جنگی محاذ کے بعد اب ہمیں سفارتی محاذ پر فتح حاصل کرنی ہوگی!

اپ ڈیٹ 03 مارچ 2019

ای میل

پاکستان دشمنی اور پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے ذریعے اگلے انتخابات میں وزارت عظمی کا عہدہ پکا کرنے کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی چال بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ ہندوستانی اندازوں کے برعکس پاکستان بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی گنڈہ گردی سے ذرا بھی خوفزدہ نہیں ہوا۔ جب ہندوستان نے لائن آف کنٹرول کے پار جا کر جلد بازی میں بموں کو گرایا تو پاکستان نے بھی منہ توڑ جواب دیا، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی خیال رکھا کہ اس منہ توڑ کارروائی میں ہندوستان میں اموات نہ ہوں۔ پھر جب ہندوستانی طیاروں نے ایک بار پھر دراندازی کی تو پاکستان نے برق رفتار کارروائی کرتے ہوئے ان کے دو طیارے مار گرائے اور ایک ہندوستانی پائلٹ کو حراست میں لیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان جاری کارروائیوں کے دوران، ہندوستانی حکام شروع سے ہی اپنی پہلی کارروائی کے اثر اور نیچر کے بارے میں جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے اور دعوی کرتے رہے کہ اس کارروائی میں ایک تصوراتی ’دہشتگرد کیمپ‘ تباہ کیا گیا ہے۔ پھر اگلے دن جب ان کا ایک طیارہ تباہ ہوا تو پاکستانی ایف 16 طیارے کو گرانے کا جھوٹا دعوی کرنے لگے۔

اس کے برعکس پاکستان نے جو کہا وہ کرکے دکھایا، اور پھر جو کام کیا اسے پوری وضاحت اور سچائی کے ساتھ بیان کیا۔

اس دوران سب سے نمایاں فرق یہ دیکھنے کو ملا کہ ایک طرف بھارتی وزیراعظم مودی، ہندوستانی فوج اور سول لیڈران جارحانہ اور متکبرانہ انداز میں دھمکیاں دے رہے تھے جبکہ دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستان کی سول ملٹری قیادت امن و تحمل کے لیے مدبرانہ اپیل اور فوجی کارروائی کی وارننگ کے ساتھ فراخ دلی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

ہندوستان نے واضح طور پر مزید فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلاشبہ اب انہیں اس کا بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا کہ کسی قسم کی کارروائی کرنے پر پاکستان جوابی کارروائی ضرور کرے گا۔

دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملکوں کے مابین کشیدگی باقاعدہ جنگ میں بدل جانے سے ہونے والی تباہی کی حقیقت شاید اب نئی دہلی پر اجاگر ہوچکی ہے۔ جوابی کارروائی کا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا جاچکا ہے، اسٹریٹجک استحکام بھی بحال ہوچکا ہے۔

اب بھارت کی خونی بے جی پی قیادت سفارتکاری کے ذریعے وہ سب کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جو وہ فوجی کارروائی کے ذریعے حاصل نہ کرسکی۔

مزید فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے بھارت اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فیصلوں، اور ان بڑی قوتوں سے اعلامیوں کا مطالبہ کرے گا، جو ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ وہ کونسل اور دیگر فورمز سے مطالبہ کرے گا کہ وہ پلوامہ پر ہونے والے ’دہشتگرد‘ حملے کی مذمت کریں، مسعود اظہر کا نام دہشتگردوں کی ’فہرست‘ میں شامل کریں اور جیش محمد کو سزا دیں، پاکستان کو کہا جائے کہ وہ اپنی زمین کو بیرونی ’دہشتگرد‘ حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، پاکستان میں تمام شدت پسند تنظیموں کا خاتمہ کیا جائے اور ان کے رہنماؤں کو حراست میں لیا جائے وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان کو بھارت کے ساتھ عنقریب ہونے والی سفارتی لڑائی میں خود کو پوری طرح سے تیار رکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان دہشتگردی کی حمایت کرتا ہے یا انہیں مدد فراہم کرتا ہے، اس قسم کے گستاخانہ الزامات کو مسترد کرنے کے علاوہ اسلام آباد کو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ کسی بھی فیصلے یا اعلامیہ میں زمینی حقائق لازمی طور پر شامل ہوں، یعنی جموں کشمیر کا غیر حل شدہ تنازع، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روح کے مطابق خوداداریت کے حق کی تلفی، ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جاری عوامی اور مقامی بغاوت، مقبوضہ کشمیر میں تعینات 7 لاکھ بھارتی فوج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی زبردست خلاف ورزی (جو کہ اقوام متحدہ کی حالیہ ہائی کمشنر رپورٹ میں بھی درج ہے) جن میں ریپ، غیر مسلح مظاہرین کا قتل، پیلٹ گنز سے بچوں کو نابینا کرنے کا عمل شامل ہے، اس کے علاوہ ہندوستان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی، مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کو غصب کرنے اور اس کی آبادی کے ڈھانچے (ڈیموگرافی) میں تبدیلی لانے کی مکروہ کوششیں، مقبوضہ کشمیر پر براہ راست نئی دہلی سے حکمرانی کے قانون کا نفاذ اور کشمیری رہنماؤں کی بلاجواز غیر قانونی گرفتاریاں۔

