جنگل اور شہروں میں ‘کوکو کورینا‘ کو ڈھونڈتا جگر جلال

ای میل

لوک فنکار جگر جلال نے بھی کوکو کورینا کو گا کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی—اسکرین شاٹ
لوک فنکار جگر جلال نے بھی کوکو کورینا کو گا کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی—اسکرین شاٹ

کوک اسٹوڈیو 11 کی نویں قسط میں اداکار احد رضا میر اور گلوکارہ مومنہ مستحسن نے ماضی کے مقبول گیت ’کوکو کورینا‘ کو منفرد انداز میں گانے کی کوشش کی تھی۔

تاہم انہیں یہ کوشش مہنگی پڑی تھی اور ان پر کئی افراد نے تنقید کی تھی۔

لوگوں کا خیال تھا کہ احد رضا میر اور مومنہ مستحسن نے مقبول گانے کو برے انداز میں گا کر موسیقی کے مداحوں کی دل آزاری کی۔

یہاں تک ان پر انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی تنقید کی تھی۔

تاہم اب 1960 اور 70 کی دہائی کے اس مقبول گانے کا ایک اور ورژن سامنے آیا ہے، جس میں سندھی لوک فنکار جگر جلال اسے منفرد انداز میں گاتے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘کوکو کورینا’ کے قتل عام کی اجازت کس نے دی؟

جگر جلال سندھ کے معروف لوک فنکار مرحوم جلال چانڈیو کے شاگرد ہیں جو کئی لوک گانے گا چکے ہیں، تاہم انہیں اور ان جیسے دیگر ساتھیوں کو اپنے مرحوم استاد جیسی شہرت تاحال حاصل نہیں ہوسکی۔

جگر جلال معروف گلوکار جلال چانڈیو کے شاگرد ہیں—فوٹو: فیس بک
جگر جلال معروف گلوکار جلال چانڈیو کے شاگرد ہیں—فوٹو: فیس بک

تاہم اب انہوں نے ’کوکو کورینا‘ جیسے کلاسک گانے کو اپنے لوک انداز میں گا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اگرچہ جگر جلال بھی اس کلاسک گانے کو احمد رشدی کی طرح نہیں گا سکے، تاہم لوگوؓں کا خیال ہے کہ مرحوم جلال چانڈیو کے شاگرد نے اسے احد رضا میر اور مومنہ مستحسن سے اچھے انداز میں گایا ہے۔

جگر جلال نے نہ جہاں اس کلاسک گانے کی شاعری میں تبدیلی نہیں کی، وہیں انہوں نے گانے میں لوک گانوں کی طرح شاعرانہ بول بھی شامل کیے ہیں۔

گانے کے شروع میں ہی جگر جلال بولتے نظر آتے ہیں کہ جب اس کلاسک گانے کو احد رضا میر اور مومنہ مستحسن گا سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں گا سکتے؟

ساتھ ہی انہوں نے گانا شروع کرنے سے پہلا شعر کہا کہ انہوں نے جنگل اور شہروں میں بھی ڈھونڈا لیکن انہیں کوکو کورینا نہیں ملی۔

اس گانے کو ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ کمپنی ’آج کا ٹی وی‘ کی جانب سے جاری کیا گیا جو اس سے پہلے بھی مزاحیہ اور کامیڈی شارٹ فلمیں، ڈرامے اور گانے ریلیز کر چکی ہے۔

جگر جلال نے اپنے مرحوم استاد کی وفات کے بعد کیریئر کا آغاز کیا، اگرچہ انہیں اپنے استاد کی وجہ سے شہرت ملی، تاہم وہ لوگوں میں اپنے استاد کی طرح مقبول نہیں۔

ان کے استاد جلال چانڈیو کو سندھ میں لوک موسیقی اور لوک گلوکاری کےحوالے سے مستند فنکار کی حیثیت حاصل تھی، وہ سندھ بھر میں یکساں مقبول تھے اور لوگ آج بھی بڑے شوق سے ان کے گانے سنتے ہیں۔

جلال چانڈیو کو سندھ میں پنجاب کے عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی طرح مانا اور سمجھا جاتا ہے، ان کے گانے آج بھی دیہاتوں اور شہروں میں نہ صرف ٹرکوں اور بسوں پر چلتے ہیں، بلکہ کھیتوں میں کام کرنے والے کسان بھی ٹریکٹرز کے ذریعے ان کے گانوں سے محظوظ ہوتے ہیں۔

جلال چانڈیو نے درجنوں ایلبم ریلیز کیے اور انہوں نے بیرون ممالک میں بھی پرفارمنس کی اور کئی ایوارڈ حاصل کیے۔

جلال چانڈیو 17 سال قبل 2001 میں گردوں کے مرض کی وجہ سے چل بسے تھے، ان کا تعلق ضلع نوشہرو فیروز کے چھوٹے سے گاؤں سے تھا۔