خوش قسمتی اور بد قسمتی سے بھرپور نواز شریف کی سیاسی زندگی

اپ ڈیٹ 20 فروری 2019

ای میل

نواز شریف کے کیریئر میں چند بڑے ہی دلچسپ موڑ شامل ہیں اور 3 عناصر ایسےہیں جنہوں نے نوازشریف کےزوال میں اہم کردار ادا کیا— خاکہ: عمارہ سکندر
نواز شریف کے کیریئر میں چند بڑے ہی دلچسپ موڑ شامل ہیں اور 3 عناصر ایسےہیں جنہوں نے نوازشریف کےزوال میں اہم کردار ادا کیا— خاکہ: عمارہ سکندر

مالی وسائل سے بھرپور وہ کون سا شخص ہے جو کرپشن کے الزام کا سامنا کرنے تقریباً روز ہی عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے؟

وہ ہے میاں محمد نواز شریف، پاکستان کی واحد ایسی شخصیت جو 3 مرتبہ وزیرِاعظم اور 2 بار سب سے بڑے صوبے کے وزیرِاعلیٰ کے طور پر منتخب ہوئی۔

وہ پاکستان کے ایسے واحد وزیرِاعظم ہیں کہ جنہیں 1993ء میں صدر نے برطرف کیا تو سپریم کورٹ نے صدر کے اس فیصلے کو ایک طرف رکھ کر انہیں بحال کردیا۔ ملک میں ان سے زیادہ اور کوئی سیاستدان اتنا خوش قسمت نہیں رہا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں کوئی سیاستدان ان سے زیادہ بدقسمت بھی نہیں رہا ہے کیونکہ انہیں تینوں مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، 2 بار نااہل قرار دیا گیا، کم و بیش ایک دہائی کے لیے ملک بدری پر مجبور کیا گیا اور متعدد قید کی سزائیں سنائی گئیں، جن میں سے ایک تو عمر قید کی سزا بھی ہے۔

گزشتہ 17 ماہ کے عرصے میں، سپریم کورٹ نے انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا اور یوں وہ وزیرِاعظم بننے سے بھی روک دیے گئے۔ اس کے علاوہ احتساب عدالت نے انہیں لندن میں مہنگی جائیداد کی ملکیت رکھنے پر 10 سال قید بامشقت کی سزا کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا۔

2000ء کی دہائی میں سعودی عرب میں ان کے خاندان کی جانب سے قائم کی جانے والی اسٹیل مل سے متعلقہ ایک دوسرے مقدمے میں ان پر 7 سال جیل اور 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ نواز شریف کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹی اور داماد پر بھی فرد جرم عائد کیا گیا اور سزائیں بھی سنائی گئیں۔

جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد ان کی جماعت پنجاب میں مسلسل 10 سالہ حکمرانی سے قائم ہونے والی گرفت کھو چکی ہے۔ انہیں اب بھی ایک تحقیقات کا سامنا ہے اور ممکن ہے کہ اس میں بھی وہ مجرم قرار پائیں اور انہیں ایک بار پھر سزا سنا دی جائے۔ ان کے بھائی اور 3 بار پنجاب کے وزیرِاعلیٰ رہنے والے شہباز شریف کو بھی کرپشن کے مختلف مقدمات کا سامنا ہے ٹھیک اسی طرح ان کے دیگر قریبی خاندان کے افراد اور ان کے وفاداروں کو بھی مقدمات کا سامنا ہے۔

یہ سب کیسے ہوا؟

یہ ایک طویل کہانی ہے اور نواز شریف کے کیریئر میں چند بڑے ہی دلچسپ موڑ شامل ہیں۔ ہمیں یہ پتہ لگانا ہوگا کہ آخر کیوں انہیں ان قوتوں نے تنہا چھوڑ دیا جنہوں نے ان کی تقریباً 2 دہائیوں تک سرپرستی کی تھی اور کس طرح عدلیہ کی نظر میں وہ اچھے راستے سے ناپسندیدہ راستے پر چلنے لگے؟

نواز شریف کے زوال میں 3 عناصر فیصلہ کن کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

  • پہلا، تمام اختیارات سے لیس ایک حقیقی وزیرِاعظم بننے کی خواہش۔
  • دوسرا، ان کے کردار میں شامل تند و تیزی کا عنصر جس نے انہیں رسک کا اندازہ لگائے بغیر سخت اقدامات اٹھانے کی طرف مائل کیا۔
  • تیسرا، وہ اس بات کا احساس ہی نہیں کر پائے کہ کوئی بھی شخص ایک ہی وقت میں لوگوں کا منتخب نگران اور غلط طریقوں سے پیسے بنانے والا نہیں ہوسکتا۔

ان کے کیریئر میں ایک ستم ظریفانہ موڑ بھی آیا، کہنے کا مطلب یہ کہ انہون نے ایک بے ضرر اور معصوم سیاستدان کے طور پر عروج کو چھوا لیکن جب یہ نظر آیا کہ وہ ایک ایسے طاقتور سیاستدان بن چکے ہیں جنہیں کوئی ہرا نہیں سکتا تبھی وہ زوال پذیر ہوئے۔

نوجوان نواز شریف کے پاس جب مفت کے پیسوں کی کوئی کمی نہیں تھی تب انہوں نے ایئر مارشل (ریٹائرڈ) اصغر خان کی پارٹی تحریک استقلال کے سائے تلے سیاست سے معاشقہ شروع کیا۔ ان کے پاس کوئی سفارش نہیں تھی ماسوائے ان پیسوں کے جو اطلاعات کے مطابق ان کے سیاسی کیریئر میں سرمایہ کاری کے لیے ان کے والد نے ایک طرف رکھے تھے اور سود مندانہ انداز میں خرچ کیے گئے۔

ان کا سیاسی عروج 3 فوجی جنرلوں کے مرہون منت ہے۔ گورنر پنجاب اور سابق آئی ایس آئی چیف جنرل غلام جیلانی نے 1981ء میں نواز شریف کو صوبائی حکومت میں وزیرِ خزانہ بنا کر ایک موقعہ فراہم کیا جس کی انہیں شدید ضرورت تھی اور پھر انہیں 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات کے بعد پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ نامزد کردیا گیا۔

جنرل ضیا الحق نے نواز شریف کو صوبے کی معیشت میں بے تحاشا پیسے ڈال کر معاشرے کی اسلامائزینگ (Islamising) کرنے کے اپنے باہمی مقصد کے محافظ کے طور پر پنجاب کو محفوظ کرنے کے لیے چنا۔

جبکہ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل جنرل حمید گل نے 1988ء میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے قیام میں مدد کے ذریعے نواز شریف کی مدد کی۔ آئی جے آئی زیادہ تر دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) مخالف اتحاد تھا۔ جب پیپلزپارٹی آئی جے آئی سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستیں جینتے میں کامیاب ہوگئی تو حمید گل نے یہ یقینی بنایا کہ نواز شریف کا پنجاب میں بطور وزیرِاعلیٰ اثرو رسوخ قائم رہے تاکہ مرکز میں قائم بے نظیر بھٹو کی حکومت کو قابو میں رکھا جاسکے۔

نواز شریف کو یہ سب یاد رہا اور 1990ء میں جب وہ وزیرِاعظم بنے تو انہوں نے ضیا کے مشن کی تکیمل کو اپنا مقصد قرار دیا۔ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ معاملات طے کرکے اپنا عہدہ حاصل کیا تھا، مگر ضیا کیمپ کے ایک جنگجو کے طور پر وہ نواز شریف کے لیے بھی نرم گوشہ رکھتے تھے۔

تاہم وہ خود بھی کچھ زیادہ ہی بڑی خواہشات رکھتے تھے۔ نواز شریف کو صدر کے اضافی اختیارات پسند نہیں تھے۔ وہ آئین کی شق 58 ٹو (بی) کو بھی ختم کروانا چاہتے تھے جس کے تحت صدر کے پاس قومی اسمبلی کی تحلیل کا اختیار ہوتا تھا، لیکن صدر اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ وزیرِاعظم چاہتے تھے کہ مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتی میں ان کی رائے شامل ہو، لیکن صدر نے جنرل عبدالوحید کاکڑ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کرکے نواز شریف کو حیرت میں ڈال دیا۔ نواز شریف نے ان کے فیصلے سے بہتر فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے کردار میں تند تیزی کا عنصر پیدا کیا۔ قوم سے خطاب میں انہوں نے صدر پر سازش کا الزام لگایا۔ جس کے بعد صدر نے اگلے ہی دن قومی اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے انہیں برطرف کردیا۔ لیکن سپریم کورٹ نے صدر کے حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور اب تک کا واحد فیصلہ ہے۔ نواز شریف نے دوبارہ اقتدار حاصل کرلیا لیکن صدر کے حمایت یافتہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ کو راستے سے ہٹانے میں ناکامی کی وجہ سے آرمی چیف کو صدر اور وزیر اعظم دونوں کو گھر جانے کے احکامات دینے کی ترغیب ملی۔

نواز شریف نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ 1997ء میں جب وہ پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے سب سے پہلے 58 ٹو (بی) کو ختم کیا۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے نامزد کردہ اور پھر انہی کو ہٹانے والے صدر فاروق لغاری کو اطلاع دینا بھی گوارا نہیں کیا۔ اس کے بعد وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو زیر کرنے میں کامیاب ہوئے اور ان کے پارٹی کارکن اعلیٰ عدلیہ میں ہنگامہ برپا کرنے میں ذرا بھی پیچھے نہیں رہے۔ بعدازاں صدر کو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔ 1998ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو کچھ دنوں بعد نواز شریف نے ہندوستان سے زیادہ ایٹمی دھماکے کرکے لوگوں کے دل جیت لیے۔

آخر میں جب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جہانگیر کرامت نے جب نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کی تو نواز شریف نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایک بار پھر تند و تیزی کا مظاہرہ کیا، حالانکہ نواز شریف کے استاد ضیاالحق اس کونسل کی بار بار وکالت کیا کرتے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی برطرفی کے بیچ 12 اکتوبر 1999ء کو اس وقت بوئے جب انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹا کر ڈرامے کو ایک بار پھر دہرانے کی کوشش کی۔

نواز شریف نے نہ صرف اپنا عہدہ کھویا بلکہ انہیں طیارہ اغوا کیس میں عمر قید بھی سنائی گئی لیکن ان کی خوش نصیبی تھی کہ ان کی سزا منسوخ ہوگئی اور وہ سعودی بادشاہ کے مہمان بن گئے۔ 2008ء میں ان کی واپسی سے فوج کو کوئی پریشانی نہیں تھی بلکہ ان کی پارٹی سے الگ ہونے والے ایک دھڑے کی حمایت ختم کرکے ایک طرح سے ان کی مدد کی گئی۔ 2013ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی، مگر وہ مکمل طور پر بااختیار نہیں تھے۔ لیکن جب انہوں نے ایک حقیقی وزیرِاعظم بننے کی مسلسل کوشش کی تو ان کے ایک عرصے سے سرپرست رہنے والوں نے انہیں تنہا چھوڑ دیا۔

اپنی ابتدائی زندگی میں نواز شریف نے صرف وہی پیسے خرچ کیے جو ان کے والد، ان کے چچا اور ان کے چھوٹے بھائی نے کمائے تھے۔ اقتدار میں آںے کے بعد انہیں پیسے بنانے میں کوئی تکلیف پیش نہیں آئی، کیونکہ پیسہ ان کے ساتھی کاروباری شخصیات اور دیگر بشمول اسٹیبلشمنٹ میں شامل ان کے سرپرستوں کی جانب سے اکٹھا کیا جا رہا تھا۔ مالی وسائل پر دھیان دیے بغیر پیسے بنانے میں حرج محسوس نہیں ہوا لیکن انہوں نے 2 بڑی اہم غلطیاں کردیں۔ پہلی، وہ یہ بھول بیٹھے کہ ایک سیاستدان کی کوئی نجی زندگی نہیں ہوتی اور وہ کچھ بھی عوام سے چھپا نہیں سکتے۔ دوسری، انہوں نے خود کو مشکل سے نکالنے کے لیے وکلا سے مدد مانگی نہ کہ اس میں پھنسنے سے روکنے کے لیے۔

