افسانہ: میں کہاں جاؤں گی؟

11 مارچ 2019

ای میل

دُبلا پتلا جسم ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل ہوچکا تھا، بال بکھرے ہوئے تھے، نیند کو ترستی ہوئی خشک آنکھیں اس بیابان کا پتہ بتا رہی تھیں، جہاں امید کا آخری چراغ بھی بجھا دیا گیا ہو، جہاں چارسو تاریکی ہی تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ ان ویران آنکھوں میں کبھی شہر آباد تھا لیکن اب اس شہر کو تاراج ہوئے کئی برس بیت گئے ہیں۔ اب ان کلر زدہ آنکھوں میں صرف نمک ہی نمک باقی بچا تھا، جو آہستہ آہستہ ان آنکھوں کی بینائی تک کو کھاتا جا رہا تھا۔ لیکن آج ان پتھریلی آنکھوں پر ایسی چوٹ پڑی تھی کہ ان میں سے آب زم زم کی طرح کوئی چشمہ پھوٹ پڑا تھا، آنسو پگھلتی ہوئی موم بتی کے قطروں کی طرح بہہ رہے تھے۔

وہ دونوں ہاتھ جوڑے اس کے سامنے دو زانو ہوئے بیٹھی تھی، خدا کے لیے مجھے گھر سے تو مت نکالیے، میں اتنی رات گئے کہاں جاؤں گی؟ آپ جو بھی کہیں گے میں کرنے کے لیے تیار ہوں، خدا کے لیے مجھے نوکرانی سمجھ کر رکھ لیجیے لیکن مجھے اس طرح باہر نہ پھینکیے۔ مجھ سے جوتے پالش کروا لیجیے گا، میں اپنے لیے کوئی کپڑا نہیں مانگوں گی، میرا کھانا ایک وقت کا کردیجیے، میں اسٹور روم میں رہ لوں گی لیکن مجھ سے میرا آخری ٹھکانہ مت چھینیے، خدا کا واسطہ ہے، کچھ تو رحم کیجیے!

عذرا دروازے میں بیٹھے فقیر کی طرح منتیں سماجتیں کرتی جا رہی تھی اور اس کی دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی ماں کا یہ حال دیکھ کر زار و قطار رو رہی تھیں۔ بڑی بیٹی 6 سال کی ہوچکی تھی اور چھوٹی ابھی 3 برس کی تھی۔

عذرا نے گڑگڑا کر روتے ہوئے آصف کے پاؤں پکڑ لیے۔ اس کے کانپتے ہوئے نحیف ہاتھ آصف کے سفید کاٹن کے پائنچوں کو ایسے مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے، جیسے کوئی بس کے ساتھ لٹکا ہوا شخص نیچے گرنے کے خوف سے پائیدان کے ڈنڈے کو بہت ہی مضبوطی سے تھام لیتا ہے۔ اسے شاید خوف تھا کہ یہ پاؤں اس کا آخری سہارا ہیں اور انہیں چھوڑتے ہی وہ دُور کہیں گہری کھائی میں جا گرے گی۔

وہ اپنی زندگی سے تو کب کی اُکتا چکی تھی اور اس مسلسل عذاب سے چھٹکارہ چاہتی تھی لیکن یہ دونوں بیٹیاں اس کی راہ میں حائل تھیں۔ اصل میں وہ اپنی بیٹیوں کے لیے سانسیں مانگ رہی تھی، ان کے لیے چھت کی طلب گار تھی، اب وہ انہیں در در کی ٹھوکروں سے بچانا چاہتی تھی۔

