فیض احمد فیض قدیر کی لاش دیکھ کر کیا کہتے؟

اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2018

ای میل

فیض احمد فیض پابند سلاسل تھے۔ شب و روز سلاخوں کے پیچھے گزرتے مگر عظیم شاعر کا تخلیقی ذہن کہاں قفس کی پرواہ کرتا ہے۔

دورانِ قید فیض صاحب کے دانت میں درد ہوا، سو انہوں نے دندان ساز کو دانت دکھانے کی عرضی دے دی۔ جواب ملا کہ انتظار کریں، گاڑی کا بندوبست نہیں۔ دانت کا درد کہاں کسی سے برداشت ہوتا ہے۔ فیض صاحب کی بھی فیاضی کا عالم دیکھیے کہ اپنی ذات سے جڑی شہرت، عزت اور مرتبے کے باوجود کہہ دیا کہ ڈسٹرکٹ جیل سے میو ہسپتال لاہور کا فاصلہ زیادہ نہیں لہٰذا تانگے پر ہی یہ مختصر سفر طے کیا جاسکتا ہے۔

ان کی بات مانی گئی اور جیل کے دروازے پر تانگہ آن کھڑا ہوا۔ تانگے کے پیچھے براجمان عظیم انقلابی شاعر فیض احمد فیض کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں بندھی تھیں اور 2 پولیس اہلکار ہمراہ ہوئے۔

تانگے کی تاپوں اور ہتھکڑیوں کی ترنم کے ساتھ فیض صاحب ہسپتال کی طرف رواں دواں تھے۔ تھوڑا آگے چلے تو لوگ عوام کے دکھ درد کو اپنی ‘پہلی سی محبت’ پر برتری دینے والے شاعر کو پہنچان جاتے ہیں۔ اس انقلابی شاعر کو دیکھ کر تانگے کے پیچھے مجمع اکٹھا ہونے لگتا ہے اور فضا میں نعرے بلند ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

لوگوں کا اتنا رش تھا کہ نعروں کی آواز حکومتِ وقت کے کانوں تک کو چبھنے لگی۔ تھرتھلا مچا، پولیس کی بھاری نفری تانگے کی طرف دوڑی۔ فیض صاحب کو میو ہسپتال سے طبی معائنہ کے بغیر ہی فوراً دوبارہ جیل منتقل کرنے کی تیاری ہوگئی۔ دانت کا درد تو کیا ٹھیک ہوتا الٹا تانگے کے ذریعے عوام میں نفرت ابھارنے اور حکومت کے خلاف سازش کرنے کا الزام دھر دیا گیا۔ ہسپتال سے جب جیل لوٹے تو تانگے سے دیکھے گئے ان مناظر کو یاد کرکے فیض صاحب نے اپنی مقبول ترین نظموں میں سے ایک تخلیق کی۔

آج بازار میں پا بہ جولاں چلو

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں

تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں

آج بازار میں پا بہ جولاں چلو

دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو

خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو

راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو

حاکم شہر بھی مجمع عام بھی

تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی

صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے

شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے

دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو

پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو


درد کی کوئی دوا نہیں، بس اضافہ ہی ہوا۔

اس بات کو دہائیاں بیت چکی ہیں، مگر نظم کے اشعار آج بھی تازہ ہیں، ان کا ہر درد آج بھی لفظوں کے پیرہن میں اپنی پیڑھ بتاتا ہے۔

مگر درد و غم کا سلسلہ شاید کہ ابھی تھما نہیں، غربت میں غرق چند انسانی وجودوں کے دکھوں کی متحرک تصاویر گزشتہ روز میں نے اپنی فیس بک وال پر ایک ویڈیو میں دیکھیں۔

ویڈیو میں ایک چنگچی رکشہ ہے اور پچھلی سیٹ پر 2 خواتین اور بیچ میں ایک شخص بیٹھا ہے، آہ و بکا جاری ہے، آنسو رواں ہیں، دیکھنے کو انسانیت کا ایک تازہ تماشا حاضر ہے۔ ویڈیو کی تفصیلات کے مطابق اس شخص کے ہاتھوں میں ایک 10 سالہ بچے کی لاش ہے۔ ناہموار راستے پر چلتے اس چنگجی رکشے پر بچے کی ہلتی ڈلتی لاش ارباب اختیار سے چیخ چیخ کر سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا غریب کی لاش اب ایمبولینس کی بھی حقدار نہیں؟

