ایون فیلڈ سزا معطلی کیس: کیوں نہ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کردیں، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2018
—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس کے فیصلے پر اسلام ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے ریمارکس عدالت عظمیٰ میں چینلج کردیے۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو سزائیں سنائی تھی اور آئی ایچ سی نے احتساب عدالت کے فیصلے کو 19 ستمبر کو معطل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس سزا معطلی کی درخواستوں کےخلاف نیب کی درخواست دائر

جس کے بعد نیب نے آئی سی ایچ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چینلج کیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے کہا کہ عدالت ملزم کی زندگی کو خطرے کے پیش نظر حقائق کا جائزہ لے سکتی ہے یا طویل عرصے سے اپیل کی تاریخ مختص نہ ہوئی ہو۔

انہوں نے اپنے دفاع میں مزید کہا کہ آئی ایچ سی نے آئینی پٹیشن کی سماعت کے دوران حقائق پر بات کی۔

جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے وکیل پہلے بھی ایسی طرح کا موقف پیش کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: نواز شریف،مریم نواز،محمد صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ’عدالت عمومی کیس میں حقائق پر رائے نہیں دے سکتی لیکن یہ کیس (ایون فیلڈ کیس) خاص ہے۔

عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ آئی ایچ سی نے شریف خاندان کو ضمانت دینے سے قبل کیس کے تمام پہلوؤں پر غور کیا تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو اپنے دلائل پیش کرنے کا کہا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ آئی ایچ سی کا فیصلہ 12 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں تمام فریقین کی سفارشات بھی درج ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ضمانت سے متعلق نیب کے قوانین ماضی میں مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’فیصلہ رٹ پٹیشن پر جاری کیا گیا اور آئی ایچ سی کیس میں نیب کے جانب سے پیش کردہ ثبوب پر سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ ضمانت کی درخواست کا فیصلہ کرتے ہوئے کیسے کہہ سکتی ہے کہ شواہد میں نقائص ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ہم نے صرف رحم دلی کے تحت نیب کی درخواست مسترد کی۔

عدالت عظمٰی نے ریمارکس دیے کہ ’ہم کیوں نہ یہ فیصلہ کالعدم کردیں‘۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے خواجہ حارث سے مخاطب ہوئے کہا اور کہ کوئی ایک ایسا فیصلہ بتا دیں جو اس طرح کا ہو۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا کیس تھا اور تمام اثاثے نواز شریف کے صاحبزادوں کے ہیں۔

مزید پڑھیں: نواز، مریم اور صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت مقرر

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر نواز شریف یہ تسلیم کرچکے ہیں تو انہیں اپنی آمدن کے ذرائع بتانے ہوں گے جو جائیداد خریدتے وقت استعمال کیے گئے، یہ اثاثے کس کے ہیں۔

جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اثاثے بڑے بیٹے کے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بیٹے کے اثاثے کیسے ہوگئے؟

خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے مان لیا کہ میری جائیداد ہے لیکن استغاثہ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ میری جائیداد ہے۔

جس کے جواب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے جب مان لیا تو آپ کو ثابت بھی کرنا تھا، اوپر سے کوئی من و سلویٰ تو نہیں اترا کہ آپ کے اثاثے بن گئے، یہ کوئی درختوں پر تو نہیں لٹکے تھے کہ آپ نے توڑے اور اثاثے بنا لیے،ثابت کرنا آپ کا کام ہے کہ جائیدادیں کیسے بنائیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ انکم ٹیکس قوانین کے مطابق ملزم ثبوت پیش کرنے کا پابند ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے تمام وکلاء کو تحریری طور پر معروضات پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے نیب کی اپیل کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔

ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ

خیال رہے کہ 6 جولائی شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف

اس کے علاوہ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے مطابق نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات پر مریم نواز کو والد کے اس جرم میں ساتھ دینے پر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق تحقیقات میں نیب کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر علیحدہ ایک، ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اس طرح مجموعی طور پر نواز شریف کو 11 اور مریم کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں