’گلاب‘ جس کی خوشبو گمنامی کے سفر میں کہیں کھو گئی

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2019

ای میل

’اپنا نام قبر کے کتبوں پر لکھوانے کے بجائے لوگوں کے دلوں پر رقم کریں۔ آپ کی یادیں لوگوں کے ذہنوں اور ان داستانوں میں زندہ رہنی چاہییں جو آپ کے بارے میں لوگ ایک دوسرے کو سنائیں‘: شینن الڈر

1964ء میں اپنے آغاز سے آج تک، پاکستان ٹیلی ویژن نے بہت سے ایسے باصلاحیت فنکاروں کو جنم دیا جن کے بے مثال فنی مظاہروں نے ہمارے دلوں میں ان کے نام نقش کردیے۔

پاکستان کی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب رات 8 تا 9 شہر سنسان ہوجایا کرتے، سڑکوں اور گلیوں میں ہُو کا عالم ہوتا کیونکہ یہ وقت پی ٹی وی اردو ڈراموں کا ہوتا۔ یہ دور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا سنہرا دور تھا، جس میں بننے والے تقریباً تمام ہی ڈراموں کو اگر پاکستانی فنون لطیفہ کا اثاثہ کہا جائے تو یہ ہرگز غلط نہیں ہوگا۔

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے باصلاحیت فنکاروں میں سے ایک نام گلاب چانڈیو کا تھا، جو کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں۔ 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کرنے والے گلاب چانڈیو نے متعدد اردو اور سندھی ڈراموں میں اپنی ورسٹائل اداکاری کے جوہر دکھائے۔ بطور مرکزی کردار ان کے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز سندھی ڈرامہ ’بیو شخصُ سے ہوا جس میں ان کے مقابل سکینہ سموں نے کام کیا۔ گلاب چانڈیو نے ناصرف ٹیلی ویژن بلکہ تھیٹر اور فیچر فلمز میں بھی اپنے فن کا جادو جگایا۔

گلاب چانڈیو نے 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا—اسکرین شاٹ
گلاب چانڈیو نے 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا—اسکرین شاٹ

گلاب چانڈیو کو انکی ماہرانہ اداکاری اور منفرد مکالمہ بازی کی وجہ سے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری میں خاص مقام حاصل رہا۔ ویسے تو انہوں نے اپنے کیرئیر میں چھوٹے بڑے تمام ہی کردار نبھائے، لیکن ان کی مقبولیت منفی کرداروں کی وجہ سے ہوئی۔ ’ماروی‘، ’چاند گرہن‘، ’نوری جام تماچی‘، ’ساگر کا موتی‘، ’غلام گردش‘ اور ’بیوفائیاں‘ وہ معروف ڈرامے تھے جو چانڈیو صاحب کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلم ’دشمن‘ اور ’سرگم‘ میں بھی کام کیا۔ سرگم فلم میں انہوں نے اداکار ندیم، زیبا بختیار اور عدنان سمیع کے مقابل کام کیا۔ ان کی اس فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں 2016ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی ایوارڈ دیا گیا۔

ویسے تو گلاب چانڈیو ہر اداکار کے ساتھ بہترین تعلق قائم کرلیا کرتے تھے، مگر محمد شفیع کے ساتھ ان کی جوڑی خاص اہمیت رکھتی تھی. معروف ڈرامہ 'چاند گرہن' جاگیردارانہ نظام اور غریب طبقے کے استحصال پر مبنی ایک سیریل تھی جس میں چانڈیو صاحب نے بازارِ حسن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا کردار ادا کیا۔ ان کا کردار منفی نوعیت کا تھا جو لالچی اور موقع پرست انسان ہے۔ چانڈیو صاحب نے اس کردار کو اس خوبی سے نبھایا کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگا۔

ایک اور ڈرامہ سیریل نوری جام تماچی میں انہوں نے جابر جاگیردار کا کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے میں بھی ان کی اداکاری کمال کی تھی۔ ایک اچھے فنکار کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ اس کا ادا کیا کردار ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھر دے اور چانڈیو صاحب اس فن میں کمال یکتا تھے۔

گلاب چانڈیو اپنے بیٹے کے ہمراہ—تصویر انسٹاگرام
گلاب چانڈیو اپنے بیٹے کے ہمراہ—تصویر انسٹاگرام

