جنوبی افریقہ آخری ٹیسٹ میں بھی کامیاب، پاکستان وائٹ واش

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2019

ای میل

پاکستان کو جنوبی افریقہ سے 2013 میں بھی وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا — فوٹو، اے ایف پی
پاکستان کو جنوبی افریقہ سے 2013 میں بھی وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا — فوٹو، اے ایف پی

جوہانسبرگ: پاکستانی بلے بازوں کی کرکٹ کے طویل فارمیٹ میں ناقص بلے بازی کا سلسلہ جاری ہے اور پوری ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے میچ میں متاثر کن کارکردی دکھانے میں ناکام ہوگئی جس کے ساتھ ہی گرین شرٹس کو میزبان ٹیم سے سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔

جنوبی افریقہ کے کوئنٹن ڈی کوک نے دوسری اننگز میں 93 رنز پر 5 کھلاڑیوں کے نقصان کے بعد شاندار سنچری بنا کر پاکستان سے آخری ٹیسٹ میں فتح کا خواب چھین لیا۔

میچ کے ابتدا میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ابتدا میں کپتان جلد ہی پویلین لوٹ گئے، تاہم امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ پاکستانی باؤلز وانڈررز کی تیز وکٹ پر پروٹیز کو قابو کر لیں گے لیکن تجربہ کار ہاشمہ آملہ نے آئیڈن مارکرام کے ساتھ 126 رنز کی شراکت بنا کر ٹیم کو نقصان کے بھنور سے نکالا۔

ہاشم آملہ کے 41 رنز بناکر آؤٹ ہونےکے بعد آئیڈن مارکرام بھی سنچری سے 10 رنز قبل پویلین لوٹ گئے۔

مزید پڑھیں: اے بی ڈویلیئرز پی ایس ایل میچز کیلئے پاکستان آنے کو تیار

بعد ازاں تھیونس ڈی برائن نے ٹیم منیجمٹ کو اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے ہوئے 49 رنز کی اننگز کھیلی اور ان کا ساتھ دیا اپنا پہلا میچ کھیلنے والے زبیر حمزہ نے جنہوں نے 41 رنز اسکور کیے۔

دونوں بلے بازوں نے مل کر ٹیم کے اسکور کو 223 رنز تک پہنچایا، تاہم اس کے بعد پاکستانی باؤلرز نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے پوری جنوبی افریقی ٹیم کو 262 رنز پر ڈھیر کردیا۔

پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز میں فہیم اشرف نے 3 جبکہ محمد عامر، محمد عباس اور حسن علی نے 2،2 وکٹیں حاصل کی، اور ایک وکٹ شاداب خان کے حصے میں آئی۔

پاکستان نے اپنی پہلی اننگز کا انداز جنوبی افریقہ میں جاری سیریز کے دوران اپنائے گئے روایتی انداز میں ہوا اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا، اور پوری ٹیم ڈوان اولیفیر کی پانچ وکٹوں کی بدولت صرف 185 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جس کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ کو 77 رنز کی برتری حاصل ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹ آسٹریلیا کی ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے معذرت

پاکستان کی جانب سے سرفراز احمد نے 50، بابر اعظم نے 49 اور امام الحق نے 43 رنز بنا کر جنوبی افریقی باؤلنگ اٹیک کا سامنا کیا۔

دوسری اننگز میں جنوبی افریقی بلے باز ابتدا میں پاکستانی باؤلنگ کے سامنے نہیں رک پائے اور 93 رنز پر 5 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے، تاہم تجربہ کار ہاشم آملہ نے ٹیم کو سہارات دیا لیکن کوئنٹن ڈی کوک نے 129 رنز کی اننگز کھیل ٹیل اینڈرز کے ساتھ پاکستان کو 381 کا پہاڑ جیسا ہدف دینے میں کامیاب ہوئے۔

اس مرتبہ پاکستان کی جانب سے فہم اشرف، شاداب خان نے 3، 3 جبکہ محمد عباس اور حسن علی نے ایک ایک وکٹ لی اور محمد عامر کے حصے میں بھی 2 وکٹیں آئیں۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کا آغاز اب تک کا سیریز کا بہترین آغاز تھا اور 16 سال بعد پاکستان کی جانب سے 50 رنز کی اوپننگ پارٹنر شپ قائم کی گئی۔

مزید پڑھیں: وزڈن کی سال کی بہترین ٹیسٹ ٹیم میں عباس بھی شامل

تاہم اچھے آغاز کے بعد پاکستانی بلے باز وقفے وقفے سے آؤٹ ہوتے رہے اور پوری ٹیم 273 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی اور جنوبی افریقہ نے میچ 107 رنز سے اپنے نام کرلیا۔

پاکستان کی جانب سے تنقید کے شکار اسد شفیق نے سب سے زیادہ 65 رنز بنائے، جبکہ شاداب خان 47، شان مسعود 37 اور امام الحق 35 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے اولیفیر اور ربادا نے 3، 3 جبکہ ڈیل اسٹین نے 2 وکٹیں حاصل کیں.

کوئنٹن ڈی کوک کو سنچری اسکور کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ سیریز میں 24 وکٹیں لینے پر ڈوان اولیفیر کو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا.

اس جیت کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے وائٹ واش کردیا۔

خیال رہے کہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو جنوبی افریقہ نے 6 وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ دوسرے میچ میں پاکستان کو 9 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا.