ہمارے شہر کیسے ہونے چاہیے؟

28 فروری 2019

ای میل

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمس) میں شہروں اور انفرااسٹریکچر پر سمپوزیم منعقد ہوا، جس میں مختلف محققین، شہری پالیسی سے وابستہ افراد، کارکنان اور فنکار اکٹھا ہوئے اور پاکستان میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی (urbanisation) سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بات کی۔ اس موقعے پر سب سے اہم موضوع ترقی کی وجہ سے پیدا ہونے والی نقل مکانی اور ناانصافی رہا، اور ان پر بالخصوص شہر کی جمالیاتی (aesthetic) بحالی اور بڑے اور جدید انفرااسٹریچکر کی تعمیر کے تناظر میں روشنی ڈالی گئی۔

کراچی میں ایمپریس مارکیٹ کی توڑ پھوڑ، بحریہ ٹاؤں کی وسعت کا معاملہ اور لاہور کی اورینج میٹرو ٹرین لائن کی تعمیر کے سبب ثقافتی ورثے اور اس کی حفاظت کو لے کر ایک سال جاری تنازعات کو مدِنظر رکھیں تو ہم پاکستان میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے عمل کے مختلف پہلوؤں کو مسائل سے دوچار پائیں گے۔ نتیجتاً، کم از کم دانشور اور کارکنان اس رائے پر متفق ہیں کہ جس انداز میں ہمارے شہروں کو ڈیزائن، ریگولیٹ کیا جاتا ہے اور اس کا انتظام چلایا جاتا ہے، وہ ٹھیک نہیں۔

مزید پڑھیے: یہ ایمپریس مارکیٹ ہے یا رام دین پانڈے کی قبر؟

اس اربنائزیشن سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کو ایک سرسری اور بڑی حد تک دستاویزی ریکارڈ سے عاری ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں خرچ کیا جاتا ہے، اس نئے انفرااسٹریکچر کی قدرِ استعمال (use value) زیادہ تر اشرافیہ طبقات کے لیے ہوتی ہے اور ایک خاص خلیجی رنگ میں رنگے جدیدیت کے ویژن میں پھنسی ریاستی مقتدرہ کی محدود سوچ و تنگ نظری سے مطابقت رکھتا ہے۔

ہر ایک مرحلے پر واضح اور دستاویزی صورت میں سماجی انصاف اور عدم مساوات سے متعلق مسائل نظر آتے ہیں، جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ شہروں اور انفرااسٹریکچر سمپوزیم میں ہونے والے حالیہ مباحثے اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ہونے والی طویل گفتگو کی بنیاد پر محققین، متعلقہ پالیسی سے وابستہ افراد اور کارکنان کے نزدیک پریشانی کی 3 باتوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

ان میں سے پہلی پریشانی کی بات ہے شہری انتظامیہ اور ریگولیٹری اداروں کو مرتب کرنے کا عمل۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے 3 بڑے شہروں میں یہ کافی حد تک واضح ہے کہ نقل مکانی، بحالی اور ترقی کا عمل بیوروکریٹک-ٹیکنوکریٹک ڈھانچے کی سرپرستی میں ہوتا ہے، جس میں شہری حصہ داری یا احتساب کی کوئی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔

لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے معاملے میں یہ بات بڑی حد تک واضح نظر آتی ہے۔ ایل ڈی اے مقامی حکومتی نظام کے قانونی دائرے میں نہیں آتی اور سیدھا صوبائی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے۔ نتیجتاً، وہ تمام منصوبے جو اس (یا سی ڈے اے جیسے اداروں) کے ذمے ہوتے ہیں ان میں عوامی رائے شامل کرنے کی چند قانونی شرائط ہی شامل ہیں۔ وہ زیادہ تر عوامی اجتماع، سماعتوں یا ٹاؤن ہال اجلاسوں جیسی بیوروکریٹک مشقوں پر عمل کرتے ہیں، جن کا مقصد محض قوائد و ضوابط کی رسم کو پورا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔

ادارتی خرابی خاص طور پر اس وجہ سے پریشان کن ہے کیونکہ جس طرح لوگ اپنی اپنی رہائشی اور کام کی جگہوں میں رہتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں، ان میں تبدیلیاں تھوپ دی جائیں تو ان کی روزانہ کی زندگیوں میں بنیادی طور پر تبدیلی آجائے گی۔

یہ ادارتی خرابی اس لیے بھی زیادہ بُری ہے کیونکہ لوگوں کے معمولات، ان کا لائف اسٹائل اور کام کے حوالے سے مصروفیات متاثر ہوتی ہیں۔

اگر پلاننگ اور ریگولیشن اداروں کے اختیارات نیچے تک منتقل ہوئے ہوتے اور وہ منتخب مقامی حکومتوں کے آگے جوابدہ ہوتے تو انہیں عوامی نمائندوں کی جانب سے رسمی و غیر رسمی ذرائع سے دباؤ کا سامنا ہوتا۔ اس قسم کی صورتحال میں کچھ بنانا یا گرانا چونکہ مادی سودے بازی شامل ہونے کی وجہ سے بنیادی طور پر ایک سیاسی عمل ہوتا ہے، لہٰذا اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ بیوروکریٹک نظام کے بجائے سیاسی ادارے (مقامی حکومتی نظام) کی حدود میں رہتے ہوئے حل کیے جاتے۔