اگرچہ بھارت چند مخصوص اور متنازع موقف رکھتا ہے، مگر پھر بھی یہ اپنے سائز اور اپنی اس عمومی خواہش کہ اپنے ہی ہاتھوں سے شروع کردہ فوجی و سیاسی لڑائی میں ہونے والی شکست کے بعد بڑی طاقتیں بھارت کو بیٹھ کر منائیں، کی وجہ سے اپنے مطالبات کے لیے چند مخصوص ملکوں کی حمایت اپنے حق میں محفوظ کرسکتا ہے۔

ممکن ہے کہ امریکا ہندوستان کے کئی مطالبات پر زور دے۔ بلکہ مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن کی جانب سے پلوامہ واقعے کے بعد ہندوستان نے ’حق دفاع‘ کا حوالہ دے کر درحقیقت ہندوستان کی فوجی جارحیت کی تائید کردی تھی۔

واشنگٹن کو ایک متوازن رویہ اپنانے پر قائل کرنے کے لیے پاکستان کو سخت محنت کرنا ہوگی۔ بلاشبہ امریکا چین مخالفت کے تناظر میں تو ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہے لیکن امریکا کو افغان طالبان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے پاکستان کی سہولت کاری درکار ہے۔ امریکی دوستی کے حالیہ اشارے پلوامہ بحران میں دکھائی نہیں دیے۔ اسلام آباد کو امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات میں اپنی سہولت کاری اور پاک بھارت معاملات پر امریکی رویے کے درمیان ایک مضبوط باہمی تعلق پیدا کرنا ہوگا۔

سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے آگے اپنا مؤقف واضح اور بہادری کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ یہ موقف کہ کشمیری عوام کی جانب سے جاری خودارادیت اور آزادی کے لیے جدوجہد نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ ان کا اخلاقی اور قانونی حق ہے۔ اس جدوجہدِ آزادی کو کسی صورت دہشتگردی کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

پاکستان کو اپنے اہم دوستوں کی بھرپور انداز میں حمایت درکار ہوگی،جن میں سب سے پہلا ملک ہے چین، جو کہ سیکیورٹی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھتا ہے۔ بلاشبہ امریکا، ہندوستان اور اس کے دوست بھارتی مطالبات تسلیم کروانے یا پھر پاکستان کے موقف کا دفاع نہ کرنے کی غرض سے چین پر دباؤ ڈالیں گے۔

مگر اس اہم موڑ پر، اور پاکستان کو لاحق بیرونی خطرات کے پیش نظر اسلام آباد یہ توقع رکھنے کا پورا حق رکھتا ہے کہ چین پاکستان کے اہم مفادات اور اس کے موقف کا تحفظ کرے گا۔

بلاشبہ، مودی کے شروع کردہ اس بحران کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے کا ایک موقع حاصل ہوا ہے۔

مودی کے غلط اندزے خطے کو جنگ کی نہج تک لے گئے جو کہ ایک زبردست تباہی اور بربادی کے ساتھ ختم ہوتی۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو خوش کرنے کے بجائے وہ اس بحران کو جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کی نئی بنیادیں ڈالنے کے لیے استعمال کریں۔

اس قسم کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل کام نہایت اہمیت کے حامل ہیں:

  • بھارت کی جانب سے کشمیر میں سویلین آبادی کے خلاف فوجی کارروائی یا طاقت کا استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی۔
  • پاک بھارت ورکنگ گروپ کی بحالی تاکہ خطے کے اندر دہشتگردی کے تمام پہلوؤں پر توجہ دی جاسکے۔
  • اضافی سی بی ایمز Confidence-building measures پر عمل تاکہ کسی ممکنہ پاک بھارت تنازع کو ٹالا جاسکے۔
  • پاکستان اور بھارت کے درمیان ’جامع‘ مذاکرات کی بحالی۔
  • روایتی اور ایٹمی اسلحہ کنٹرول کے معاملے پر دوطرفہ مذاکرات کی شروعات۔
  • (سرکریک، سیاچن) جیسے مسائل جو بہت زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ان کا جلد از جلد حل۔
  • تجارت کے فروغ اور بین الاقوامی اور ربط سازی کے منصوبوں (جن میں دیگر دلچسپی رکھنے والے ملکوں کی شمولیت بھی ممکن ہو) پر بات چیت۔

اس قسم کے امن منصوبے پر عمل کی امیدیں ہندوستان میں مودی اور بی جے پی حکومت کے ہوتے ہوئے تو زیادہ روشن نظر نہیں آتیں۔ تاہم امید ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی حالیہ شکست، جو کہ بے وقوف بنائے گئے بھارتی عوام کو بھی صاف نظر آتی ہے، اس کے ساتھ اپنے بلند و بالا اقتصادی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی سے ایک اور مثبت نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے، یعنی عنقریب ہندوستانی انتخابات میں مودی اور بی جے کی ناکامی۔

یہ مضمون 3 مارچ 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