جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری، فریال تالپور کی ضمانت میں 23 جنوری تک توسیع

اپ ڈیٹ 07 جنوری 2019

ای میل

کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت میں 23 جنوری تک کی توسیع کردی۔

بینکنگ عدالت میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی، جہاں ضمانت ختم ہونے پر سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے بیٹے عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت میں ہونے والی مختصر سماعت کے دوران آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے وکلا کی جانب سے ضمانت میں توسیع کی درخواست دی گئی۔

دوران سماعت ملزمان کے وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو حتمی چالان جمع کرانے کا حکم دیا جائے۔

مزید پڑھیں: 'جعلی اکاؤنٹ کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو فیصلہ سمجھ لیا گیا ہے'

اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہمیں سپریم کورٹ نے کارروائی سے روکا ہوا ہے، عدالت عظمیٰ کی اجازت کے بغیر ہم مزید کارروائی نہیں کرسکتے۔

بعد ازاں عدالت نے آصف علی زرداری، فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس میں 23 جنوری تک کی توسیع کردی۔

واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی بینکنگ عدالت میں پیشی کے موقع پر پی پی پی کے ارکان اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر عدالت کے اندر اور باہر اہلکار تعینات تھے۔

دونوں رہنماؤں کی عدالت میں پیشی پر کارکنان جذباتی ہوگئے اور بینکنگ کورٹ میں بدنظمی دیکھنے میں آئی جبکہ پیپلز پارٹی کے کارکنان اور پولیس اہلکاروں میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔

اس دوران عدالت میں دھکم پیل کی صورتحال پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر بختار چنہ نے عدالت کے باہر رینجرز تعینات کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اپنے تحفظات سے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس صورتحال میں کیس کیسے چلا سکتے ہیں؟ عدالت اس صورتحال پر کارروائی کرے۔

بختیار چنہ نے کہا کہ ایف آئی اے دھکم پیل کی صورتحال میں اپنا دفاع کیسے کرے گی، رش اور دھکم پیل کے باعث سیکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر کراچی کی بینکنگ کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں 7 جنوری تک توسیع کی تھی، جس کی مدت آج ختم ہونے پر دونوں رہنما عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

جعلی بینک اکاؤنٹس میں سابق صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور، انور مجید، عبدالغنی مجید، حسین لوائی، حسین لوتھا، ملک ریاض کے داماد زین ملک و دیگر ملزمان نامزد ہیں۔

ملزمان پر جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے تاہم کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے عبوری ضمانت لے رکھی ہے۔

اس کے علاوہ انور مجید کے بیٹے نمر مجید، ذوالقرنین، علی مجید سمیت ملک ریاض کے داماد زین ملک بھی عبوری ضمانت پر ہیں جبکہ انور مجید، عبدالغنی مجید، حسین لوائی، طٰحہ رضا گرفتار ہیں۔

ملک میں دوہرا معیار چل رہا ہے، نفیسہ شاہ

سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی رہنما اور رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ ملک میں دوہرا معیار چل رہا ہے، پاکستان میں 2 قوانین نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے اس امر پر تحفظات کا اظہار کیا کہ اگر جعلی اکاؤنٹس کیس کی جے آئی ٹی خفیہ تھی تو واٹس ایپ پر کیسے آگئی۔

ای سی ایل میں نام ڈالنا سیاستدانوں کی تذلیل ہے، نثار کھوڑو

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنما اور سابق وزیر تعلیم سندھ نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو بلاول ہاؤس نہیں پورے ملک کو سربمہر کرنے کی سفارش کرنی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنا سیاست دانوں کی تذلیل ہے۔

آصف زرداری، فریال تالپور کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد پارٹی کی قیادت سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ضمانت کیوں مسترد ہوگی، ہم بیٹھے ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ ہمارے پاسپورٹ ویسے ہی جمع ہیں، ہم ملک سے باہر سفر نہیں کرسکتے، یہ حکومت کی بدنیتی تھی کہ پاسپورٹ جمع ہونے کے باوجود نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، اگر کوئی پیشی پر نہیں آتا پھر نام ای سی ایل میں شامل کیا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آصف زرداری سے اظہار یکجہتی کے لیے کارکنان یہاں آتے ہیں، ابھی تو ہم نے کارکنان کو روک رکھا ہے۔

رہنما پی پی پی نے انسداد تجاوزات مہم کے حوالے سے کہا کہ عوام سے پوچھیں وفاقی حکومت کی کارکردگی کیسی ہے؟ حکومت اگر عوام کی ہمدرد ہوتی تو پہلے متبادل جگہ فراہم کرتی لیکن جب ہمدردی ہی نہیں ہے تو عوام کو بے گھر ہی کیا جائے گا۔

نواز شریف 2019 کا پورا سال جیل میں نہیں گزاریں گے، منظور وسان

بینکنگ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان کا کہنا تھا کہ 2019 اہم ترین سال ثابت ہوگا۔

منظور وسان کا کہنا تھا کہ سیاست اور معیشت کے لیے یہ سال اہم ہے اور یہ سال آئندہ برسوں کی سمت کا تعین کرے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پورا سال جیل میں نہیں گزاریں گے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے لیے سال 2020 خطرناک ہوگا۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹیڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہت فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کا سیاستدانوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر نظرثانی کا حکم

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں 3 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں حسین لوائی اور عبدالغنی مجید سے سے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تفتیش کی تھی۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں زیر سماعت اس کیس میں جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں سابق صدر آصف علی زرداری سمیت 172 افراد کے نام شامل کیے گئے تھے۔

اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر وفاقی حکومت نے ان 172 افراد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کردیا تھا، تاہم عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ای سی ایل میں نام شامل کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ای سی ایل میں شامل کیے گئے 172 افراد کے ناموں پر نظرثانی کرے۔