بلوچستان: ڈی آئی جی کمپلیکس پر حملہ، پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2019

ای میل

پولیس کے مطابق حملے میں 5 افراد زخمی ہوئے — فائل فوٹو
پولیس کے مطابق حملے میں 5 افراد زخمی ہوئے — فائل فوٹو

بلوچستان کے شہر لورالائی میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس کمپلیکس پر خود کش حملہ آوروں کی فائرنگ اور دھماکے کے نتیجے میں اہلکاروں اور ایک شہری سمیت 9 افراد شہید اور 21 افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس کی جانب سے جاری ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘ڈسٹرکٹ لورالائی اے ایریا میں واقع ڈی آئی جی پولیس کمپلیکس میں نائب قاصد کی خالی اسامیوں پر بھرتی کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو کے دوران 2 نامعلوم خود کش حملہ آوروں نے مرکزی گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں پر ہینڈ گرینیڈ پھینکا اور فائرنگ کی جبکہ خود کو دھماکے سے اڑا دیا’۔

رپورٹ کے مطابق ‘حملے کے نتیجے میں 9 افراد شہید ہوئے اور 9 پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہوئے’۔

حملے میں جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال لورالائی منتقل کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: لورالائی میں ایف سی ٹریننگ سینٹر پر حملہ، 4 اہلکار شہید

بلوچستان پولیس کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق شہید ہونے والوں میں ‘ہیڈ کانسٹیبل صادق علی، ہیڈ کانسٹیبل جاوید، کانسٹیبل غلام محمد اور ملازمین امیر زمان، محمد نواز، سلطان مسیح، صلاح الدین، خالق داد اور قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نعمت اللہ جلالزئی’ شامل ہیں۔

پولیس نے ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ ‘لورالائی پولیس تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ خود کش حملہ آوروں کے جسمانی اعضا جائے وقوع پر بکھرے پڑے ہیں’۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کمپاؤنڈ میں 800 امیدوار موجود تھے جن میں سے 21 زخمی ہوئے جن میں 12 پولیس اہلکار اور 9 امیدوار شامل ہیں۔

قبل ازیں پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ 4 ملزمان نے لورالائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر حملے کے دوران پہلے فائرنگ کی جبکہ اس دوران کریکر دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔

ابتدائی اطلاعات میں ذرائع نے بتایا تھا کہ حملے میں 9 پولیس اہلکار اور 6 شہری زخمی ہوئے جنہیں ریسکیو عملے نے فوری طور پر سول ہسپتال لورالائی منتقل کیا۔

سول ہسپتال میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) لورالائی ڈاکٹر فہیم کا کہنا تھا کہ 9 پولیس اہلکاروں سمیت 15 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا تھا جن میں سے 2 شہریوں کو تشویش ناک حالت میں کمبائن ملٹری ہسپتال لورا لائی منتقل کردیا گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت ڈی آئی جی کے دفتر میں پولیس میں بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ لیے جارہے تھے، جس کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد یہاں موجود تھی۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ نے ابتدائی طور پر واقعے میں 4 پولیس اہلکاروں اور ایک شہری کے شہید ہونے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ علاقے کو کلیئر کرانے کے لیے آپریشن کیا گیا۔

یاد رہے کہ یکم جنوری 2019 کو بلوچستان کے ضلع لورالائی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ٹریننگ سینٹر میں رہائشی اور انتظامی کمپاؤنڈ پر حملے کی کوشش کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے نتیجے میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