پنجاب میں معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے نفاذ کا اعلان

اپ ڈیٹ 17 فروری 2019

ای میل

پنجاب حکومت نے حکم دیا کہ 28 فروری تک پبلک انفارمیشن آفیسر تعینات کیا جائے— فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
پنجاب حکومت نے حکم دیا کہ 28 فروری تک پبلک انفارمیشن آفیسر تعینات کیا جائے— فائل فوٹو: اسکرین شاٹ

لاہور: پنجاب حکومت نے سرکاری اداروں میں لاقانونیت اور غلط کاموں کو روکنے کے لیے شفافیت اور معلومات تک رسائی کے ایکٹ 2013 کا اطلاق کرتے ہوئے تمام محکموں کو چیف پبلک انفارمیشن افسر کی فوری تعیناتی کا حکم دے دیا۔

ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کا اطلاق کرتے ہوئے تمام محکموں کو حکم دیا گیا ہے کہ 28 فروری تک پبلک انفارمیشن آفیسر تعینات کیا جائے۔

مزید پڑھیں: ٹیچنگ ہسپتال کے ہاسٹل میں 19 سالہ طالبہ کا ریپ

اس حکم نامے کے تحت حکومت نے تمام محکموں کو مطلع کیا ہے کہ ان کی جانب سے پبلک انفارمیشن کمیشن سے رابطے کے لیے چیف پبلک انفرمیشن آفیسر کو اطلاع دیں، ہر محکمہ کم از کم ایک پبلک انفارمیشن آفیسر کو اطلاع دے گا، پبلک انفارمیشن کمیشن کے ذریعے ان کی تربیت کا انتظام کرے گا اور ان کی ذمے داریوں کی انجام دہی کے لیے درکار تمام سہولیات بھی فراہم کرے گا۔

چیف سیکریٹری آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے والے پبلک انفارمیشن کمیشن کے سیمینار میں ان افسران سے خطاب کریں گے۔

اس حکم نامے کے تحت تمام محکموں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ لوگوں کی جانب سے پوچھی گئی معلومات کی فراہمی ان کی ذمے داری ہے۔

اس ہدایت نامے کے ساتھ تمام محکموں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ جولائی 2017 سے جون 2018 کے درمیان اس ایکٹ پر عملدرآمد کے حوالے سے سالانہ رپورٹ تیار کر کے جمع کرائیں، یہ رپورٹس پبلک انفارمیشن کمیشن کو بھیجی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر حملے پر ریمارکس، نوجوت سنگھ سدھو 'کپل شرما شو' کا حصہ نہیں رہے؟

دوسری جانب چیف سیکریٹری یوسف نسیم کھوکھر نے صوبے بھر میں پنجاب ٹرانسپیرنسی اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے مکمل نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب کے چیف انفارمیشن کمشنر محبوب قادر کے ہمراہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تمام انتظامی سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ درج بالا احکامات کی پیروی کریں۔