آئندہ 2 ہفتے میں قومی خزانے میں 4.1 ارب ڈالر آئیں گے، وزیر خزانہ

اپ ڈیٹ 10 مارچ 2019

ای میل

وزیر خزانہ اسد عمر پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام سیمینار ’فنانسنگ ٹو سپورٹ میک ان پاکستان‘ کے دوران گفتگو کر رہے تھے —  فوٹو: ڈان
وزیر خزانہ اسد عمر پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام سیمینار ’فنانسنگ ٹو سپورٹ میک ان پاکستان‘ کے دوران گفتگو کر رہے تھے — فوٹو: ڈان

وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتے میں قومی خزانے میں 4.1 ارب ڈالر آئیں گے، جس کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 12 ارب ڈالر ہو جائیں گے۔

ہفتے کو پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ابوظہبی فنڈ فار ڈیولپمنٹ سے 2 ارب ڈالر کے معاہدے کے معاملات طے پا گئے ہیں اور یہ رقم آئندہ ہفتے فراہم کردی جائے گی۔

مزید پڑھیں: اسد عمر اداروں کی عالمی ماہرین کو مطمئن کرنے میں ناکامی پر برہم

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد آنے والے ہفتے میں ممکنہ طور پر چین بھی 2.1 ارب ڈالر کی رقم فراہم کردے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ابوظہبی فنڈ فار ڈیولپمنٹ سے قرض 3 فیصد کی فکس شرح سود پر لیا گیا ہے جبکہ چین سے قرض 2.5 فیصد شرح سود پر حاصل کیا گیا ہے۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے غیر ملکی ذخائر 8.11 ارب ڈالر ہیں، جو ان قرضوں کی فراہمی کے بعد 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کی شرح کے مقابلے میں ملک کے بینکوں میں ڈپازٹ رقم انتہائی کم ہے کیونکہ ملک کے 85 فیصد عوام روایتی بینکاری شرعی اصولوں کے مطابق نہیں لہٰذا اسلامی بینکوں کو بینکنگ سسٹم میں فنڈز کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: منی بجٹ 2019 ترامیم کیلئے قومی اسمبلی میں پیش

اسد عمر نے کہا کہ حکومت آئندہ 5 سال جی ڈی پی کی شرح کے مقابلے میں بینکوں میں ڈپازٹ کرائی گئی رقم میں اضافے کی خواہاں ہے اور اس سلسلے میں جمود کے خاتمے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کام کرے گا۔

اس دوران مقررین میں سے ایک کی جانب سے معیشت کو ڈیجیٹلائز کرنے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اسی وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی کہ وہ ایف بی آر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اراکین پر مشتمل کمیٹی قائم کر کے اس سلسلے میں تجاویز ایک ہفتے میں پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو مالیاتی شعبے میں ترقی کرنی ہے تو اس سلسلے میں فنانشل ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرے گی اور ساتھ ساتھ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اس سلسلے میں ریگولیٹرز کو سسٹم پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان پہلے سے ہی ایک یونیورسل فنانشل سسٹم پر کام کر رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، کھپت اور درآمدات پر چل رہی ہے تاہم اب وقت آ چکا ہے کہ ہم بہتر پیداوار کو اپنائیں تاکہ تنخواہوں میں اضافہ ہو سکے۔

اس موقع پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رچرڈ مورن نے سوال اٹھایا کہ بروکرز کو بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے 2 صفحات کا فارم بھرنا پڑتا ہے، جس پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے نے جواب دیا کہ یہ عمل آسان بنایا جائے گا، بروکرز کے لیے مارچ کے اختتام تک 2 منٹ میں اور فون کال پر بینک اکاؤنٹ کھولنا ممکن ہو گا۔

مزید پڑھیں: فنانس بل میں گناہ ٹیکس کا ذکر نہ ہونے پر شعبہ صحت کے حکام مایوس

اسد عمر نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کرنے والے کاروباری حضرات کو محض بینک پر انحصار کرنے کے بجائے کیپیٹل مارکیٹ سے بھی فنڈز میں اضافے کی اجازت ہونی چاہیے، اسی طرح سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان کی جانب سے نظر انداز کیے گئے انشورنس کے شعبے کو توجہ دینے کے لیے ایک علیحدہ انضباطی ادارہ بھی بنایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ملاقات میں کاروباری برادری نے نویں ایمنسٹی اسکیم کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے لیے حکومت نے تجارتی تنظیموں کو تجاویز جمع کروانے کا کہا ہے۔

تاہم انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت صرف اسی صورت میں ایمنسٹی اسکیم دے گی اگر یہ معیشت کے لیے سازگار ہوئی کیونکہ ابھی تک توقعات کے مطابق کوئی بھی نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 10 مارچ 2019 کو شائع ہوئی