بلوچستان: ’28 لاپتہ افراد واپس آگئے ہیں‘

اپ ڈیٹ 07 فروری 2019

ای میل

حکومت نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، وزیر داخلہ بلوچستان — فائل فوٹو
حکومت نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، وزیر داخلہ بلوچستان — فائل فوٹو

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرانے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ خان لانگو نے بتایا ہے کہ 28 لاپتہ افراد اپنے گھر لوٹ گئے ہیں۔

ضیاءاللہ لانگو نے لاپتہ افراد مہر، گل مری اور ظفراللہ کے اہلخانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنا وعدہ نبھایا ہے اور عرصے سے لاپتہ 28 افراد اپنے گھر کو لوٹ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ اور دیگر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وزیر داخلہ ضیا لانگو سے گزشتہ ماہ ملاقات کی تھی، اس ملاقات میں لاپتہ افراد کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔

مزید پڑھیں: لاپتہ افراد کمیشن نے 3 ہزار 492 کیسز نمٹا دیئے، جسٹس (ر)جاوید اقبال

وی بی ایم پی کی قیادت نے حکومت کو لاپتہ افراد کی بحالی کے لیے 2 ماہ کا وقت دیتے ہوئے اپنے احتجاجی کیمپ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم ماما قدیر نے مزید افراد کو حراست میں لیے جانے پر احتجاجی کیمپ چند روز بعد ہی دوبارہ کھول دیا تھا۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے جارہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کچھ نہیں کررہی، سردار اختر مینگل

ان کا کہنا تھا کہ وی بی ایم پی نے 110 افراد کی فہرست حکومت کے حوالے کی تھی۔

ملاقات میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ حالیہ مہینوں میں 250 لاپتہ افراد اپنے گھر کو لوٹ گئے ہیں جبکہ ان میں وہ افراد بھی شامہ ہیں جنہیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ میں نے اس عہدے کا قلم دان ہی اس لیے اٹھایا تھا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر بلوچستان کے عوام کو ریلیف دے سکوں۔

اس موقع پر انہوں نے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو یقین دہانی کرائی کہ مزید لاپتہ افراد جلد گھر پہنچ جائیں گے۔

ضیااللہ خان لانگو کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ جام کمال کی قیادت میں بننے والی اتحادی حکومت اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں جس پر عمل در آمد کے لیے کوشاں ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 7 فروری 2019 کو شائع ہوئی