8 بچوں کو بیک وقت جنم دینے والی ماں نے اس تجربے پر خاموشی توڑ دی

18 دسمبر 2018

ای میل

— فوٹو بشکریہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ
— فوٹو بشکریہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک وقت میں سب سے زیادہ بچے جنم دینے (جو سب زندہ بھی بچ گئے)کا ریکارڈ کس خاتون کے پاس ہے ؟

اگر نہیں تو جان لیں کہ وہ نادیہ سلیمان نامی ایک امریکی یہودی خاتون ہیں جنھوں نے لگ بھگ 10 سال پہلے 8 بچوں کو بیک وقت جنم دیا اور اب انہوں نے پہلی بار اس تجربے پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔

43 سالہ نادیہ سلیمان جو اب نتالی سلیمان کہلاتی ہیں جبکہ اوکٹو مام کی عرفیت سے بھی جانا جاتا ہے، نے جنوری 2009 میں 6 لڑکوں اور 2 لڑکیوں کو جنم دیا۔

ان کا یہ ریکارڈ شکن حمل آئی وی ایف کے ذریعے ٹھہرایا گیا تھا اور یہ پہلا موقع تھا (بلکہ اب بھی ہے) جب کسی خاتون نے 8 بچوں کو جنم دیا ہو اور وہ سب کے سب زندہ بچ گئے ہوں۔

اس واقعے کو 10 سال مکمل ہونے پر خاتون نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں بات کی جبکہ اپنے دیگر 6 بچوں کے بارے میں بھی بتایا جو کہ آئی وی ایف کے ذریعے ہی پیدا ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ وہ ایک کتاب پر 13 برسوں سے کام کررہی ہیں 'یہی وجہ ہے کہ میں یہ انٹرویو دے رہی ہوں، میں یہ اس وقت سے لکھ رہی ہوں جب میں گریجویٹ اسکول میں تھی'۔

درحقیقت یہ خاتون 14 بچوں کی ماں ہیں جو کہ کیلیفورنیا میں 3 کمروں کے ایک گھر میں رہ رہے ہیں۔

ان کے 8 بچے عمر کے لحاظ سے کم عمر نظر آتے ہیں مگر اپنے دیگر بہن بھائیوں کی طرح کھانا پکانے میں ماں کی مدد کرتے ہیں اور چونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے تو کھانا شفٹوں میں کھایا جاتا ہے۔

حمل کا تجربہ بہت خوفناک تھا

نادیہ سلیمان نے بتایا 'مجھے میرے ڈاکٹر نے گمراہ کیا اور ڈاکٹر Kamrava نے بہت زیادہ تعداد میں ایمبریو امپلانٹ کردیئے'۔

اس واقعے کے بعد اس ڈاکٹر کا امریکا میں ڈاکٹری لائسنس منسوخ کردیا گیا اور اس نے ملک ہی چھوڑ دیا۔

خاتون کے مطابق انہوں نے آئی وی ایف کا سہارا اس لیے لیا کیونکہ قدرتی طور پر ماں بننا ان کے لیے ممکن نہیں تھا مگر انہیں معلوم تھا کہ آخری حمل میں وہ اتنے زیادہ بچے جنم دینے والی ہیں کیونکہ وہ صرف جڑوان بچے چاہتی تھیں۔

وہ بتاتی ہیں 'اس حمل سے میرے جسم پر بہت زیادہ مضر اثرات مرتب ہوئے، پیٹ اتنا پھول گیا کہ پسلیاں ٹوٹ گئیں، جبکہ نفسیاتی اثرات الگ تھے، میں کئی برس تک اپنے پیر میں انگلیوں کی موجودگی محسوس نہیں کرپائی جبکہ میری انگلیاں ہر وقت سن رہتیں'۔

خاتون کا ماضی زیادہ قابل رشک نہیں

نادیہ ایک زمانے میں الکحل کی لت کا شکار تھیں اور بحالی نو کے لیے دو سال بھی گزارے، جبکہ فحش فلموں میں بھی کام کرچکی ہیں، مگر اب وہ اپنے بچوں سے ماضی نہیں چھپاتیں۔

ان کے بقول 'ہم ہر چیز پر بات کرتے ہیں، وہ میرے بارے میں سب جانتے ہیں، ہم مالی طور پر مشکلات کا شکار ہیں مگر خوش ہیں کہ اب ماضی کے آسیب سے آزاد ہیں'۔

خاتون عوامی توجہ سے گھبراتی ہیں

انٹرویو کے دوران نادیہ نے بتایا کہ وہ گزر بسر کے لیے حکومتی معاونت اور بین الاقوامی فوٹوشوٹس پر انحصار کرتی ہیں مگر پھر یہ بھی اصرار کیا ' میں توجہ نہیں چاہتی'۔

یہ توجہ انہیں ریکارڈ بریکنگ حمل کے بعد حاصل ہوئی تھی۔