افغان معاہدے میں پاکستان کے مفادات کا خیال رکھیں گے، امریکی جنرل

اپ ڈیٹ 08 فروری 2019

ای میل

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ووٹل نے دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کی پاکستانی کوششوں کو سراہا— فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ووٹل نے دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کی پاکستانی کوششوں کو سراہا— فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان تنازع کے حل کے سلسلے میں مستقبل میں افغانستان میں کسی بھی قسم کا معاہدہ ہونے کی صورت میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

رواں ہفتے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں جنرل جوزف ووٹل نے مزید کہا کہ امریکی فوج کی جنوبی ایشیا میں حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ افغانستان میں مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں پاکستان کے ’مفادات‘ کو تسلیم اور ان کا خیال رکھا جائے۔

مزید پڑھیں: افغان امن عمل کے دوران اشرف غنی اپنے اختیارات کی واپسی کے خواہشمند

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کی سیکیورٹی معاونت ختم کیے جانے کے باوجود پاکستان اور امریکا کے درمیان ’چند فوجی تعاون کی سرگرمیاں‘ جاری ہیں۔

جوزف ووٹل کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات میں امریکی محکمہ خارجہ میں موجود لوگوں کی حمایت بھی شامل ہے کیونکہ یہ افغانستان میں تنازع کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ مل کر سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ مستقبل میں کسی بھی معاہدے میں پاکستان کے مفادات کو تسلیم اور ان کا خیال رکھا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان، امریکا سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے کہ اس جنگ کے اختتام پر کابل کو خصوصاً بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، ساتھ ہی امریکی ماہرین کا یہ دعویٰ ہے کہ اسی خدشے کے پیش نظر پاکستان نے طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کیے ہیں۔

البتہ جنرل ووٹل نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے جس کی وجہ صرف افغان تنازع نہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکا نے افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے یکم مئی تک نصف امریکی فوجی چلے جائیں گے، طالبان کا دعویٰ

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان، امریکا کے لیے ہمیشہ ایک اہم ملک رہے گا کیونکہ یہ جوہری ہتھیار کی حامل ایک ایسی ریاست ہے جو روس، چین، بھارت، ایران سے منسلک اور امریکا کے جیو پولیٹیکل مفادات کی حامل ہے'۔

امریکی جنرل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے انعقاد میں پاکستانی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔

انہوں نے افغانستان کو خطے میں خود مختار ریاست بنانے کو امریکی حکمت عملی کا اہم جزور قرار دیتے ہوئےکہا کہ میرے اندازے کے مطابق پاکستان نے اس مقصد کے حصول کے لیے زیادہ مددگار اور تعمیری کردار ادا کیا۔

خیال رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل ووٹل پاکستان اور افغانستان میں امریکا کے فوجی اور انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیں جنوبی ایشیا میں ہماری حکمت عملی کو عملی جامع پہنانے کے لیے درپیش چیلنجز اور مواقع کے بارے میں آگاہ کیا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی شکایت کی کہ پاکستان کے اقدامات افغانستان میں امریکا کی علاقائی کوششوں میں ’اکثر تناؤ‘ کا سبب بنتے تھے۔

مزید پڑھیں: ’افغان اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات ہونے تک کابل میں امن نہیں ہوسکتا‘

جنرل ووٹل نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں مفاہمت کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی معاونت کے لیے مثبت اقدامات کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات میں معاونت کی۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے مفاہمتی عمل میں مدد نہ کرنے والے طالبان رہنماؤں کو گرفتار یا ملک بدر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس یا ناقابل تنسیخ اقدامات بھی نہیں کیے۔


یہ خبر 8 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