سپریم کورٹ: شیخ زاید ہسپتال کا انتظام وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 13 جون 2020

ای میل

وفاقی حکومت ہسپتال بنانے اور چلانے کا اختیار رکھتی ہے—فوٹو بشکریہ فیس بک
وفاقی حکومت ہسپتال بنانے اور چلانے کا اختیار رکھتی ہے—فوٹو بشکریہ فیس بک

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت ہسپتال کی منتقلی کا معاملہ نمٹاتے ہوئے شیخ زاید ہسپتال کا انتظام وفاقی حکو مت کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہسپتالوں کے انتظام کی تحلیل سے متعلق کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کردیا، جس میں بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ شیخ زاید ہسپتال کسی قانونی اقدام کے بغیر صوبے کے حوالے کیا گیا، ہسپتال کی منتقلی کے لیے مطلوبہ قانونی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: جناح ہسپتال کا انتظام وفاق کے پاس رکھنے کا حکم، سندھ حکومت کی درخواست مسترد

فیصلے کے مطابق اس معاملے میں 18ویں آئینی ترمیم کی غلط تشریح کی گئی کیوں کہ وفاقی حکومت ہسپتال بنانے اور چلانے کا اختیار رکھتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کراچی کے 3 ہسپتال اور میوزیم بھی غیرقانونی طور پر صوبائی حکومتوں کے حوالے کئے گئے، چاروں ہسپتالوں اور میوزیم کا انتظام 90 روز میں صوبائی سے وفاقی حکومت کو منتقل کیا جائے اور اگر 90 روز میں منتقلی نہ ہوسکے تو صوبہ وقت میں توسیع کی درخواست دے سکتا ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی حکومت کو بھی حکم دیا گیا کہ متعلقہ ہسپتالوں کے گزشتہ ایک سال کے اخراجات صوبوں کو ادا کیے جائیں، کوئی بھی قانون اس ہسپتال کی وفاق کو واپس منتقلی سے نہیں روک سکتا، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات میں توازن ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت صوبوں میں ہسپتال کیوں نہیں چلاسکتی، چیف جسٹس

بعد ازاں سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے عدالت برخاست کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 20 سال سے زائد اس اعلیٰ عدلیہ میں گزارے ہیں اور کوشش کی کہ قانون اور ضابطے کے اندر رہتے ہوئے فیصلے دوں۔

چیف جسٹس نے اختتامی ریمارکس دیے کہ میں سب کا شکر گزار ہوں یہ میرا آخری کیس تھا۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق سندھ حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جناح ہسپتال کراچی کا کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہی رکھنے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب شیخ زاید ہسپتال کے کیس کی گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ کیا وفاقی حکومت اتنی بے اختیار ہوتی ہے کہ صوبے میں ہسپتال نہیں بنا سکتی، اگر بنا سکتی ہے تو چلا نہیں سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ میں 18ویں آئینی ترمیم پر بحث نہیں ہوئی، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ شیخ زاید ہسپتال تو وفاقی حکومت کو تحفہ دیا گیا تھا جبکہ شیخ زاید ہسپتال کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ابو ظہبی کے حکمران نے اس ہسپتال کو تحفے میں دیا تھا اور اس ہسپتال کے بارے میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت فنڈز مہیا کرے گی۔

حامد خان نے مزید آگاہ کیا تھا کہ 1994 میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ہسپتال کو وفاقی وزارت صحت کے ماتحت کردیا گیا تھا جبکہ ہسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں متحدہ عرب امارات کے حکمران بھی ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت بذریعہ وفاقی حکومت اس ہسپتال کو فنڈ دے رہی ہے تو 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے یہ ادارہ صوبے میں کیسے منتقل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’18ویں ترمیم کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے‘

دوسری جانب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے موقف اپنایا تھا کہ شیخ زاید ہسپتال تو ہمیں منتقل ہو چکا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اگر آئین کے خلاف منتقل ہوا ہے تو پھر تو یہ غیر آئینی ہے، اگر بنیاد غلط ہے تو اس پر ساری تعمیر بھی غلط ہے۔