بے نور سی رنگت ہے

ویران سا اِک چہرہ

نہ پیار بھرے بادل

غازہ ہے نہ کاجل

شوخ بھری عادت

نہ ہونٹوں پہ تمازت

چوڑی نہ کوئی بالی

آنکھوں میں قحط سالی

رنگت ہے تو پیلی

ابرو کی کماں ڈھیلی

آج جو ہاتھ خشک ٹہنیوں کی طرح لگ رہے تھے، یہی وہ ہاتھ تھے، جن کو کبھی عذرا کی ماں سرسوں کی ڈالیوں کی نرمی سے تشبیہ دیا کرتی تھی۔ یہی وہ ہاتھ تھے، جنہوں نے کبھی پانی کا گلاس خود سے اٹھا کر پینے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی، یہی مخروطی انگلیاں تھیں، جن کی سفیدی اور لمبائی چوہدری نذیر کے خاندان کی مشہور نشانی تھی۔ عذرا کا گورا چٹا رنگ پورے چک پاکھر میں مشہور تھا۔ اس کی سیاہ براؤن آنکھیں صندلی شربت کے کٹورے تھے، جنہیں ایک ہی سانس میں پی جانے کو دل چاہتا تھا۔ تیکھا ناک، صراحی نما گردن، سنگِ مرمر سے تراشی ہوئی بانہیں، موتیے کے گجروں والی کلائیاں، رنگ برنگا پراندا اور گھٹنوں تک آنے والی سیاہ زلفوں پر کون صدقے واری نہیں جاتا تھا۔

تب!

تھی شوخ طبع اس کی

ہر رنگ قبا اس کی

تھے پھول رِدا جس کے

کوئل تھی صدا اس کی

ہر بات پہ ہوتی تھی

ہر بات جُدا اس کی

ہر دل پہ قیامت تھی

ہر شوخ ادا اُس کی

پھول کہ شبنم تھی

وہ بادِ صبا ٹھہری

نینوں کا حسن ایسا

چوٹ اُن کی بہت گہری

چہرے کی رنگینی تھی

پھولوں سے کہیں پیاری

تھی شوخ طبع جس کی

دل دے کے، فقط ہاری

عذرا چودھری نذیر کی سب سے بڑی بیٹی تھی۔ 3 بھائی اور ایک بہن اس سے چھوٹے تھے۔ چودھری نذیر اپنے بھائی سے مختلف تھا اور ہر معاملے میں ہی مختلف تھا۔ چودھری بشیر کے ساتھ اسلحے والے باڈی گارڈز ہوتے تھے، لڑائیاں معمول کا حصہ تھیں، شراب کا رسیا تھا، آواز ہر وقت اونچی رہتی تھی لیکن چودھری نذیر اس سے بالکل مختلف تھا۔ دھیمے مزاج والے چودھری نذیر کے چہرے سے متانت جھلکتی تھی، کن پٹیوں پر سفید بال اور چہرے پر ایک مخصوص مسکراہٹ رہتی تھی۔ خود تو چودھری نذیر بس 8ویں تک ہی پڑھا تھا لیکن اپنی اولاد کو اس سے بھی آگے پڑھانا چاہتا تھا۔

جس وقت عذرا نے میٹرک پاس کیا تھا تو بشیر نے اپنے بھائی کو کئی مرتبہ آ کر سمجھایا تھا کہ ہمارے خاندان میں کوئی لڑکا نہیں پڑھا تو تم عذرا کو کیوں پڑھانا چاہتے ہو، اس کی شادی جاوید سے ہی تو ہونی ہے، وہ کون سا بے اے پاس ہے؟ وہ بھی تو 5ویں جماعت میں اسکول چھوڑ گیا تھا۔ لیکن چودھری نذیر اپنے بھائی کی بات ہنس کر ٹال دیتا تھا۔ چلو اسے پڑھنے کا شوق ہے، تو کوئی بات نہیں، پڑھنے دیتے ہیں ویر جی، گھر میں فارغ بیٹھ کر بھی تو اس نے اپنی ماں کو ہی ستانا ہے ناں، اچھا ہے اپنے دھیان میں لگی رہتی ہے۔

