اقوام متحدہ نے 9 سال بعد اریٹیریا پر عائد پابندی ختم کردی

15 نومبر 2018

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

اقوام متحدہ نے افریقی ملک اریٹیریا پر 9 سال سے عائد پابندی ختم کردی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے یہ فیصلہ اریٹیریا کے ایتھوپیا سے تاریخی امن معاہدے اور جبوتی سے تعلقات بہتر ہونے کے بعد کیا۔

اس ضمن میں سیکیورٹی کونسل نے متفقہ طور پر برطانوی کونسل کی قراراداد کے مسودے کو اپناتے ہوئے اریٹیریا پر عائد ہتھیاروں، سفری اور منجمد اثاثوں سمیت تمام پابندیاں ختم کردیں۔

مزید پڑھیں : اقوام متحدہ کی عدالت کا امریکا کو ایران سے پابندیاں ہٹانے کا حکم

اریٹیریا اور ایتھوپیا نے امن معاہدے کا فیصلہ خطے میں استحکام لانے کے لیے کیا، دونوں ممالک نے 2 دہائیوں سے جاری دشمنی کا خاتمہ کرتے ہوئے امن معاہدہ کیا اور جبوتی سے دوستانہ تعلقات قائم کیے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے 2009 میں صومالیہ میں الشباب کے جنگجوؤں کی مبینہ حماہیت کرنے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد میں بتایا گیا کہ کوئی جامع ثبوت نہیں ملا کہ اریٹیریا الشباب کی حمایت کرتا ہے‘۔

اس کے ساتھ ہی اعلان کیا گیا کہ اریٹیریا پر عائد تمام پابندیاں ختم کردی گئیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اریٹیریا کی حکومت کی جانب سے سنگین بدعنوانیوں کی اطلاع دی گئی تھی جس کی وجہ سے اریٹیریا کے اکثر شہریوں نے ملک چھوڑدیا ۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا کی ایران پر پابندیاں غیر منصفانہ، نقصان دہ ہیں: اقوام متحدہ

دوسری جانب ایتھوپیا اور صومالیہ کی جانب سے پابندیاں ختم کرنے کی حمایت کی گئی ہے اور گزشتہ 2 ہفتوں سے جاری مذاکرات میں جبوتی سے متعلق تحفظات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی ۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اریٹیریا اور ڈجی بوٹی 2008 سے جاری تنازع کو ختم کریں اور اسمارا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک دہائی قبل ہوئی جھڑپوں میں لاپتا ہونے والے جبوتی کے سپاہیوں سے متعلق اطلاعات جاری کرے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 15 نومبر 2018 کو شائع ہوئی