشن ہوسکتے ہیں مگر اس سب کا ایک مکمل سروے کے بعد ہی تعین کیا جاسکتا ہے۔ اس پورے منصوبے کو مرکزی سڑک کے ساتھ ساتھ کمرشل تعمیرات کے ذریعے آسانی سے فنڈ کیا جاسکتا ہے۔

اگر ڈیزائن کو حساس انداز میں ترتیب دیا جائے تو اتنی جگہ موجود ہے کہ زیادہ سے زیادہ صرف 5 فیصد آبادی کو اپنے گھروں کے زیرِ تعمیر ہونے کے دوران باہر جانا پڑے گا، باقی 95 فیصد آبادی کے وہاں رہتے ہوئے ہی ڈیولپمنٹ ہوسکتی ہے۔ باقی کی تمام آبادی صرف اپنے موجودہ گھروں سے نئے گھروں میں منتقل ہوجائے گی۔ یوں وہ سب سے بڑی مشکل دور ہوجائے گی جو ازسرِنو ڈیولپمنٹ کے منصوبوں کی راہ میں حائل ہوتی ہے اور جس سے لوگوں کو بسا اوقات کئی سال تک یا تو کرائے پر یا پھر اپنے رشتے داروں کے گھر رہنا پڑتا ہے جب تک کہ ان کے نئے گھر کی تعمیر مکمل نہ ہوجائے۔ اس مرحلے کے اختتام تک زیادہ تر لوگ قرضے میں ڈوب جاتے ہیں۔

اس ازسرِ نو ڈیولپمنٹ کی انتظام کاری کا بہترین طریقہ یہ ہوگا کہ نجی و سرکاری شعبے کی شراکت سے تحقیق، ڈیزائن اور تعمیرات پر مامور ایک کمپنی تشکیل دی جائے۔ تحقیق یہ سمجھنے کے لیے ہوگی کہ یہاں مقیم برادریوں کا ڈھانچہ کیسا ہے، ان کی ترجیحات کیا ہیں اور مقامی طور پر موجود سماجی انفراسٹرکچر کیسا ہے تاکہ منصوبہ بندی اور ڈیولپمنٹ یہاں مقیم لوگوں کی ڈیزائن اور تعمیرات میں شراکت سے ممکن ہوسکے۔

پڑھیے: چیف جسٹس نے 2 ماہ کیلئے پاکستان کوارٹرز خالی کروانے سے روک دیا

کمپنی کا ایک بورڈ ہونا چاہیے جس میں مقامی افراد کے نمائندے، سول سوسائٹی کے ارکان اور تدریس سے منسلک متعلقہ افراد بھی شامل ہوں۔ اس کے علاوہ ایک تنخواہ دار ایگزیکٹیو کمیٹی بھی ہو جس میں ایک علاقائی نمائندہ اور آزاد ماہرین موجود ہوں جو یہ یقینی بنائیں کہ بورڈ کے تحفظات کو انتظامیہ حل کرے۔

اس تصور پر شاید عمل کیا جائے یا شاید نہ کیا جائے، مگر امید ہے کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر شہر میں ان 'غیر قانونی' آبادیوں سے زبردستی بے دخلی نہیں دیکھنی پڑے گی جو کم آمدنی والے لوگوں کو گھر فراہم کرنے میں ریاستی ناکامی کی وجہ سے ہیں اور یقیناً لوگوں کو بے گھر کرنا وزیرِاعظم کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے پروگرام میں شامل نہیں ہے۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 28 اکتوبر 2018 کو شائع ہوا۔