آسٹریلیا میں گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2019

ای میل

گرمی نے 1939 کا ریکارڈ توڑ دیا—فائل فوٹو اے ایف پی
گرمی نے 1939 کا ریکارڈ توڑ دیا—فائل فوٹو اے ایف پی

ایڈیلیڈ: جنوبی آسٹریلیا میں درجہ حرارت نے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے اور گرمی کی شدت 49 ڈگری تک جاپہنچی۔

بیورو آف میٹرولوجی نے رپورٹ کیا کہ ایڈیلیڈ کے شمال میں 49.5 سیلسیس (120 فارن ہائیٹ) جبکہ شہر کے اندر درجہ حرارت 47.7 سیلسیس تک پہنچ گیا، جس نے 1939 میں بننے والے گرمی کے ریکارڈ کو توڑ دیا۔

اس کے علاوہ جنوبی آسٹریلیا کے 13 سے زیادہ ٹاؤنز میں بھی گرمی کے مختلف ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں سردی، آسٹریلیا میں گرمی نے گاڑی میں رکھا گوشت گلا دیا

قبل ازیں آسٹریلیا کے محکمہ صحت نے رپورٹ کیا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 44 افراد کو گرمی سے متعلق بیماریوں کے لیے ہنگامی امداد فراہم کی گئی۔

اسٹیٹ ایمرجنسی سروسز کی جانب سے ٹوئٹ کی گئی کہ ’ اپنے بزرگ دوستوں، رشتے داروں، پڑوسیوں اور جو بیمار ہیں ان پر نظر رکھیں‘۔

گرمی کے باعث پارک لینڈ کے علاقوں میں سیکڑوں چمکادڑیں درختوں سے گرگئیں، جس نے محکمہ صحت کی انتظامیہ کو بھی عوامی انتباہ جاری کرنے پر مجبور کردیا۔

وسطی آسٹریلیا کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پانی کی ایک خشک جگہ کے قریب 90 گھوڑوں کے مردہ یا مردار حالت میں پانے کے بعد 50 جنگلی گوڑوں کو مجبوراً پھینکنا پڑا۔

دوسری جانب خشک میدان میں درجنوں مردہ گھوڑوں کی حیران کردینے والی تصاویر بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرتی نظر آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہر چند ماہ بعد موسم کیوں بدلتا ہے؟

مقامی نمائندہ تنظیم کے ڈائریکٹر سینٹرل لینڈ کونسل ڈیوڈ روس نے ایک بیان میں کہا کہ ’موسمیاتی تبدیلی کا پورا اثر ہم پر ہوا ہے، ہم امید کر رہے ہیں کہ درجہ حرارت میں اضافے سے اس طرح کی ایمرجنسیز ہوسکتی ہیں تاہم صحیح طریقے سے کوئی تیار نہیں کہ گرم موسم کو معتدل کرنے کے لیے وسائل کا کس طرح سے استعمال کیا جاسکے‘۔

موسمی صورتحال کے باعث 13 سے زائد اضلاع میں ممکنہ بش فائر کے خطرے کے پیش نظر ایمرجنسی سروسز الرٹ ہیں جبکہ تسمانیہ کی ریاست میں حکام کی جانب سے مکمل طور پر آگ لگانے پر پابندی کے احکامات بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

بڑھتا ہوا درجہ حرارت گزشتہ ہفتے کی گرمی کی لہر کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے آسٹریلیا کے علاقے زمین پر گرم ترین مقامات بن گئے تھے۔


یہ خبر 25 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی