العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس: نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد

اپ ڈیٹ 25 فروری 2019

ای میل

سابق وزیراعظم نے طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا کی تھی
— فائل فوٹو/ اے ایف پی
سابق وزیراعظم نے طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا کی تھی — فائل فوٹو/ اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں دی جانے والی سزا کے فیصلے کے خلاف دائر ضمانت کی درخواست کو مسترد کردیا۔

نواز شریف نے طبی بنیادوں پر عدالتی فیصلے کے خلاف ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن کے بینچ نے ضمانت کی درخواست پر محفوظ مختصر فیصلہ سنادیا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مذکورہ درخواست کا تفصیلی فیصلہ کچھ دیر میں جاری کیا جائے گا۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ نواز شریف نے ’مکمل طور پر‘ طبی بنیادوں پر ضمانت کی کوشش کی۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ عدالت کے دائرہ کار میں ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ضمانت پر سزا معطل یا قیدی کی رہائی کرے (آیا اس کا ٹرائل ہو رہا ہو یا وہ مجرم ہو)، تاہم اس طرح کے دائرہ کار کو غیر معمولی حالات میں انتہائی سخت معاملات کے کیسز میں استعمال کیا جانا چاہیے‘۔

عدالتی فیصلے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن سمیت مختلف کیسز کا حوالہ دیا گیا اور اس بات پر بات کی گئی کہ آیا نواز شریف کی حالت کو ’غیر معمولی صورتحال اور انتہائی سخت معاملات میں سے ایک‘ قرار دیا جاسکتا ہے‘۔

واضح رہے کہ شرجیل انعام میمن کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کو مسترد کردیا گیا تھا۔

فیصلے کے مطابق ’ریاست بمقابلہ حاجی کبیر خان کیس میں سپریم کورٹ نے یہ مشاہدہ کیا تھا کہ اگر ملزم ہسپتال یا جیل میں مناسب علاج حاصل کر رہا ہے تو وہ ضمانت کا حق دار نہیں ہوگا‘۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ (نواز شریف کی حالت سے متعلق) کسی رپورٹ میں یہ تجویز نہیں دی گئی کہ درخواست گزار کا مسلسل قید میں رہنما کسی بھی صورت میں ان کی زندگی کے لیے خطرناک ہوگا‘۔

فیصلے کے مطابق ’درخواست گزار (نواز شریف) کو جنوری 2019 سے اب تک جب بھی طبیعت کی ناسازی سے متعلق شکایت ہوئی انہیں ہسپتال میں داخل کروایا گیا، حتیٰ کہ ڈاکٹروں کے بورڈ اور مختلف ٹیموں کی رپورٹ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ درخواست گزار کو پاکستان میں کسی بھی شخص کے لیے دستیاب ممکنہ طبی سہولیات مل رہی ہیں‘۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مذکورہ صورتحال ’غیر معمولی اور/ یا انتہائی مخصوص‘ معاملے میں نہیں آتی جس کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کیا جائے‘۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے اختتام میں کہا گیا کہ یہ ’درخواست میرٹ پر پوری نہیں اترتی‘ اور اسے اس بنیاد پر مسترد کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

بعد ازاں عدالتی فیصلے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جناح ہسپتال میں مزید علاج سے انکار پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر ان کی صاحبزادی مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک شعر ٹوئٹ کیا۔

19 فروری 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال سزا کی معطلی کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن کے بینچ نے وکیل دفاع خواجہ حارث اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے مطابق اب دیگر قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے — فوٹو: ڈان نیوز
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے مطابق اب دیگر قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے — فوٹو: ڈان نیوز

یاد رہے کہ گزشتہ برس 24 دسمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فیلگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا تھا۔

عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں شک کی بنیاد پر بری کردیا تھا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانوں کی سزا بھی سنائی تھی۔

علاوہ ازیں نواز شریف کو عدالت نے 10 سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے سے بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔

مذکورہ فیصلے کے بعد نواز شریف کو گرفتار کرکے پہلے اڈیالہ جیل اور پھر ان ہی کی درخواست پر انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں رواں سال 3 جنوری کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیرِاعظم نواز شریف نے اپنی سزا کی معطلی سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی تفصیلات

28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز اسکینڈل میں سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکینت سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد وہ وزارتِ عظمیٰ سے بھی نااہل ہوگئے تھے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں شریف خاندان کے خلاف نیب کو تحقیقات کا حکم دیا، ساتھ ہی احتساب عدالت کو حکم دیا تھا کہ نیب ریفرنسز کو 6 ماہ میں نمٹایا جائے۔

