جعلی اکاؤنٹس کیس: ای سی ایل میں شامل 172 افراد کی فہرست جاری

اپ ڈیٹ 28 دسمبر 2018

ای میل

ای سی ایل میں بڑے بڑے نام شامل ہیں — فوٹو، ڈان نیوز
ای سی ایل میں بڑے بڑے نام شامل ہیں — فوٹو، ڈان نیوز

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت پر جعلی اکاؤنٹس کیس میں 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کردیے گئے ہیں جن کی فہرست جاری کردی گئی ہے۔

ڈان نیوز کو موصول ہونے والی فہرست کے مطابق سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور بھی شامل ہیں۔

ان کے علاوہ جن بڑی شخصیات کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے ان میں موجودہ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سابق وزیرِاعلیٰ قائم علی شاہ اور معروف بزنس مین ملک ریاض کا نام شامل ہے۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کا مقدمہ درج ہوا تو اس کا بھی دفاع کر سکتا ہوں، زرداری

خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیرِاطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وفاقی کابینہ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ قومی خزانے کے ایک ایک روپے کا حساب ہوگا، امید ہے اب آصف علی زرداری جے آئی ٹی کو سنجیدہ لیں گے۔

ای سی ایل میں اومنی گروپ کے جن افراد کا نام شامل کیا گیا ہے ان میں عبدالغنی مجید، علی کمال مجید، انور مجید، خواجہ محمد سلمان یونس، محمد عارف خان، محمد حسن بروہی، مصطفیٰ ذوالقرنین مجید، نزل مجید، نمر مجید اور سید ذیشان علی وارثی شامل ہیں۔

مذکورہ فہرست میں سمت بینک کے سربراہ حسین لوائی کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کردیا گیا ہے، جبکہ ان کے علاوہ سابقہ اور موجودہ بیوروکریٹس اور تاجروں کے نام بھی ای سی ایل میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: 107 اکاؤنٹس سے 54 ارب کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف

آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری اپنے والد، بھائی اور پھوپھی کے حق میں بول پڑیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ایک 'منتخب شدہ حکومت' نے میرے والد، بھائی اور پھوپھی کا نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، ہمارے خلاف یہ ہتھکنڈے نہیں چلیں گے۔

ایک اور پیغام میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن کو ڈرا دھمکا کر اور دباؤ میں لا کر حکومت اپنے غیرقانونی مینڈیٹ کو چھپا نہیں سکتی۔

بختاور بھٹو زرداری نے موجودہ اراکینِ پارلیمنٹ کو جنرل (ر) پرویز مشرف کی باقیات قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں بھی ہمارے خاندان نے رسوائی کے مقابلے میں موت کو قبول کیا۔

انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم لڑیں گے اور ہم جیتیں گے'۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹیڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: سرکاری اداروں کو ناکارہ بنا کر کوڑیوں کے دام خریدا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہت فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں 3 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں حسین لوائی اور عبدالغنی مجید سے سے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تفتیش کی تھی۔

جعلی بنک اکاؤنٹس ایف آئی اے رپورٹ

قبل ازیں عدالت میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جعلی بینک اکاؤنٹ کیس سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اومنی گروپ نے قرض کے لیے 75 لاکھ 25 ہزار 5 سو 36 چینی کی بوریوں کی گارنٹی دی تھی، تاہم تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ شوگر ملوں میں صرف 8 لاکھ 35 ہزار 8 سو 89 بوریاں موجود ہیں جبکہ 66 لاکھ 92 ہزار 9 سو 46 بوریاں غائب ہیں، ان بوریوں کے غائب ہونے کی وجہ سے بینکوں کی ساڑھے 11ارب روپے کی گارنٹی کا نقصان ہوا۔

مزید پڑھیں : جعلی اکاؤنٹس کیس: ’334 افراد، 210 کمپنیاں مشکوک ٹرانزیکشنز میں ملوث‘

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، متعلقہ بینکوں اور اومنی گروپ سے بھی ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے۔

عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق بینکوں اور اومنی گروپ کی انتظامیہ سمیت شوگر ایجنٹس کے بیان ریکارڈ کیے جائیں گے جبکہ مذکورہ معاملے سے متعلق مزید ریکارڈ کا جائزہ لے کر پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ 21 دسمبر کو بینکنگ کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت میں 7 جنوری 2019 تک توسیع کردی تھی۔