عذرا سب سے بڑی تھی تو فرمائشیں بھی اس کی پوری ہوتی تھیں۔ گھر میں آٹھ آٹھ کامے تھے، مال ڈنگر اپنا تھا۔ ساتھ کے 3 دیہات تک چودھری نذیر کی زمین پھیلی ہوئی تھی۔ ایک خاص سفید رنگ کی گھوڑی عذرا کی تھی، جس پر وہ کبھی کبھار باغ میں اپنی سہیلوں کے ساتھ امرود توڑنے جایا کرتی تھی۔ جب کبھی وہ چٹیا بنائے اور دوپٹہ گلے میں ڈالے اپنی گھوڑی چھمو پر بیٹھتی تو اس دن لگتا تھا جیسے چھمو پر پہاڑوں سے اتری کوئی دیوی سوار ہے۔

چودھری نذیر کو اپنی بیٹی پر فخر بھی تھا اور چھپی چھپی محبت بھی، ایسی محبت جو والد کرتا ہے لیکن ماں کی طرح اظہار نہیں کرپاتا۔ جب بھی کبھی چودھری نذیر گوجرانوالہ گیا تو وہاں سے عذرا کے لیے کچھ نہ کچھ لازمی لایا۔

جب عذرا نے ایف ایس سی پاس کی تو پورے گاؤں میں واہ واہ ہوگئی تھی۔ اس دن خوشی کے مارے چودھری نذیر کے پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔ اسلم حلوائی کو گھر بلا کر مٹھائی بنوائی گئی تھی اور ہر کسی کے گھر پہنچی تھی۔

چودھری بشیر نے اس وقت بھی عذرا کو پیار دیتے ہی کہا تھا کہ دھیے اب مزید ہمیں پڑھائی نہیں چاہیے ہم نے بھلا کون سا تم سے نوکری کروانی ہے؟ بس کر اب ہمارے بچے بس اتنا ہی پڑھتے ہیں۔

لیکن چودھری نذیر نے پھر وہی پرانی بات دہرائی، گھر فارغ بیٹھ کر بھی تو اس نے اپنی ماں کو ہی تنگ کرنا ہے۔ ابھی کار پر روزانہ نوشہرہ ورکاں کے گرلز کالج تک جاتی ہے اور واپس آجاتی ہے، یہ 20 منٹ کا تو راستہ ہے۔ لڑکا تو ہمارا کوئی ایک بھی میٹرک نہیں کرسکا، چلو یہ ہی سہی۔ ہمیں بھلا کون سا پیسوں کی کمی ہے، اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔

عذرا کو ابھی بی ایس سی شروع کیے ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کے لیے ٹیوشن ماسٹر کی تلاش شروع ہوگئی تھی۔ نوشہرہ ورکاں میں بھی گرلز کالج ابھی 4 سال پہلے ہی منظور ہوا تھا۔ چند ایک استانیاں گوجرانوالہ سے آتی تھیں اور وہ بھی ہفتے میں 3 دن چھٹی کرلیتی تھیں۔ سائنس کی ٹیچروں کی ساری آسامیاں خالی پڑی تھیں۔ عذرا کا گاؤں تو دُور کی بات تحصیل نوشہرہ ورکاں تک میں کوئی ایک استاد نہیں تھا، جو بی ایس سی کا سیلیبس پڑھاتا ہو۔

عذرا کے لیے صرف ایک ہی آپشن تھا کہ اس کی ٹیوشن کا بندوبست گوجرانوالہ میں کیا جائے لیکن اتنی بڑی قربانی دینے کے لیے خاندان میں کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ دوسری جانب عذرا تھی، جس کی ضد پورے خاندان میں مشہور تھی۔ گھر میں سب سے پہلی پیدائش کی وجہ سے اسے ہر قسم کا لاڈ اور پیار ملا تھا۔ عذرا اپنی بات منوانے کے لیے اٹکی رہی، کبھی اپنی امی کے پاس جاتی تو کبھی اپنے ابو چودھری نذیر کے پاس، کئی روز تو وہ کھانے سے بھی انکار کرتی رہی۔ بڑی تھی، باپ کی لاڈلی تھی لیکن چودھری نذیر اس سب کے باوجود بھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرسکا تھا، جو خاندان میں کسی کو پسند نہ ہو۔ پہلے ہی سب کو اس کی پڑھائی پر شدید اعتراض تھا۔ آخر کار چند روز بعد چودھری نذیر کے ایک کامے نے ہی بتایا کہ گاؤں میں تیلیوں کا ایک رشتہ دار لاہور سے پڑھ کر واپس آیا ہوا ہے اور سنا ہے چند ماہ ادھر ہی رہے گا۔

