اسرائیل نے عالمی مانیٹرنگ گروپ کو کام سے روک دیا، ترکی کی مذمت

03 فروری, 2019

ای میل

ترکی نے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کردیا — فائل فوٹو
ترکی نے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کردیا — فائل فوٹو

استنبول: ترکی نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقے ہیبرون میں کام کرنے والے بین الاقوامی مانیٹرنگ گروپ کو کام کی مزید اجازت نہ دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ نے ایک جاری بیان میں کہا کہ 'ہم اسرائیل کی جانب سے ہیبرون میں ٹیمپریری انٹر نیشنل پریزینس (ٹی آئی پی ایچ) کے کام میں روکاوٹ ڈالنے کے غیر دانشمندانہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس سیاسی فیصلے کو تبدیل کیا جانا چاہیے'۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ٹی آئی پی ایچ نامی بین الاقوامی نگرانی کا ادارہ فلسطین میں خون ریزی کے بعد 1994 میں قائم کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: درجنوں فلسطینیوں کا قتل: ترکی نے اسرائیلی سفیر کو ملک سے جانے کا کہہ دیا

گزشتہ پیر کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ مذکورہ گروپ کو 'متعصبانہ' رویے کے باعث مزید کام کی اجازت نہیں دیں گے، دوسری جانب ترکی نے اسرائیلی وزیراعظم دعوؤں کی تردید کی تھی۔

اسرائیلی اقدام کے بعد جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کے ترجمان عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ 'ہم ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ٹی آئی پی ایچ اسرائیل کے خلاف کام کررہی ہے، اس الزام کو اسرائیل نے اپنے فیصلے کے جواز کے لیے پیش کیا'۔

انہوں نے اسرائیلی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں خلاف قانون اور قابل مذمت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسرائیل کا یہ اقدام بتا رہا ہے کہ وہ خطے میں مزید جارحیت اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے' اور ساتھ ہی انہوں عالمی برداری کو ہیبرون کی صورت حال کے حوالے سے خبردار بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی اور اسرائیل کے تعلقات بحال، پارلیمنٹ نے منظوری دے دی

واضح رہے کہ ہیبرون میں فلسطینوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ناروے کی ٹیم کی سربراہی میں ترکی کے نگران یہاں موجود ہیں، یہ علاقہ دونوں مسلمانوں اور صہیونی، دونوں کے لیے، اہم ہے جبکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع میں اس کردار اہم ہے۔

علاوہ ازیں فلسطینی اور یورپی حکام نے بھی اسرائیل کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ور انہیں مسترد کردیا۔


یہ رپورٹ 3 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی