موڈیز نے پاکستانی بینکوں کے درجے کو مستحکم سے منفی کردیا

اپ ڈیٹ 11 فروری 2019

ای میل

بینکوں کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہوجائے گا، موڈیز — فائل فوٹو
بینکوں کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہوجائے گا، موڈیز — فائل فوٹو

عالمی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس نے درجہ بندی میں پاکستانی بینکوں کی درجہ بندی کو کم کرتے ہوئے اس مستحکم سے منفی کردیا۔

موڈیز کے سینئر نائب صدر کونسٹنٹینوز کیپریوس کا کہنا تھا کہ آئندہ 12سے 18 ماہ تک پاکستان میں کام کرنے والے بینکوں کو پاکستان میں سست رفتار سے چلنے والی معیشت اور حکومتی قرضوں کی وجہ سے اپنی پروفائل میں چیلنجز کا سامنا رہے گا۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر جون 2019 تک پاکستان کی شرح نمو 43.3 فیصد تک رہے گی جس کی وجہ سے بینکوں کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: مالی خسارہ دور کرنے کے لیے منی بجٹ کے مجوزہ اقدامات ناکافی قرار

خیال رہے کہ جون 2018 تک پاکستان کی شرح نمو 5.8 فیصد تک تھی جو اب کم ہوکر 4.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

موڈیز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسی دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ دسمبر 2017 سے لے کر اب تک شرح سود میں بھی 450 بیسز پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس میں کاروبار اور صارفین کا اعتماد اور نجی شعبے کی قرض ادا کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔

موڈیز کی جانب سے یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسے کریڈٹ پروفائل پر منحصر کرنے والی بھاری حکومتی سیکیورٹیز کے دباؤ اور حکام کی جانب سے بینکوں کی مدد کی صلاحیت میں کمی کے خطرات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موڈیز کا پاکستانی معیشت کے مستحکم ہونے کا عندیہ

سنیئر نائب صدر کونسٹنٹینوز کیپریوس کا کہنا تھا کہ یہاں ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ بینکوں کو رقوم جمع کروانے والے مستحکم صارفین کی وجہ سے فائدہ پہنچے گا۔

موڈیز نے پاکستان کے 5 بڑے بینکوں کا جائزہ لیا ہے جن میں تقریباً 50 فیصد تک رقوم جمع ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت کے ضمنی بجٹ کے بعد موڈیز کی جانب سے امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ منی بجٹ میں اخراجات میں کمی اور آمدنی میں اضافہ کرنے میں ناکامی کے باعث ملک کا مالی خسارہ رواں سال کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