انٹرنیٹ کیا ہے؟ پاکستانی عوام کی اکثریت کو علم نہیں!

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2018

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

اسلام آباد: ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15 سے 65 سال کے 69 فیصد صارفین انٹرنیٹ سے واقف نہیں ہیں۔

انفارمیشن کمیونبکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) پر تحقیق کرنے والے سری لنکا میں مقیم تھنک ٹینک لرنے ایشیا کی جانب سے کیے گئے سروے میں یہ حقائق سامنے آئے۔

اس سروے میں پاکستان کے 2 ہزار کے قریب گھرانوں سے سوالات کیے گئے تھے۔

لرنے ایشیا نے دعویٰ کیا کہ سیمپلنگ کا طریقہ کار اس طرح سے بنایا گیا تھا کہ پاکستان کی 15 سے 65 سال عمر کی 98 فیصد آبادی کی نمائندگی حاصل ہوسکے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی انٹرنیٹ آزادی کی درجہ بندی میں مسلسل 7ویں سال تنزلی

اکتوبر سے دسمبر 2017 کے درمیان ہونے والے اس سروے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ صارفین آئی سی ٹی کو استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔

لرنے ایشیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلانی گلپایا نے رپورٹ میں بتایا کہ ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ویب سائٹ کے مطابق ملک میں 15 کروڑ 20 لاکھ صارفین ہیں تاہم سم رجسٹریشن کے بہترین نظام کے باوجود صارفین کے حوالے سے کوئی بات نہیں بتائی گئی کہ وہ مرد ہیں یا خواتین، غریب ہیں یا امیر جس کی وجہ سے رسائی کے خلا کو سمجھنے میں مشکلات بھی ہیں‘۔

اس تحقیق میں نشاندہی کی گئی کہ انٹرنیٹ کے حوالے سے آگاہی نہ ہونا پاکستان سمیت ایشائی ممالک میں بڑا مسئلہ ہے جہاں 15 سے 65 سال کی عمر کی صرف 30 فیصد آبادی انٹرنیٹ کے بارے میں جانتی ہے (ان سے صرف اتنا سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ انٹرنیٹ کے بارے میں جانتے ہیں اور اس کی مزید وضاحت نہیں طلب کی گئی تھی)۔

تحقیق کے مطابق 17 فیصد نے دعویٰ کیا کہ وہ انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہیں جبکہ نہ استعمال کرنے والوں کو اس حوالے سے کوئی آگاہی حاصل نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’انٹرنیٹ پر منفی چیزیں بہت تیزی سے وائرل ہوتی ہیں‘

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین میں شہری-دیہی خلا ایشیائی ممالک میں کیے گئے سروے میں سب سے کم، 13 فیصد رہی۔

پاکستانی خواتین مردوں کے مقابلے میں 43 فیصد کم انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں جبکہ بھارت کی شرح کم سے کم رہی جہاں 57 فیصد خلا دیکھا گیا اور بنگلہ دیش میں اس کی شرح 62 فیصد دیکھنے میں آئی۔

جو لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ 49 فیصد وقت کی کمی، 18 فیصد مہنگے ڈیٹا چارجز کی وجہ سے انٹرنیٹ سے بھرپور استفادہ نہیں کر پاتے جبکہ 22 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے انٹرنیٹ کے استعمال میں کوئی روک ٹوک نہیں۔

رپورٹ میں 22 فیصد اسمارٹ فون صارفین اور 25 فیصد انٹرنیٹ کی صلاحیت والے فیچر فون صارفین پر نظر ڈالی گئی۔

ہیلانی گلپایا کا کہنا تھا کہ ’بقیہ 53 فیصد افراد کے موبائل فونز میں انٹرنیٹ کی صلاحیت نہیں، اب وقت ہے کہ عوام کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون دیا جائے اور عام فون کو ختم کیا جائے‘۔

پی ٹی اے کی جانب سے تحقیق پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 12 نومبر 2018 کو شائع ہوئی