’ب سے برگر... پ سے پیزا!‘

26 فروری 2019

ای میل

'بچے کو اسکول میں ’اردو لٹریچر‘ کی کاپی لانے کو کہا جاتا ہے، حالانکہ لٹریچر کے بجائے ’نثر‘ کتنا سہل لفظ ہے۔ٔ
'بچے کو اسکول میں ’اردو لٹریچر‘ کی کاپی لانے کو کہا جاتا ہے، حالانکہ لٹریچر کے بجائے ’نثر‘ کتنا سہل لفظ ہے۔ٔ

ابھی زیادہ پرانی بات نہیں، جب ہم نے ایک طالب علم کی اردو کی کاپی میں ’تنّزل‘ کے معنی ’نازل ہونا‘ لکھے دیکھے تو ہکا بکا رہ گئے۔ اسی طرح ایک استاد سے جب کہا گیا کہ آپ اردو پڑھاتی ہیں، ذرا داغ کا کوئی شعر تو سنائیے؟ تو موصوفہ نے کہہ ڈالا ’داغ تو اچھے ہوتے ہیں...!!‘

بات یہ ہے کہ ہماری سماجی پسماندگی کا اثر جہاں اردو پر پڑ رہا ہے، وہاں یہ اپنے حلیے، بناؤ سنگھار سے لے کر تہذیبی طور پر بھی شدید مسائل سے دوچار نظر آتی ہے۔ معروف ادیبہ ڈاکٹر نجیبہ عارف سے جب یہ پوچھا گیا کہ آج کل ٹی وی کے ذریعے جس اردو کو رواج دیا جا رہا ہے کہ کیا زبان پھر یہی ہوجائے گی؟ تو انہوں نے ایک جملے میں گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ ’یہ زبان کوئی کھانے کی ترکیب نہیں کہ آپ نے دیکھا اور بنا لی، بلکہ زبان چاہے جو بھی لکھ اور بول دی جائے، جب تک آپ اور ہم اسے نہیں اپنائیں گے، وہ آگے نہیں بڑھے گی۔‘

ظاہر ہے زبان کا بنیادی وسیلہ عام بول چال ہی ہے، اگرچہ کسی بولی کو ’زبان‘ کے ’تکمیلیت‘ سے روشناس کرانے والا اس کا تحریری ہونا ہے، لیکن تحریر دراصل بولے جانے والی زبان کے بعد ہی کا درجہ ہے۔ تحریری زبان ذرا ڈھنگ سے لکھے جانے کا اہتمام مانگتی ہے، اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ لکھتے ہوئے اسے خوب سے خوب تر انداز میں ادا کیا جائے اور بول چال میں ہونے والی کسی بھی غلطی سے دُور رہا جائے۔

نسلِ نو کو زبان سکھانے کے واسطے یہ تحریر ہی ایک اہم اور کارگر وسیلہ ہے۔ تب ہی ہمارے نصاب میں باقاعدہ ایک پورا مضمون ’اردو‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں ہم زبان کے رموز پر ذرا کم ہی بات کرتے ہیں اور ’اردو‘ کے نصاب میں بیشتر مواد مذہب، سماجیات اور تاریخ وغیرہ کے گرد گھومتا ہے، حالانکہ اس حوالے سے باقاعدہ مضامین بھی موجود ہیں۔ اگر اس کے بجائے زبان دانی کے حوالے سے مواد شامل کیا جائے، قواعد و انشا، تحریر و تقریر سے لے کر مختلف و منفرد اندازِ بیاں اور ’اصناف ادب‘ تک بات کی جائے، تاکہ طالب علم زبان اور اس کے استعمال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرسکے اور ساتھ ہی املا و انشا سے لے کر تھوڑی بہت ’ادب‘ کی شد بد بھی پاسکے۔

ایک طرف اردو کے بعض قاعدوں کا حال اب یہ ہوچکا ہے کہ ان میں نوبت ’ب سے برگر‘ اور ’پ سے پیزا‘ آگیا ہے، دوسری طرف ’ث سے ثمر‘، ’ذ سے ذخیرہ‘، ’ژ سے ژالہ‘، ’ظ سے ظروف‘ ’غ سے غالیچہ‘ پڑھا تو دیا جاتا ہے، لیکن بچوں کے لیے ان مشکل الفاظ کے مطلب واضح نہیں کیے جاتے۔ نتیجہ کیا ہوتا ہے کہ وہ تین چار پھلوں کے یک جا ہونے کو ثمر سمجھ لیتا ہے، کہیں ریتی کا ڈھیر ہو یا بوریاں جمع ہوں تو بس اسی کو ذخیرہ کہہ لیتا ہے، ژالہ سے مراد وہ بارش کی کوئی شکل طے کر لیتا ہے، ایک قاعدے میں ژالہ باری کی تصویر میں چھتری بھی تھی، تو استاد کا یہ حال تھا کہ وہ ’ژ سے چھتری‘ پڑھاتے رہے!

’ظ سے ظروف‘ اور ’غ سے غالیچہ‘ بھی توجہ کا طالب ہے۔ یہ دونوں الفاظ ہماری عام گفتگو میں کتنا استعمال ہوتے ہیں، یہ بھی دیکھ لیجیے! غ سے تو غبارے کسی قاعدے میں ہیں، لیکن ظ سے تو ہمیں بھی کوئی ’اسم‘ نہیں سوجھ رہی!

