قندھار میں خود کش حملہ، کالعدم بی ایل اے کا اہم کمانڈر ہلاک

27 دسمبر 2018

ای میل

رپورٹس کے مطابق دھماکا قندھار کے ایک پوش علاقے اینو مینا میں گھر میں ہوا—فائل فوٹو
رپورٹس کے مطابق دھماکا قندھار کے ایک پوش علاقے اینو مینا میں گھر میں ہوا—فائل فوٹو

کوئٹہ: افغانستان کے شہر قندھار میں خودکش حملے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اہم رہنما اور کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ اسلم بلوچ عرف اچھو اپنے 5 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔

رپورٹس کے مطابق خودکش دھماکا قندھار کے ایک پوش علاقے اینو مینا میں گھر میں ہوا، جہاں کالعدم بی ایل اے کے رہنما ملاقات کے لیے جمع تھے۔

اس حوالے سے بی ایل اے کے ترجمان جیند بلوچ نے اسلم اچھو کی 5 دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ہلاکت کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں: کراچی: چینی قونصلیٹ پر کس طرح حملے کی کوشش کی گئی؟

نامعلوم مقام سے جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسلم بلوچ عرف اچھو بی ایل اے کے دیگر 5 اہم رہنماؤں کے ساتھ حملے میں ہلاک ہوگئے‘۔

انہوں نے 5 ہلاک عسکریت پسندوں کی شناخت سنگت سردارو عرف تاجو، کریم مری عرف رحیم بلوچ، سنگت اختر بلوچ عرف رستم، فرید بلوچ اور صادق بلوچ کے نام سے کی۔

واضح رہے کہ حکام کا ماننا ہے کہ اسلم اچھو کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، اس کے علاوہ رواں سال ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں بس پر ہونے والے خود کش حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش ناکام، 2 پولیس اہلکار شہید

واضح رہے کہ اس پر دالبندین میں اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب یہ چینی انجینئرز اور دیگر اسٹاف کو سیندک سے کوئٹہ لے کر جارہی تھی۔

دوسری جانب افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق خود کش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد نے اس گھر کو اڑایا جہاں اسلم اچھو اور بی ایل اے کے دیگر رہنما موجود تھے، ابتدائی طور پر دھماکے میں اسلم اچھو زخمی ہوا، جسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ ہلاک ہوگیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ برس بلوچستان کے علاقے بولان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران اسلم اچھو زخمی ہوگیا تھا۔


یہ خبر 27 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی