بابری مسجد: بھارتی سپریم کورٹ نے تنازع کے حل کیلئے ثالثی ٹیم بنادی

اپ ڈیٹ 08 مارچ 2019

ای میل

اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہوتی ہے تو سپریم کورٹ یہ تنازع حل کرے گی — فائل فوٹو / اے ایف پی
اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہوتی ہے تو سپریم کورٹ یہ تنازع حل کرے گی — فائل فوٹو / اے ایف پی

بھارت کی سپریم کورٹ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بابری مسجد اور رام مندر کی زمین کا تنازع حل کرنے کے لیے ثالثی ٹیم تشکیل دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق اٹارنی وِشنو جین نے کہا کہ عدالت نے تین رکنی ٹیم کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج پینل کی سربراہی کریں گے۔

اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہوتی ہے تو سپریم کورٹ یہ تنازع حل کرے گی۔

واضح رہے کہ بھارت کی عدالت عظمیٰ میں 2010 کے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد تنازع حل نہ ہونے پر بھارت میں خانہ جنگی کا خطرہ، ثالث کی تنبیہ

ماتحت عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم ہوگی۔

واضح رہے کہ پہلے مغل بادشادہ بابر کے حکم پر 1528 میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جسے انتہاپسند ہندوؤں نے 6 دسمبر 1992 کو شہید کردیا تھا۔

ایودھیا میں واقع بابری مسجد کو 1992 میں شہید کیے جانے کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے، جس میں تقریباً 2 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس مقام پر ہندو دیوتا 'رام' کا نیا مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جو ان کی جائے پیدائش ہے۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کیلئے انتہا پسند ہندوؤں کو جمع ہونے کی کال

ان کا مؤقف ہے کہ 16ویں صدی کی بابری مسجد، مسلم بادشاہوں نے ہندو دیوتا کا مندر گرانے کے بعد قائم کی تھی۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں انتخابات سے قبل اس مقام پر مندر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں انتہا پسند ہندوؤں کے بڑے پیمانے پر ووٹ ملے تھے۔