جب پانامہ لیکس کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف پٹیشن منظور کرلی تو انہیں اس پر بڑی حیرانی ہوئی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ وکلا تحریک کے لیے پیش کی گئی اپنی حمایت، مشرف کی جانب سے برطرف کیے جانے والے ججز کے کیس کو حل کرنے میں سستی دکھانے پر پیپلزپارٹی سے اتحاد ختم کرنے اور ججز بحالی کے سلسلے میں 2009ء کے لانگ مارچ میں اپنے کردار کی وجہ سے ایسے فیصلے کا خیال دل و دماغ سے نکال چکے تھے۔ لیکن جیسے ہی مقدمے کا آغا ہوا ویسے ہی آگے کی ساری صورتحال واضح ہوگئی۔

نواز شریف کے اقتدار میں ابتدائی دنوں کے دوران دانشور طبقہ ان کی یاداشت یا پھر ان کی توجہ کی کمی کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ جب وہ ملک بدر تھے، تب کئی لوگوں نے سوچا کہ آیا وہ کوئی سبق سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں۔

جی ہاں وہ سیکھ رہے تھے۔ اس کا پہلا اشارہ اس وقت نظر آیا جب انہوں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، پاکستان میں جمہوریت کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے یہ ایک بہت ہی اہم معاہدہ تھا۔ جس کے بعد ان کی جماعت نے 18ویں ترمیم کے مسودے کو مرتب اور منظور کرنے میں مدد فراہم کی، بالخصوص اس لیے کہ اختیارات صوبوں کو منتقل کیے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ آئین میں سے فوجی حکومتوں اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کی جانب سے شامل کردہ بے قاعدگیوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔

تاہم انہوں نے ماضی کی چند تند تیز خاصیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔ 2008ء میں حکمران اتحاد سے علیحدہ ہونے کے چند ماہ بعد انہوں نے ججز بحالی کے سلسلے میں اپنے لانگ مارچ کے ذریعے ایک منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرتے ہوئے میثاق جمہوریت کے ایک اہم اصول کو ترک کردیا۔ آگے چل کر انہوں نے عدلیہ اور ججز کے ذریعے پیپلزپارٹی کی انتظامیہ کے اختیارات اور قانونی حیثیت کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی۔

تاہم بطورِ وزیرِاعظم اپنی تیسرے دورہ حکومت میں نواز شریف نے ایک بلوچ اکثریتی جماعت، نیشنل پارٹی کو بلوچستان میں حکومت قائم کرنے کا موقع دے کر اور خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک پاکستان کی حکومت میں رکاوٹ نہ بن کر اچھی خاصی سیاسی فراست کا مظاہرہ کیا۔ تاہم اپنی ہی پارٹی کی تنظیم سازی میں عدم دلچسپی اورپارلیمنٹ کو مستحکم بنانے میں ناکامی نے انہیں مشکل حالات سے دوچار کردیا۔

2017 میں جب ان کا زوال ناگزیر نظر آیا تو ان کے کیمپ نے ان کی اس حالت کا ذمہ دار ان کی ہندوستان کے ساتھ پُرامن ہمسایہ تعلقات کی خواہش کو ٹھہرایا۔

اگر یہ کہانی سچ ہے تو یہ سوچ دماغ میں آتی ہے کہ تاریخ انہیں کس نظر سے دیکھے گی۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر ہرالڈ میگزین کے جنوری 2019 کے شمارے میں شائع ہوا۔