معاشرے اور خود کو امن و سکون دینا چاہتے ہیں تو یہ کام کیجیے

04 جنوری 2019

ای میل

زندگی سے کسے پیار نہیں؟ اکثر یہ پیار اور محبت اس قدر غالب ہوجاتی ہے کہ نہ کرنے والے کام ہم کرجاتے ہیں اور جنہیں کرنا لازم ہے، کسی نقصان کے اندیشے کے سبب وہ چھوڑ دیتے ہیں۔ زندگی سے محبت اور پیار سے انکار نہیں، لیکن اس زندگی کے کچھ اصول ہیں، جن پر عمل کرکے ہم خود بھی اپنی زندگی کو بہتر کرسکتے ہیں اور ہم سے جڑے لوگوں کے معاملات بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔

وہ اصول کیا ہیں، آئیے نظر ڈالتے ہیں۔

غلط

کسی غلط کے غلط کو غلط وقت اور غلط جگہ پر غلط انداز سے غلط کہا تو غلط کبھی اپنے غلطی کو غلط نہیں مانے گا اور دنیا بھی غلط کے غلط کو غلط نہیں کہے گی بلکہ تمہارا غلط وقت اور غلط جگہ پر غلط کے غلط کو غلط کہنا اتنا غلط لیا جائے گا کہ غلط کا غلط حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا لہٰذا غلط کے غلط کو غلط ثابت کرنے کے لیے صحیح کی گردان چاہیے یعنی صحیح وقت، صحیح جگہ اور صحیح انداز۔

ناک اور پیٹ

انڈو پاک میں ’ناک‘ کی ضروریات ’پیٹ‘ کی ضروریات سے ’کئی گنا‘ زیادہ ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے عوام کی اکثریت اور حکمران دونوں ہی وسائل کی قدر اور فضول خرچی کے نقصانات کو سمجھ چکے ہیں۔ لہٰذا ’ناک‘ کی ضروریات کم کریں اور ان پر خرچ کریں جو اپنے ’پیٹ‘ کی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

معاشرتی تاوان

اخراجات کی درجہ بندی یوں ہے

  1. ضروریات
  2. سہولیات
  3. تعیشات
  4. نمود و نمائش
  5. معاشرتی تاوان

پہلے 4 درجے تو انسان خود پار کرتا ہے لیکن معاشرتی تاوان وہ رقم ہے جو مشرقی روایات کے نام پر نہایت مہذب طریقے سے ہمارا معاشرہ خود وصول کرتا ہے اور نادہندہ کی سزا یہ ہے کہ معاشرے کے ہاتھوں فرد کی اغوا شدہ عزت نیلام کردی جاتی ہے۔ جدید، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے فضول اور لایعنی روایات سے کچھ اس طرح پیچھا چھڑا چکے ہیں کہ وہاں زندگی سادہ ہے اور فرد کی عزت معاشرے کے پاس گروی نہیں ہوتی۔ اس لیے کوشش یہی کیجیے کہ سادہ طرزِ زندگی اختیار کیجیے، بلاوجہ اپنی عزت کو خطرے میں محسوس نہ کریں اور ایک آزاد انسان کی طرح زندگی گزاریں۔

محبت اور رشتے

محبت رشتوں کی محتاج نہیں لیکن رشتے محبت کے محتاج ضرور ہوتے ہیں۔ محبت رشتوں کی ماں ہوتی ہے یہ نئے رشتوں کو جنم بھی دیتی ہے اور پھر انہیں پروان بھی چڑھاتی ہے۔ انہیں زندہ رکھنے کے لیے ان کے لیے قربان ہوتی ہے کیونکہ محبت رشتوں کی ماں ہوتی ہے جبکہ رشتے بغیر محبت کے دم گھٹ کے مرجاتے ہیں اور چونکہ ان کی تدفین نہیں ہوتی اس لیے وہ بدبو چھوڑ جاتے ہیں جینا دوبھر کردیتے ہیں کیونکہ رشتے محبت کے محتاج ہوتے ہیں۔