آصف ایم ایس سی کے فائنل امتحان دے کر اپنے چچا کے پاس آگیا تھا تاکہ کچھ عرصہ گاؤں میں گزار سکے۔ نین نقش اس کے اچھے تھے، اردو میں بات کرنے کا سلیقہ آتا تھا، انگلش میں روانی تھی۔ پینٹ شرٹ، کلین شیو، گورا چٹا رنگ، سپاٹ چہرہ اور مسکراتی ہوئی آنکھیں کسی بھی گاؤں زادی کا کا دل جیتنے کے لیے کافی تھیں۔

موڑ موڑ ٹھہرے تھے

دل پہ سات پہرے تھے

اس ویران بستی میں

جنگلوں کی دھرتی میں

بے شمار رستے تھے

بے شمار راہیں تھیں

لیکن تم نے چاہا تھا

ان فضول راہوں میں

سسکیوں میں، آہوں میں

اداس شب کی باہوں میں

کوئی پیار مل جائے

دل سوار مل جائے

ہمدمی کا وعدہ ہو

کہکشاں سا رستہ ہو

سات رنگ پھولوں میں

جگنوؤں کے پہرے میں

تتلیوں کے جھرمٹ میں

ساتھ اس کا مل جائے

ہاتھ اس کا مل جائے

تم نے یہی چاہا تھا

تم نے یہی چاہا تھا

بے پناہ محبت ہو

اس ویران بستی میں

جنگلوں کی دھرتی میں

پیار بھرے دریا میں

ایک ہو کے رہ جائیں

اور اسی میں بہہ جائیں

تم نے یہی چاہا تھا

ٹیوشن کا یہ ابھی پانچواں دن تھا کہ عذرا اس کی باتوں کے سامنے ڈھیر ہوچکی تھی۔ اس کی نظریں اپنی کتاب پر کم اور اس کے چہرے پر زیادہ جمتی تھیں۔ اس کو اب اپنے کالج سے زیادہ ٹیوشن کا وقت شروع ہونے کا انتظار رہنے لگا تھا، وہ اسٹوڈنٹ سائنس کی تھی لیکن اسے شعر و شاعری اچھی لگنے لگی تھی۔ سیاہ زلفوں والی عذرا کے پراندھے کے رنگ مزید نکھر گئے تھے، دودھیا رخساروں پر پہاڑی علاقوں کے سیبوں جیسی سرخی اور آنکھوں میں چمک سی آگئی تھی، ہونٹوں پر معصومیت کی لالی مزید گہری ہو گئی تھی۔

چودھری نذیر اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرہ کرنے گیا تو اپنی گناہوں کی رو رو کر معافی مانگتا رہا۔ اپنے بھائی چودھری بشیر کی ہدایت کی بھی دعا کرتا رہا لیکن شاید وہ اپنی عذرا کے مقدروں کی دعا کرنا بھول گیا تھا۔ چودھری نذیر کو اچھی طرح علم تھا کہ اس کی بیٹی تو اس کے بھائی کے گھر ہی جائے گی، فکر کی بھلا کیا بات ہے؟

جب وہ اپنے لیے جنت کی دعا مانگ رہا تھا تب عذرا اور آصف گاؤں چھوڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جس رات چودھری نذیر نے واپس آنا تھا، اسی رات عذرا نے گھر میں رکھا امی کا کچھ زیور اور نقدی لی اور رات کی تاریکی میں لاہور سے آنے والی ایک کار میں بیٹھ گئی۔