قدیر نامی اس بچے کے چچازاد بھائی سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ، ‘بچہ ڈسپوزل تالاب میں ڈوب گیا تھا، ہم اسے ہسپتال لے گئے، ڈاکٹروں نے چند منٹوں بعد جواب دے دیا۔ ہم نے انتظامیہ کو ایمبولینس کے لیے درخواست کی مگر انہوں نے کہا کہ اس وقت ایمبولیس کا انتظام نہیں ہے، ہم نے کچھ دیر انتظار کیا اور پھر کرائے پر چنگچی کروا کر بچے کی لاش کو اپنے گاؤں لے گئے۔

اس معاملے پر چانڈکا ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ علی گھانگرو سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ، ’ویڈیو دیکھنے کے بعد میں نے فوراً اس بات کا نوٹس لیا تو معلوم ہوا کہ بچے کو چائلڈ کیئر فاؤنڈیشن میں لایا گیا تھا جو ہماری ہسپتال کی حدود میں تو ضرور واقع ہے لیکن اس کے معاملات ہم سے الگ ہیں، اور بچے کو ایمرجنسی کی صورت وہیں لایا جاتا ہے۔ بعدازاں بچوں کا مزید علاج معالجہ چانڈکا میڈیکل ہسپتال میں ہوتا ہے۔‘ انہوں نے مزید واضح کیا کہ ’ان کی انتظامیہ کو ایمبولینس کا کہا ہی نہیں گیا تھا اور بچے کے ورثا اپنی مرضی سے بچے کی لاش لے گئے۔‘

کیا ہوا اور کیا نہیں، یہ چھپنے والی بات نہیں، آج نہیں تو کل سب کچھ واضح ہوجائے گا ہوا، لیکن جو کچھ اس ویڈیو میں دیکھا وہ بہت دردناک اور بے بسی اور بے حسی دونوں کی تصویر تھی۔

شاید ہم اب ایک ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں کہ جہاں سماج میں اونچے اور نیچے طبقوں میں تقسیم محض بے حس نہیں درندگی کی حد تک خود سے کمزور کا استحصال کرنے کا عادی بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس طرح کی ویڈیوز سے زیادہ فرق بھی نہیں پڑتا۔ ہم نے کمزور طبقے کو مقدر کے کھیل کا پکا کھلاڑی بنا دیا ہے۔ وہ چپ رہتے ہیں کہ چاہے انہیں جتنا ہی کہا جائے کہ، بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔

گزشتہ برس بلاول نے کہا تھا کہ شعبہ صحت اور تعلیم ہماری اہم ترجیہات میں شامل ہیں، دیکھتے ہیں کہ لوگ میٹرو بس اور درختوں کے منصوبے لگانے والوں کا ساتھ دیتے ہیں یا مفت ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والوں کو۔ لیکن یہ کیا بلاول صاحب یہ غمگین کردینے والے مناظر اس شہر کے ہیں جہاں آپ کی والدہ اور نانا مدفون ہیں۔

آخر ایمبولینس کا بندوبست کیوں نہیں تھا؟ یہ دل خراش منظر اس شہر کا ہے جسے پیپلزپارٹی ایک مثالی شہر بنانے کے سپنے دن رات دیکھتی ہے۔ سنا ہے اربوں روپے مختص بھی کیے گئے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے لاڑکانہ کو پیرس بنانے کا خواب دیکھا تھا۔

بلاول صاحب، میں آپ سے مخاطب اس لیے ہوں کہ سندھ کے سیکڑوں ووٹرز نے آپ کے چہرے کو دیکھ کر ووٹ دیا ہے، کیونکہ اکثر انتخابی مہمات میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور آپ کے چہرے قدآمت پوسٹرز پر ہر سوں نظر آتے ہیں، مگر آپ کی جماعت کو اقتدار ملنے کے ساتھ آپ کی اور سابق لیڈران کی تصاویر مختصر ہوتی چلی جاتی ہیں اور دیگر چہرے غالب آتے جاتے ہیں۔

میں سوچتا ہوں کہ گزشتہ روز فیس بک وال پر لاڑکانہ کی جو ویڈیو میں نے دیکھی، اسے اگر فیض صاحب دیکھتے تو کیسی نظم تخلیق کرتے؟ کیا وہ اس درد کو بھی اشعار میں قید کرپاتے؟