’بھارت کو امن کے جواب میں امن اور گولی کا جواب گولی سے دیں گے‘

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2019

ای میل

کرتار پور راہداری پر بھارت کا ردعمل کو بچگانہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ  — فوٹو :ڈان نیوز
کرتار پور راہداری پر بھارت کا ردعمل کو بچگانہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ — فوٹو :ڈان نیوز

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستان کی جانب سے کرتار پور راہداری پر مذاکرات کی دعوت پر بھارت کے ردعمل کو بچگانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا جواب سنجیدہ ہوگا۔

دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت کو امن کے جواب میں امن اور گولی کے بدلے گولی سے جواب دیں گے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری کھولنے کے لیے 21 جنوری کو بھیجے گئے مسودے میں بھارت کو جامع پلان بھیجا اور وفد پاکستان بھیجنے کو کہا جس پر بھارت نے جواب میں پاکستانی وفد کو نئی دہلی بلالیا اور اس کے لیے 2 تاریخوں کا تعین کردیا، بھارت کا یہ رویہ بچگانہ ہے۔

مزید پڑھیں: کرتارپور راہداری معاہدہ: حکومت پاکستان مسودہ بھارت کو بھیج چکی، دفتر خارجہ

خیال رہے کہ چند روز قبل وزارت خارجہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نومبر 2019 میں باباگرونانک کے 550 ویں سال گرہ کے موقع پر کرتارپور راہداری کو کھولنے کے وزیراعظم عمران خان کے وعدے کی روشنی میں حکومت پاکستان نے معاہدے کا مسودہ اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کے ذریعے پہنچایا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان نے کرتارپور معاہدے کے مسودے کے حوالے سے جنوبی ایشیا اور سارک کے ڈائریکٹر جنرل کو اپنا فوکل پرسن مقرر کیا اور بھارتی حکومت سے بھی اس معاملے پر اپنا فوکل پرسن مقرر کرنے کی درخواست کی۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ حکومت پاکستان نے بھارتی حکومت کو معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک وفد کو ہنگامی بنیادوں پر اسلام آباد بھیجنے کی دعوت دی۔

جس پر بھارت نے پاکستان کے اقدام کا جواب دینے کے بجائے کرتار پور معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستانی وفد کو نئی دہلی آنے کی دعوت دے دی اور ملاقات کے لیے 26 فروری اور 7 مارچ کی تاریخوں کی تجویز بھی دی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ کے دوران ملک میں داعش کی موجودگی سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ’کرتارپور راہداری کامطلب یہ نہیں کہ پاک بھارت مذاکرات شروع ہوں گے‘

ڈاکٹر محمد فیصل نے بریفنگ کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے اس بات کی ایک مرتبہ پھر نشاندہی کی کہ آسیہ بی بی کے بیرون ملک سفر پر کوئی پابندی عائد نہیں۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امن عمل سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان اور قطر ضروری مدد فراہم کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوحا میں پاکستان نے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان جاری بات چیت میں سہولت فراہم کی ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ افغانستان میں امن سے متعلق پاکستان کا موقف یہی رہا ہے کہ افغانستان اورپورے خطے میں امن و استحکام سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