تحریر کے لیے بچوں کو سطر سے نیچے اور اوپر ہونے والے لفظوں کے حوالے سے آگہی فراہم کی جا رہی ہے، لیکن دوسری طرف ڈاکٹر رؤف پاریکھ شوشوں میں کمی بیشی سے غفلت کرنے کو سخت گستاخی خیال کرتے ہیں۔ بچے کو اسکول میں ’اردو لٹریچر‘ کی کاپی لانے کو کہا جاتا ہے، حالانکہ لٹریچر کے بجائے ’نثر‘ کتنا سہل لفظ ہے۔

یہ تو اردو کی وہ بنیادیں ہیں، جو بچے کے کورے ذہن میں رکھی جاتی ہیں۔ اب بول چال میں دیکھیے تو ’کیا ہونے والا ہے؟‘ کی اچھی بھلی ترکیب کی جگہ ’کیا ہونے جا رہا ہے؟‘ کا بھونڈا انداز رواج پکڑ چکا ہے۔ ملاقات کے لیے ’میں اس کو ملا‘، ’وہ مجھ کو ملا‘، ’میں اسے پرسوں ملوں گا‘ بولا جا رہا ہے۔ ارے صاحب، اس سے تو سیدھا سیدھا ابلاغ مسخ ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ ’میں اس سے ملا‘، ’وہ مجھ سے ملا‘، ’میں پرسوں اس سے ملوں گا‘، میں دیکھیے کتنا سُندر پن ہے۔ تو پھر ’سے‘ کے بغیر کہنے میں عموماً کسی چیز کی ملکیت کا احساس ہوتا ہے، جیسے ’اس کو انعام ملا‘، ’مجھے عہدہ ملا‘، ’اسے پرسوں تمغہ ملے گا‘ وغیرہ۔ گویا چیز کے لیے یہ ڈھب تو ٹھیک ہے مگر ملاقات کے لیے بے حد غلط!

’ملاقات‘ کے باب میں ایک غلطی ’جبران کی عرفان کے ساتھ ملاقات‘، ’عرفان کی سلطان کے ساتھ ملاقات‘ بھی چل نکلی ہے۔ بھئی یہاں یہ ’ساتھ‘ کی کیا تُک ہے؟ جبران کی عرفان سے ملاقات کہنا ٹھیک ہوگا نا!

اسی طرح ’سے‘ کی طرح ’پر‘ سے جانے کیا دشمنی ہے۔ کہتے ہیں کہ ’میں خالہ کے گھر ہوں!‘، ’میں چچا کے گھر ہوں‘۔ ارے بھئی، آپ گھر پر ہیں، ورنہ ’پر‘ کے بغیر تو ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ آپ ہی دراصل خود گھر ہیں!

ہمارے چچا غالبؔ نے ایک مصرع کیا کہہ دیا؂ بارے آموں کا کچھ بیاں ہو جائے

یہ شعری ضرورت کے تحت برتی گئی ترکیب ہے، لیکن کچھ برسوں سے یہ ڈھب ہمارے بول چال میں ایسا آیا کہ الامان الحفیظ۔ بہت سے اخبارات نے تو اس بگاڑ کی گویا قسم اٹھا رکھی ہے، لکھتے ہیں کہ ’صدر بارے پتا چلا‘، ’فلاں بارے پتا چلا‘ اسے ٹھیک کرنا چاہیے۔

ہندی یوں تو اردو سے ایسی کوئی جدا زبان نہیں، لیکن کچھ ڈھب اس کے بے حد اوچھے ہیں، جیسے ’میں میرے گھر گیا‘، ‘میں میری کتاب دینے گیا‘ وغیرہ۔ درست ’میں اپنے گھر گیا‘، ’میں اپنی کتاب دینے گیا‘، ’اپنا، اپنے اور اپنی کو پلو سے باندھ لیجیے!

مستقبل کے جملے، جن کی پہچان ہی ’گا، گی اور گے‘ سے ہوتی ہے، اب دیکھیے اسے کس طرح فنا کے گھاٹ اتارا جارہا ہے: ’اب اگر فلاں نے یہ کیا تو میں نے منہ پر کہہ دینا ہے‘ اور ’اب اگر ایسی بات ہوئی تو میں نے ایسے کر دینا ہے‘ وغیرہ۔ ارے صاحب یہاں ’گا‘ لگے گا۔ ’میں یہ کہہ دوں گا یا میں وہ کردوں گا!‘ وغیرہ۔ ورنہ اردو میں ’کر دینا‘ کا ابلاغ یکسر الگ ہے، اسے مستقبل کے جملے میں کاہے کو مسخ کرتے ہیں؟

اور ذرا یہ تو بتائیے کہ کبھی آپ نے کوئی بلاگ شلاگ بھی لکھا ہےِ؟ اخبار شخبار پڑھا ہے؟ کتابوں شتابوں سے شوق ہے؟

ہے...! پھر بھی آپ بلاگ ولاگ، اخبار وخبار اور کتاب وتاب نہیں بولتے!! چلیے اب بولا کیجیے، کیونکہ اس ترکیب میں ’و‘ استعمال کیا جاتا ہے، ش نہیں! اب یہ بلاگ آپ نے ’اچھی طرح‘ سے پڑھنا ہے، کہیں ’اچھے سے‘ نہ پڑھ لیجیے گا، آخر ’طرح‘ بھی تو کوئی لفظ ہے نا!