ٹیچنگ ہسپتال کے ہاسٹل میں 19 سالہ طالبہ کا ریپ

16 فروری 2019

ای میل

متاثرہ لڑکی کے والد کے مطابق ملزم اس سے قبل بھی متعدد لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنا چکا ہے — فوٹو: شٹر اسٹاک
متاثرہ لڑکی کے والد کے مطابق ملزم اس سے قبل بھی متعدد لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنا چکا ہے — فوٹو: شٹر اسٹاک

صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں گورنمنٹ عزیز بھٹی شہید ٹیچنگ ہسپتال کے ہاسٹل میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ کے چوکیدار نے 19 سالہ طالبہ کا ریپ کردیا۔

واقعے کے بعد 19 سالہ طالبہ کو تشویشناک حالت میں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

گجرات میں تھانہ سول لائن نے ٹیچنگ ہسپتال کی قائم مقام پرنسپل شہناز اختر کی رپورٹ پر واقعے میں ملوث ملزم 30 سالہ چوکیدار محمد آصف کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

مزید پڑھیں: لاہور: بیمار بچے کی ماں کا ہسپتال میں ریپ

خیال رہے کہ قائم مقام پرنسپل کی جانب سے اعلیٰ حکام کو واقعے سے آگاہ کرنے کے بعد مقدمے کا اندراج کرایا گیا۔

بعد ازاں ٹیچنگ ہسپتال انتظامیہ نے چوکیدار کو معطل کرنیکا دعویٰ کیا جبکہ واقعے میں ملوث چوکیدار فرار ہوگیا جس کی گرفتاری کے لیے پولیس نے ٹیمیں تشکیل دے دیں۔

دوسری جانب واقعے کے بعد ہاسٹل میں زیر تعلیم 200 سے زائد نرسنگ طالبات خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

متاثرہ طالبہ کے والد نے الزام لگایا کہ پہلے بھی چوکیدار کئی طالبات کے ساتھ زیادتی کرچکا ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ 'ہمیں انصاف فراہم کیا جائے'۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: سروسز ہسپتال کے ملازمین کے خلاف ریپ کا مقدمہ

بعد ازاں میڈیکل رپورٹ میں طالبہ کے ساتھ ریپ کی تصدیق کردی گئی۔

اس سے قبل جنوری 2019 میں لاہور کے میو ہسپتال میں کم سن بیٹے کے علاج کی غرض سے آنے والی ماں کا ہسپتال ملازم کی جناب سے ریپ کا واقعہ سامنے آیا تھا۔