عدالتی حکم کے مطابق نیب نے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس تیار کیا تھا جبکہ نواز شریف، اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا۔

20 اکتوبر 2017 کو نیب فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر فردِ جرم عائد کی تھی اور ان کے دو صاحبزادوں، حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزم قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ان تینوں ریفرنسز کی سماعت کررہے تھے اور انہوں نے ہی 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف نے ہائی کورٹ میں سزا معطلی کی درخواست دائر کردی

تاہم بعد ازاں شریف فیملی نے جج محمد بشیر پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد دیگر دو ریفرنسز العزیریہ اور فلیگ شپ کی سماعت جج ارشد ملک کو سونپ دی گئی تھی۔

ایون فیلڈ ریفرنس کی بات کی جائے تو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں جنہیں 16 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں اس درخواست پر سماعتوں کے بعد 19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنایا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا تھا۔

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا معاملہ

ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا معطلی کے باوجود العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی طویل سماعت احتساب عدالت میں ہوئی تھی اور 19 دسمبر کو جج ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت کی جانب سے حسن اور حسین نواز کے خلاف دونوں ریفرنسز میں معاملہ سعودی عرب میں العزیزیہ اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ اور برطانیہ میں فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے قیام سے متعلق ہے اور ان ریفرنسز میں احتساب عدالت نے نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 (اے) (فائیو) کے تحت سابق وزیر اعظم پر چارج کیا تھا۔

نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اس کیس کے نتیجے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ کمپنیاں کس طرح اور کس ذرائع سے قائم کی گئیں۔

شریف خاندان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ نواز شریف کے والد مرحوم میاں محمد شریف نے 1974 میں متحدہ عرب امارات میں گلف اسٹیل ملز (جی ایس ایم) قائم کی۔

درخواست کے مطابق 1978 میں گلف اسٹیل ملز کے 75 فیصد شیئرز عبداللہ خید اہلی کو فروخت کیے اور 1978 میں کمپنی کا نام اہلی اسٹیل ملز (اے ایس ایم) رکھ دیا گیا، اس کے بعد 1980 میں بقیہ 25 فیصد شیئرز بھی اے ایس ایم کو فروخت کردیے گئے۔

مزید پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید، فلیگ شپ ریفرنس میں بری

اس فروخت سے ایک کروڑ 20 لاکھ درہم حاصل ہوئے، جسے قطری شاہی خاندان کے ساتھ سرمایہ کاری میں استعمال کیا گیا۔

بعد ازاں شریف خاندان کی جلاوطنی کے دوران مرحوم میاں شریف نے سعودی عرب میں العزیزیہ اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ اور برطانیہ میں فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور 16 دیگر کمپنیاں قائم کرنے کے لیے حسین نواز کے لیے 54 لاکھ جبکہ حسن نواز کے لیے 42 لاکھ درہم فراہم کیے۔

تاہم پراسیکیوشن کے مطابق شریف خاندان ان کمپنیوں کے قیام کے لیے فراہم کیے گئے فنڈز کے ذرائع بتانے میں ناکام رہا، جس کے بعد یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا معاملہ بنتا ہے۔

پراسیکیوشن کے مطابق شریف خاندان کا مؤقف ہے کہ مرحوم میاں شریف کی جانب سے قطری شاہی خاندان کے ساتھ ایک کروڑ 20 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری کی گئی لیکن قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم بن جابر التھانی اس تفیصل کی تصدیق کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

اس کیس کے حتمی دلائل کے دوران وکیل دفاع نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی نے شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی کیونکہ اس سے ڈیفنس کے کیس کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

فلیگ شپ انویسٹمنٹ کی بات کی جائے تو یہ آف شور کمپنیوں سے متعلق تھا اور نیب کی جانب سے الزام تھا کہ نواز شریف ان کمپنیوں سے فوائد لے رہے تھے اور وہی اس کے اصل مالک تھے۔

فلیگ شپ انویسٹمنٹ میں ان آف شور کمپنیوں میں ایک کمپنی کیپٹل ’ایف زیڈ ای‘ تھی، جس میں نواز شریف عوامی عہدہ رکھنے کے باوجود چیئرمین رہے تھے۔

یہ بھی واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اسی کمپنی ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نااہل قرار دیا تھا۔