آصف کا ایک دوست خصوصی طور پر انہیں لینے آیا تھا۔ اس وقت عذرا کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پھر زندگی بھر اپنے گاؤں کا یہ راستہ نہیں دیکھ پائے گی۔

21 سالہ عذرا کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا لیکن آصف نے نرم و ملائم انگلیوں کو اپنے دونوں مضبوط ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا، فکر نہ کرو! سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ میں تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا۔ میری محبت صرف تمہارے لیے ہے، میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہارا رہوں گا۔

اس رات عذرا کی آنکھوں میں امید کے دیے تھے لیکن خوف بھی جھلک رہا تھا۔ ایک طرف محبت تھی اور محبت کے لازوال وعدے تھے۔ دوسری طرف اس کے وہ گھر والے تھے، جن کو چھوڑ کر وہ ان دیکھے راستے پر نکل کھڑی ہوئی تھی۔ ایک دل تھا کہ ابھی واپس چلی جائے، دوسری طرف آصف کے آنکھوں کی مسکراہٹ تھی، جو ایک پیارے بھرے دریا میں بہا لے جا رہی تھی۔ اس رات عذرا کو سیاہ چادر کے ساتھ ساتھ غم، امید، یاس اور خیالات نے بھی اپنے بازوؤں میں لپیٹ رکھا تھا۔ اس رات عذرا کی تیز سانسیں پتھروں کو بھی نرم کر رہی تھیں۔

ان دیکھے خواب اور نئے راستے تھے، چڑھتے چناب کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے جذبات تھے۔ کار کی پچھلی سیٹ پر عذرا تھی، آصف تھا، خوف، رنج اور خوشی کے جذبات کا ملا جلا سیلاب تھا، ساتھ جینے مرنے کے وعدے تھے۔ آصف بار بار عذرا کو اپنے سینے سے لگا رہا تھا، کوئی آنسو گرتا تو فوراً اپنی انگلیوں سے صاف کردیتا۔ فکر مت کرو! میں تمہارے ساتھ ہوں۔ عذرا دوبارہ کچھ سوچتی، دوبارہ کوئی آنسو گرتا، آصف اس کی دہکتی ہوئی جبیں پر دوبارہ مرہم نما ایک بوسہ رکھ دیتا۔ رات کی تاریکی میں گاڑی ایک نامعلوم مقام کی طرف چلتی رہی۔ عذرا اور آصف نتھی ہوکر بیٹھے رہے، دہکتی جبیں پر وقفے وقفے سے بوسے ٹھنڈک کا احساس پیدا کرتے رہے۔

عمرے کے بعد چودھری نذیر نے بھی کسی سے ملاقات کرنا مناسب نہ سمجھا اور نہ ہی کسی کو جرات ہوئی کہ کوئی عذرا کا ان کے سامنے نام لے لیتا۔ لوگوں کے طعنوں کا خوف اس سے بڑھ کر تھا۔ چودھری نذیر نے خود کو بس ایک کمرے تک محدود کرلیا تھا۔ چھت تھی، چارپائی تھی، حقہ تھا اور چودھری نذیر کی تنہائی ۔

اس واقعے کے 2 ماہ بعد ہی چودھری نذیر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کے رہ گیا تھا۔ داڑھی بڑھ چکی تھی، لیکن نظریں ہر وقت نیچی رہتی تھیں۔ چودھری نذیر کی سلطنت لٹ چکی تھی اور وہ شرمندگی کے مارے گاؤں کے کسی بندے سے نہیں ملنا چاہتا تھا۔ چھوٹے بیٹوں نے اور چودھری بشیر نے کئی مرتبہ کہا کہ دونوں کو ڈھونڈ کر ایک ساتھ قتل کریں گے لیکن چودھری نذیر اب بھی مختلف تھا۔ اپنی بیٹی کے قتل کا سنتے ہی اس کی آنکھوں سے مزید آنسو گرنا شروع ہوجاتے تھے۔

چودھری نذیر کو غصہ بھی تھا، رنج بھی تھا لیکن وہ ساتھ یہ بھی کہتا کہ بچی تھی۔ پھر خود ہی کہتا کہ سب کچھ کیا تھا اس کے لیے، اپنے بھائی کے طعنے سنے لیکن اس کی ہر خواہش پوری کی، اسے پڑھایا، اس نے یہ صلہ دیا ہے اپنے باپ کو!

