پنجاب میں 12 سال بعد بسنت منانے کا اعلان

اپ ڈیٹ 18 دسمبر 2018

ای میل

بسنت کا تہوار پنجاب اور خصوصی طور پر لاہور میں بہت اہتمام کے ساتھ منایا جاتا تھا،سال 2007 میں جس پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔  فائل فوٹو
بسنت کا تہوار پنجاب اور خصوصی طور پر لاہور میں بہت اہتمام کے ساتھ منایا جاتا تھا،سال 2007 میں جس پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ فائل فوٹو

وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے 12 سال بعد نئے شروع ہونے والے سال میں فروری کے دوسرے ہفتے میں بسنت کا تہوار منانے کا اعلان کردیا۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نےکہا کہ لاہور کی سول سوسائٹی اور شہریوں کی طرف سے بسنت کا تہوار منانے کا مطالبہ کیا جارہا تھا، اس بار لاہور کے عوام بسنت ضرور منائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بسنت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ بسنت پر کوئی پابندی نہیں اور اسے قانون کے دائرے میں رہ کر منایا جانا چاہیے۔

وزیر اطلاعات کہنا تھا کہ اصولی فیصلہ ہوگیا ہے کہ بسنت منائی جائے گی،8 یا 10 رکنی کمیٹی ایک ہفتے میں بسنت کے منفی پہلوؤں پر قابو پانے سے متعلق تجاویز دے گی۔

مزید پڑھیں : میری بسنت لوٹا دو!

انہوں نے کہا کہ متعلقہ کمیٹی تجاویز دیں گے اس کے بعد وزیر اعلیٰ کی اس روشنی میں قانون اور ثقافت کے محکمے اس حوالے سے حتمی فیصلہ دیں گے۔

پتنگ بازی کی باقاعدہ اجازت کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اصولی فیصلہ ہوگیا ہے کہ بسنت فروری کے دوسرے ہفتے میں منائی جائے گی اب یہ کیسے ہوگا وہ چند دن میں پتہ چل جائے گا۔

خیال رہے کہ پنجاب بالخصوص لاہور میں موسم بہار کا استقبال بسنت کا تہوار منا کر کیا جاتا تھا، سال کے دوسرے ماہ میں لوگ بسنت تہوار منانے کے لیے خصوصی اہتمام کرتے ہیں، اس موقع پر گلی محلوں کو رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جاتا ہے اور طرح طرح کے پکوان بھی تیار کیے جاتے تھے۔

1990 کی دہائی میں اس تہوار نے خاص رنگ اپنایا اور اب ملٹی نیشنل کمپنیوں، بینکوں وغیرہ نے بھی مہنگے ہوٹلوں میں بسنت تہوار پر پروگرام کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : لاہوری بسنت… ماضی کا قصّہ

2007 میں اس وقت کی حکومت نے دھاتی ڈور پھرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بسنت پر پابندی عائد کرتے ہوئے پتنگ بنانے کو جرم قرار دیا تھا۔

جس کے بعد سے کئی سال سے گلے پر ڈور پھرنے اور دیگر ناخوشگوار واقعات کے باعث پنجاب بھر میں بسنت منانے پر پابندی تھی۔

2016 میں مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت نے پنجاب میں بسنت منانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس میں پتنگ اڑانے پر پابندی تھی۔