کمسن بیٹی پر تشدد کا الزام، جوڑا گرفتار

اپ ڈیٹ 19 فروری 2019

ای میل

بچی کے جسم پر جلنے کے نشانات واضح تھے — اے ایف پی/فائل فوٹو
بچی کے جسم پر جلنے کے نشانات واضح تھے — اے ایف پی/فائل فوٹو

لاہور: سمن آباد پولیس نے جوڑے کو اپنی 10 سالہ بیٹی کو چھوٹی چھوٹی غلطیاں کرنے پر تشدد کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

ملزم شیخ ندیم اور ان کی اہلیہ عائشہ کم سن بچی مناہل کے جسم کو پانی گرم کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی بجلی کی راڈ سے جلایا کرتے تھے۔

پولیس کی جانب سے بچی کو بھی بازیاب کرایا گیا جس کے جسم پر جلنے کے نشانات واضح تھے۔

مزید پڑھیں: 'شوہر کے جنسی اور ذہنی تشدد نے مجھے پاگل کردیا تھا'

پولیس نے بچی کو مقامی ہسپتال منتقل کردیا جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی رپورٹ میں بچی پر ہونے والے ظلم کی تصدیق کی۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ خاندان کے پڑوسیوں نے بچی کے چیخ و پکار کی آوازیں سنیں اور فوری طور پر گھر گئے جہاں انہوں نے عائشہ کو بچی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مناہل ان کی سوتیلی بیٹی ہے اور جب انہوں نے عائشہ کو بچی پر تشدد کرتے دیکھا تو فوراً پولیس کو بلایا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور : 11 سالہ ملازمہ پر تشدد میں ملوث میاں بیوی گرفتار

پولیس نے گھر سے لڑکی، جس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے، کو بازیاب کرایا اور ہسپتال منتقل کردیا۔

کم سن بچی نے پولیس کو بتایا کہ اس کی سوتیلی ماں اور والد چھوٹے چھوٹے گھریلو مسائل پر اس کے جسم کو جلاتے تھے۔

پڑوسی اُسامہ صغیر نے پولیس کا بتایا کہ مذکورہ جوڑا بچی پر گزشتہ 2 ہفتوں سے تشدد کر رہا ہے۔

سمن آباد تھانے نے اسامہ صغیر کی درخواست پر دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے مزید کارروائی کے لیے کیس کو تفتیشی پولیس افسر کے حوالے کردیا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 19 فروری 2019 کو شائع ہوئی