نواز شریف کا علاجِ قلب کیلئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جانے سے انکار

اپ ڈیٹ 07 فروری 2019

ای میل

میڈیکل بورڈ نے قلب کے علاج کے لیے نوازشریف کو پی آئی سی منتقل کرنے کی تجویز دی تھی—فوٹو بزشکریہ فیس بک نواز شریف
میڈیکل بورڈ نے قلب کے علاج کے لیے نوازشریف کو پی آئی سی منتقل کرنے کی تجویز دی تھی—فوٹو بزشکریہ فیس بک نواز شریف

لاہور: سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مزید علاج کے لیے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل ہونے سے انکار کرتے ہوئے واپس کوٹ لکھپت جیل جانے پر اصرار کردیا۔

ایک عہدیدار کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’پی آئی سی میں بھی میرا علاج ہوچکا ہے اور میں دوبارہ وہاں جانا نہیں چاہتا، اس سے بہتر ہے کہ مجھے واپس جیل بھیج دیا جائے‘۔

اس حوالے سے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار کا کہنا تھا کہ نواز شریف یہی بات کہہ رہے تھے کہ انہوں نے واپس جیل جانے کے لیے اپنا سامان باندھ لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کا معائنہ کرنے کے لیے تشکیل دیے جانے والے سروسز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے انہیں قلب کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے باعث امراضِ قلب کے طبی مرکز منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔

بورڈ کے سربراہ نے کہا تھا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں موجود امراضِ قلب کے کسی بھی خصوصی ہسپتال میں ممکن ہے۔

سروسز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا تھا کہ ’سروسز ہسپتال میں ہم نے نوازشریف کا معائنہ کیا جس کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد میڈیکل بورڈ نے متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا کہ نوازشریف کو دل کے علاج کی ضرورت ہے اور اس لیے انہیں امرضِ قلب ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: میڈیکل بورڈ کی نوازشریف کو امراضِ قلب کے ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز

ان کے مطابق نواز شریف کو پہلے ہونے والے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور گردوں میں پتھری کی بیماری کی وجہ سے دل کے مسائل لاحق ہیں۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو پیش کردی، نواز شریف کی جانب سے پی آئی سی جانے سے انکار پر محکمہ داخلہ نے محکمہ صحت سے تجاویز طلب کرلیں جس کے بعد اب ڈاکٹر کا پینل ان سے ملاقات کر کے پی آئی سی جانے سے انکار کی وجوہات کے بارے میں دریافت کرے گا۔

ادھر نواز شریف کی جانب سے پی آئی سی جانے سے انکار کی وجوہات بتاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کو ایسے ہسپتال بھیجا ہی کیوں گیا جو ڈاکٹروں کے پینل کے تشخیص کردہ مرض سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، امراض قلب میں مبتلا ایک شخص کو ایسے ہسپتال بھیجا گیا جہاں اس کا علاج ہی نہیں ہوتا‘۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیکل ٹیسٹ میں نواز شریف کے گردے میں پتھری کی نشاندہی

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کا علاج ڈاکٹروں کے پینل اور طبی ماہرین کی تشخیص اور تجاویز پر کیا جارہا ہے نہ کہ کسی کی خواہش پر، چناچہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی لاپروائی کے سبب ان کی صحت کو کچھ ہوا تو پاکستانی عوام اور نواز شریف کے چاہنے والے سڑکوں پر ہوں گے۔

مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ’متنازع وزیراعظم نے اخلاقی اقدار اور انسانیت کو پسِ پردہ رکھتے ہوئے پنجاب میں اپنی کٹھ پتلیوں کی مدد سے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے گمراہ کن مہم چلائی‘۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نواز شریف کے خلاف بدعنوانی ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی اس لیے بدقسمتی سے ان کی صحت کو نشانہ بنا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کا طبی معائنہ، ای سی جی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار

خیال رہے کہ ڈاکٹرمحمود ایاز نے بتایا تھا کہ ’بورڈ کی تشخیص کے مطابق، نوازشریف کے دل کی شریانوں میں خون کے بہاؤ میں کچھ مسائل ہیں جنہیں لازمی معالجِ قلب کو دکھانا ضروری ہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ دل کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے رابطہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم کو تیسرے میڈیکل بورڈ کی تجویز پر کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کی گیا تھا، جو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں 7 سال کی قید بھگت رہے ہیں۔


یہ خبر 7 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