تکلیف

تکلیف اٹھانے سے نہ گھبرایا کرو، بغیر تکلیف کے تو انسان جنم بھی نہیں لیتا۔ اب جب تمہارا آغاز تکلیف سے ہے انجام تکلیف پر ہے تو دورانِ زیست تکلیف سے فرار کیسی؟ یہ تکلیف تو زندگی کا وہ لوازمہ ہے کہ جو دنیا اور جنت میں تفریق کرتا ہے اور یہاں جنت تلاشنے والے احمقوں کی کمی نہیں۔

صلاحیت

حضرتِ انسان قدرت کی سب سے منفرد اور عظیم ترین تخلیق ہے اس کی انفرادیت نایاب صلاحیتوں کے اس جوہر میں مضمر ہے جو کسی اور مخلوق کا خاصہ نہیں۔ لہٰذا قدرت کی اس پُر حکمت عطا کو بے مقصد جاننا حماقت، اپنی صلاحیتوں سے ناواقف ہونا جہالت، اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار نہ لانا کفرانِ نعمت اور اپنی صلاحیتوں سے مخلوقات کی فلاح میں حصہ نہ ڈالنا ان کی حق تلفی ہے۔

قیادت

شخصیت پرستی اور انسانوں سے مرعوبیت کے مریض کبھی قائدانہ کردار ادا نہیں کرسکتے۔ اگر قیادت کرنا چاہتے ہو تو

اول: انسانوں کو کامل سمجھنا چھوڑ دو

دوم: اپنی غلطیاں تسلیم کرنا شروع کردو

ہر انسان، خواہ کتنے ہی بڑے قد کا ہو، اپنی سوچ، خیالات، نظریات اور عمل میں کہیں نہ کہیں ضرور غلطی کرتا ہے، اب وہ تم ہو یا کوئی اور۔

مومن کی فراست

ہر تکلیف ہمیشہ زحمت نہیں ہوتی اور ہر خوشی ہمیشہ نعمت نہیں ہوتی۔ قدرت کے حکیمانہ فیصلے ہماری سوچ سے بالاتر ہوتے ہیں البتہ مومن قدرت کی حکمتوں میں کسی حد تک نقب لگا لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرنے کا کہا گیا ہے کیونکہ وہ طبعی علوم کے ساتھ ساتھ مابعدالطبیعیات طاقتوں سے بھی لیس ہوتا ہے جو صرف تقوٰی سے حاصل ہوسکتی ہیں۔

ردِعمل کا انصاف

کائنات کی ہر چیز ردِعمل دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ عمل کوئی بھی ہو، ردِعمل ضرور ہوتا ہے جو عمل اور مفعول کے مطابق ہوتا ہے۔ عمل سے زیادہ شدید ردِعمل ناانصافی کہلاتا ہے۔ بے جان چیزیں تو ہمیشہ انصاف سے ردِعمل دیتی ہیں لیکن جاندار ردِعمل دیتے وقت انصاف سے کام نہیں لیتے۔ اگر ہم ردِعمل کی شدت کو عمل کی شدت تک محدود نہیں رکھ سکتے تو معاف کردینا ہی ہمارے حق میں بہتر ہے۔

ضمیر

ضمیر سے بڑا کوئی عالم نہیں اور جو پھر بھی باعمل نہ بنے اس سے بڑا کوئی جاہل نہیں۔

خواہش

خواہِش چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی خواہش شدید ہوتی ہے۔ ننھی سی خواہش محض اپنی شدت کے بَل پر انسان کا ایمان، اخلاق، کردار، ضمیر اور عزت تک سرِ بازار بیچ ڈالتی ہے۔ چھوٹی بڑی، ہر طرح کی خواہشات پالیے لیکن ان کی شدت کو نکیل ڈال کر۔

راز

راز وہی ہے جو تمہارے سینے میں ہو، بات زبان پر آجائے تو راز نہیں رہتی کہ جب تم خود ضبط سے کام لیتے ہوئے اپنے راز کی حفاظت نہیں کرسکے تو دوسرے کیا خاک کریں گے۔

کسی کا راز فاش کردینا بد ہے لیکن اس افشائے راز کی خبر صاحبِ راز کو نہ کرنا بدترین ہے کہ اس میں خیانت کے ساتھ دھوکہ دہی بھی شامل ہے۔ دھوکہ دہی یوں کہ صاحبِ راز کا طرزِ عمل اس مفروضے پر قائم ہوتا ہے کہ راز محفوظ ہے لیکن درحقیقت وہ عیاں ہوچکا ہے۔ اگر تم خیانت کر ہی بیٹھے ہو تو اخلاقی جرات کا تقاضا یہ ہے کہ صاحبِ راز کو آگاہ کردو تاکہ وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرلے ورنہ انجانے میں تمہاری وجہ سے اس کے طرزِ عمل کی نامعقولیت اسے رسوا کردے گی۔

حد

اچھے اخلاق کی آخری حد یہ ہے کہ لوگ تمہیں شر پہنچانے میں دیدہ دلیری سے کام نہ لیں

اور

بُرے اخلاق کی آخری حد یہ ہے کہ تم لوگوں کو شر پہنچانے میں جرات کرنے لگو۔

تھوڑا زیادہ

زیادہ میں تھوڑا خوش ہونا ناشُکری

اور

زیادہ میں زیادہ خوش ہونا شُکر گزاری

تھوڑے میں زیادہ خوش ہوجانا فقر

اور

کچھ نہ ہونے پر بھی خوش رہنا استغناء

استغناء (یعنی بے نیازی) وہ خدائی صفت ہے جو بہت کم درجہ بھی پائی جائے تو پوری کائنات کو تسخیر کیا جاسکتا ہے

حکمت

عقل کا بلند ترین درجہ حکمت ہے اور یہ تبھی حاصل ہوتی ہے جب عقل کے ساتھ ساتھ گنواروں کی سوچ سے بھی واقفیت ہو۔

بیٹا بیٹی

بیٹے کے فوائد

  • جوان ہوکر کمانے لگتا ہے
  • بڑھاپے میں سہارا بنتا ہے
  • جہیز کی لکشمی کا باعث بنتا ہے
  • اس کے سبب بہو کی شکل میں 24 گھنٹے کی مفت ملازمہ ملتی ہے
  • بہو کے گھرانے بلکہ اس کے پورے خاندان کی اطاعت و فرمانبرداری حاصل ہوجاتی ہے

یہ وہ اغراض ہیں جو بیٹے سے محبت میں مادیت کا عنصر شامل کرکے اسے ناخالص بنا دیتی ہیں

بیٹی کے نقصانات

  • جوان ہوکر کماتی نہیں، کمائے تو سسرال میں خرچ کرتی ہے
  • بڑھاپے میں سہارا بنتی ہے لیکن ساس سسر کا
  • جہیز کی لکشمی کا باعث بننے کی بجائے جہیز لے کر جاتی ہے
  • بیٹی کے سبب کوئی ملازمہ نہیں ملتی بلکہ وہ خود ملازمہ بن کر جاتی ہے
  • بیٹی کی وجہ سے کوئی مطیع نہیں ہوتا بلکہ بیٹی کی وجہ سے داماد کے گھرانے اور خاندان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی پڑتی ہے

ان نقصانات کے باوجود بیٹیوں سے محبت اسے دنیا کا سب سے بے لوث رشتہ بناتی ہے

اے بیٹیوں کو پیدا کرنے والو،

انہیں پالنے پوسنے والو،

انہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے والو،

ان کی تربیت میں دن رات ایک کرنے والو،

زندگی بھر ان کی عصمت کی نگہبانی کرنے والو،

اے بیٹیوں کو بیاہنے والو!

تمہاری عظمت کو سلام،

کہ تم دنیا کے مقدس اور خالص ترین رشتے کے امین ہو

تمہاری عظمت کو سلام

تمہاری عظمت کو سلام