گلاب چانڈیو کا تعلق نوابشاہ سے تھا۔ 1976ء میں تلاش معاش انہیں ایک مختصر عرصہ کے لیے کراچی لے آئی۔ لیکن کچھ عرصہ کراچی میں قسمت آزمائی کے بعد وہ واپس نوابشاہ آگئے۔

غلاب چانڈیو کا ان کا تعلق ان افراد سے تھا جو 70ء کی دہائی کے آخر میں ہونے والی سیاسی کشمکش کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ نوابشاہ پہنچ کر انہوں نے سیاسی ایکٹوازم میں حصہ لیا اور بھٹو حکومت کی برطرفی اور مارشل لا کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے۔ اسی دوران کچھ عرصہ جیل کی ہوا بھی کھائی۔

لیکن نواب شاہ واپسی کے کچھ عرصہ بعد ہی طبیعت دوبارہ کراچی کی جانب مائل ہوئی، لیکن اس بار انہوں نے کچھ اور کرنے کے بجائے اداکاری کے شعبہ میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، اور سچ کہیے تو کیا خوب فیصلہ کیا۔ اگر وہ یہ فیصلہ نہ کرتے تو آج شاید پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری فن کے خوبصورت جوہر سے محروم ہی رہ جاتی۔

یہ شاید 70ء کی دہائی کی سیاسی کشمکش ہی وہ محرکات تھے جس کے نتیجے میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی اور نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے۔

اگرچہ ان کے بقول سیاست اور شوبز میں زیادہ فرق نہیں تھا، مگر پھر بھی جتنا نام انہوں نے اداکاری کے شعبے میں کمایا تھا سیاست میں وہ مقام حاصل نہیں کرسکے۔ بہرحال اپنے دل میں غریب طبقہ کے لیے بہتری کی خواہش نے ان کے دل میں سیاست کا جوش ختم نہ ہونے دیا۔ سال 2016ء میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی اور باوجود اپنی گرتی ہوئی صحت کے انہوں نے عمران خان کی قیادت میں آزادی مارچ میں حصہ بھی لیا۔

70ء کی دہائی میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی—اسکرین شاٹ
70ء کی دہائی میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی—اسکرین شاٹ

گلاب چانڈیو نے نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے—اسکرین شاٹ
گلاب چانڈیو نے نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے—اسکرین شاٹ

گلاب چانڈیو ایک قد آور شخصیت اور فن کے حامل انسان تھے۔ ایک اداکار کو اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے اور عام طور پر وہ جس قسم کے کردار زیادہ ادا کرتا ہے اسی کے مطابق شائقین اس کی شخصیت کو حقیقی زندگی میں بھی فرض کرلیتے ہیں۔ چانڈیو صاحب کے حوالے سے بھی لوگوں کا کچھ ایسا ہی تاثر تھا کہ جیسے وہ کوئی منفی اور ولن ٹائپ انسان ہیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ انتہائی منکسر المزاج اور انسان دوست شخصیت تھے۔ وہ ان کرداروں سے بالکل مختلف انسان تھے جو ان کی پہچان بنے۔

گلاب چانڈیو کا ان کا شمار انڈسٹری کے ان ناموں میں ہوتا تھا جو اپنے ساتھیوں اور جونئیرز کی مدد اور حمایت کے لیے ہر وقت موجود ہوتے تھے۔ ان کا فنی سفر، ان کی جدوجہد اور ان کی شخصیت ان تمام نئے آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو شوبز میں اپنا نام کمانا چاہتے ہیں۔

لیکن تلخ حقیقت ایک یہ بھی ہے کہ شوبز کی دنیا بھی عجب نرالی دنیا ہے۔ یہاں چڑھتے سورج کو سلام کیا جاتا ہے اور جو فنکار بدلتے رجحانات کے مطابق خود کو ڈھال نہ سکے، نظر اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق انہیں کچھ اس طرح فراموش کردیا جاتا ہے جیسے ان کا کوئی وجود ہے ہی نہیں۔

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا یہ انمول ستارہ طویل علالت کے بعد دل شکستگی اور گمنامی کی حالت میں 61 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملا اور اپنے پیچھے چھوڑ گیا اپنے فن کی وہ لازوال یادیں جو تا حشر ان کے چاہنے والوں کے دل میں تازہ رہیں گی۔