مزید پڑھیے: ایمپریس مارکیٹ کو کیوں چھپا دیا گیا؟

دوسری فکر کی بات ہے شہری ترقی اور مارکیٹ کے درمیان روابط ہے۔ اس معاملے کو کئی محققین پہلے بھی اٹھا چکے ہیں، ان میں سے ایک آکسفورڈ یونیورسٹی کی عائشہ احمد سرِفہرست ہیں۔ ان کے مطابق شہر کے تعمیراتی ماحول کا براہِ راست تعلق پیسوں کے بہاؤ اور اس کے سرمایہ کاروں، بلڈرز اور ریاستی نمائندوں (سیاستدان اور بیوروکریٹس) کے ساتھ تعلقات سے ہوتا ہے۔

ترقی کے نئے ماڈلز کے تحت ریاست نجی سرمایہ کاروں کو زمین کے حصول کے لیے مدعو کرتی ہے اور اس مرحلے پر لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ جیسے اہم اختیار کو اس طرح استعمال نہیں کرتی جس طرح ماضی میں کرتی تھی، اس وجہ سے نئے چیلنجز پیدا ہوجاتے ہیں۔

مثلاً، ریاست جس طرح زمین مالکان سے قبضہ حاصل کرنے کے لیے قانونی ہتھیار کے ذریعے دباؤ ڈالتی ہے وہ کسی سانحے سے کم نہیں اور اس کی آسانی کے ساتھ شناخت بھی ممکن ہے۔ دوسری طرف، کس طرح کوئی زمین کی مارکیٹ کے عوامل کو اپنے ہاتھوں میں رکھ سکتا ہے جو ویسے ہی منفی نتائج پیدا کرتے ہیں لیکن موجودہ وقت میں مکمل طور پر مارکیٹ ایکسچینج کے قانونی دائرے کے اندر کام کرتی ہے؟ اگر نجی ڈیویلپر یا سرکاری ادارے کا آپریٹر ایک ایسی قیمت ادا کرتا ہے جس پر زمین کا مالک ایک بڑی گیٹ بند رہائشی کمیونٹی بنانے کے لیے اپنی زمین بیچنے کے لیے تیار ہے تو اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دیگر معاملات مثلاً، قبضہ چھڑوانے کا عمل، کھیتوں میں کام کرنے والے افراد کی بے روزگاری، مقامات کے لیے ممکنہ سرمایہ کاری، ماحولیاتی بحرانوں کے حوالے سے کس قسم کے ریگولیشن بنانے چاہئیں؟

آخر میں، تیسرا مسئلہ جس کے لیے تخلیقی سوچ اور توجہ درکار ہے وہ ہے خود شہری زندگی کے ثقافت پر نکتہ نظر۔ اسے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے، لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے جو پہلے معاملات میں لاحق مسائل کو قابو میں رکھنے کے لیے مدد کرتی ہے۔

پاکستان میں شہر کے وجود کا یہ مطلب ہوتا ہے، شہر میں کس قسم کے جمالیاتی اور عملی مقاصد شامل ہونے چاہئیں، شہر کس کے ذمے دینا چاہیے اور انہیں کس حد تک شہری انتظامی اور ریگولیٹری اختیارات دیے جانے چاہئیں، اس حوالے سے نئے سرے سے (لیکن معقولیت کے ساتھ) تحقیق کا عمل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک چیلنج ہے کیونکہ ریاستی سربراہی میں ہونے والے ایمپریس مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن یا گڈاپ میں بحریہ ٹاؤن کی وسعت کے معاملے میں نظر آنے والا سرکاری اور نجی سرمائے کا ملاپ ہمارے سامنے یہی بات پیش کرتا ہے، تاہم جو منصوبے جاری ہیں انہیں علاقائی اعتبار سے ‘ثقافتی ورثے‘ اور ’ماڈرنائزیشن‘ دونوں کی صورت دی جاسکتی ہے۔

جس طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی 2 آرٹسٹ زہرہ ملکانی اور شہانہ راجانی کا گڈاپ میں کیا جانے والا کام بھی ظاہر کرتا ہے، سرکاری اور نجی ڈیویلپرز کی جانب سے استعمال کی جانے والی جدیدیت کی تعریف اور ثقافتی ورثہ کیا ہے اور کیا نہیں اس حوالے سے معیار فرسودہ ہے اور اکثر اوقات محدود نفع خوری کے مفادات کو ان پر فوقیت دی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے: تجاوزات کے خلاف آپریشن کا نشانہ صرف غریب ہی کیوں؟

سب سے بڑھ کر یہ کہ لاہور اور کراچی جیسی جگہوں پر ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کی تعریفیں غالب ہیں کیونکہ ان میں عام آدمی کی خواہشات شامل ہیں۔ زیادہ تر لوگ گیٹ بند کمیونٹیوں میں رہنا چاہتے ہیں، وسیع و عریض شاہراہوں پر گاڑی چلا کر لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اور دبئی یا سنگاپور جیسی جگہوں پر دستیاب صارف دوست سہولیات حاصل کرنا چاہتا ہیں۔

تخلیقی انداز کے ساتھ ان خواہشات کو سماجی انصاف اور پاکستان جیسی جگہ کے ماحولیات کے مفاد میں ڈھالنا ایک مشکل کام ہوسکتا ہے۔ اس کے خلاف جانا بھی چیلنج سے کم نہیں، لیکن آج اگر تنقیدی نکتہ نگاہ کے ساتھ معقول گفتگو کی ابتدا کی جائے تو یہ بالآخر مرکزی دھارے کی پالیسی اور سیاسی رائے میں بھی جگہ بنا لے گی۔

یہ مضمون 25 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