’خواتین سے جنسی ہراساں ہونے کا ثبوت مانگنا کمزوری ہے‘

27 نومبر 2018

ای میل

کرن جوہر نے ایک ایونٹ کے دوران خواتین کے سپورٹ میں بات کی —فوٹو/ اسکرین شاٹ
کرن جوہر نے ایک ایونٹ کے دوران خواتین کے سپورٹ میں بات کی —فوٹو/ اسکرین شاٹ

بولی وڈ ہدایت کار و اداکار کرن جوہر نے جنسی ہراساں ہونے والے افراد پر بھروسہ نہ کرنے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سوچ کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ایونٹ کے دوران کرن جوہر کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ افراد جنہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا یا کسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جب وہ اپنی کہانی کے ساتھ سامنے آئے تو سب سے پہلے ان سے یہی سوال کیا گیا کہ ان باتوں کا ان کے پاس کیا ثبوت ہے۔

ہدایت کار نے کہا کہ اس سوچ کو تبدیل ہونا چاہیے اور جب کوئی خاتون دنیا کے سامنے آکر اپنی کہانی بیان کررہی ہے تو ثبوت مانگنے کے بجائے لوگوں کو اس کی بات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: جنسی طور پر ہراساں خواتین بھرپور مدد کی مستحق ہیں، ایشوریا رائے

کرن جوہر کے مطابق ’جب میں نے ایسی کہانیاں پڑھیں، ان سے مجھے بےحد تکلیف ہوئی اور مجھے اندازہ ہوا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ کرنا چاہیے، ہر اس خاتون جس کے پاس آواز ہے، اس کی رائے کی عزت کرنی چاہیے، اسے سراہا جانا چاہیے کہ یہ سامنے آئی، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ کے پاس ثبوت نہیں، یہ کمزوری ہے، جب ایک خاتون اس طرح سامنے آئی ہے تو اس پر بھروسہ کریں‘۔

خواتین کے لیے ان کے کام کی جگہ کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ہدایت کار نے کہا کہ ’میری کمپنی میں شروع سے ہی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن اب لوگ اور بھی زیادہ ایکٹو ہوچکے ہیں‘۔

کرن جوہر نے اپنے بچپن کے واقعات کے حوالے سے بتایا کہ ’15 سال کی عمر میں سب کہتے تھے میری آواز کسی لڑکی جیسی ہے، میں نے 3 سال اپنی آواز کو بہتر کرنے کی کلاسز لیں، سب میرا مذاق اڑاتے تھے‘۔

تاہم ہدایت کار نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دونوں بچوں یش اور روہی کی زندگی میں اس طرح کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں بننے دیں گے۔

یاد رہے کہ کرن جوہر جلد اپنی فلم ’تخت‘ کی شوٹنگ شروع کریں گے، جس میں رنویر سنگھ، کرینہ کپور خان، عالیہ بھٹ، جھانوی کپور اور انیل کپور مرکزی کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