بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کرگئی

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2018

ای میل

یہ مرض ملک بھر میں اب تک 6 ہزار 2 سو افراد کی جان لے چکا ہے—فائل فوٹو
یہ مرض ملک بھر میں اب تک 6 ہزار 2 سو افراد کی جان لے چکا ہے—فائل فوٹو

کوئٹہ: پاکستان کے سب سے کم آبادی والے صوبے بلوچستان میں ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر گئی جس کے باعث لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی چیف ڈاکٹر افضل خان زرقون نے کوئٹہ پریس کلب میں عالمی دن برائے ایڈز کے موقع پر گفتگو کر تے ہوئے بتایا کہ صوبے کی مختلف جیلوں میں قید 71 قیدی ایڈز سے متاثرہ پائے گئے۔

یہ مرض ملک بھر میں اب تک 6 ہزار 2 سو افراد کی جان لے چکا ہے جس میں سے 3 سو 12 اموات صرف بلوچستان میں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایڈز کیسے شکار کرتا ہے اور علامات کیا ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں اس قاتل بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

ڈاکٹر افضل خان زرقون کا مزید کہنا تھا کہ ایک ہزار ایک سو 34 رجسٹر مریضوں میں سے 9 سو 11 مریضوں ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈز کے رجسٹر مریضوں کی تعداد ایک ہزار 33 جبکہ تربت میں 3 سو ایک ایڈز کے مریض پائے گئے۔

مزید پڑھیں: ملک میں ایڈز کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، رپورٹ 3 ہفتے میں طلب

اس کے علاوہ جن علاقوں میں ایڈز سے متاثرہ افراد موجود ہیں ان میں قلعہ سیف اللہ، ژوب، شیرانی، گوادر، لورالائی، لسبیلہ، نوشکی، قلعہ عبداللہ، اور پشین شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ اور تربت میں مجموعی طور پر 4 ہزار 4 سو 4 افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جس میں سے بدقسمتی سے 71 افراد ایڈز کے وائرس سے متاثرہ پائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی وزارت صحت نے کوئٹہ اور تربت میں ایڈز کنٹرول سینٹر قائم کردیے ہیں تاکہ ایڈز کے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایڈز پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'پاکستان میں ایک لاکھ 26 ہزار افراد ایڈز سے متاثر'

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام عوام میں اس مہلک مرض سے متعلق مکمل آگاہی پھیلانے میں ناکام ہوگیا۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی چیف نے مزید کہا کہ جیلوں میں قید ایڈز کے مریض تشویش کا باعث ہیں کیوں کہ قیدی عموماً منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔


یہ خبر 30 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