بشیر سچ کہتا تھا اسے نہیں پڑھانا چاہیے تھا، بشیر سچ کہتا تھا!

عذرا کے ہاں پہلی بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے کسی کے ہاتھ اپنی ماں تک یہ خبر پہنچا دی۔ عذرا کی ماں نے چودھری نذیر سے بات کی تو وہ دیر تک چپ چاپ ہی بیٹھا رہا۔ اس کی پہلی بیٹی کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش تھی۔ کافی دیر تو وہ یہی سوچتا رہا کہ وہ یہاں ہوتی تو کیا کیا نہ خوشیاں منائی جاتیں۔ جس بیٹی کو میں نے اپنی گود میں پکڑ کر جوان کیا تھا، اب اس کی بیٹی کو پکڑ کر کیسا لگتا؟

لیکن وہ چپ ہی رہا، اس کے چہرے پر نہ خوشی تھی، نہ غم تھا، نہ مسرت تھی نہ رنج تھا۔ عذرا کی ماں کافی دیر چودھری نذیر کے پاس بیٹھی رہی لیکن دونوں کو جیسے چپ سی لگ گئی ہو۔

کئی روز تک عذرا کی ماں چودھری بشیر کو مناتی رہی کہ بس ایک مرتبہ اسے اپنی بیٹی سے ملنے جانے دیں، وہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دے گی لیکن چودھری نذیر کا ایک ہی جواب تھا ’وہ ہمارے لیے مرچکی ہے اور ہم اس کے لیے‘۔ پورے گاؤں میں ذلیل کیا ہے اس نے، ہمارے پورے خاندان کے منہ پر کالک ملی ہے اس نے، کیا کچھ نہیں کیا تھا ہم نے اس کے لیے، کس چیز کی کمی تھی، جو اس نے یہ صلہ دیا ہم کو!

عذرا کی ماں کئی دن چپکے چپکے روتی رہی، کئی راتیں اپنی پوتی کو دیکھنے اور اپنی سب سے لاڈلی بیٹی سے ملنے کی خواہش لیے جاگتی رہی۔ ماں تھی آخر لیکن اپنے شوہر اور بیٹوں کے سامنے بے بس تھی۔ شریکوں کے سامنے مزید بدنامی کا خوف ایسا تھا کہ کسی کے سامنے رو کر دل ہلکا بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

3 برس بعد عذرا کے ہاں دوسری بیٹی ہوئی تو بھی کسی کو عذرا سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔ عذرا کو بڑا واضح پیغام دیا گیا تھا کہ اگر زندگی میں کبھی اس نے بھول کر بھی گاؤں میں قدم رکھا تو وہ اس کا آخری قدم ہوگا۔ وہ اپنے بھائیوں اور چچا کو جانتی تھی اور اسے علم تھا کہ وہ اسے قتل کرنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں لگائیں گے۔

دوسری طرف آصف کی محبت کی شمع بھی ماند پڑنے لگی تھی۔ ساتھ جینے اور ساتھ مرنے کے جو وعدے اس نے پہلی رات کیے تھے، وہ تو شادی کے ایک سال بعد ہی ریت بن کر بہہ گئے تھے۔ جس حسن کا وہ دیوانہ تھا وہ تو پہلی بچی کی پیدائش کے ساتھ ڈھل گیا تھا، جو جبیں گاؤں چھوڑتے وقت چاند کی طرح روشن تھی، وہ تو اب سیاہ تختے کی طرح لگنے لگی تھی۔ سرسوں کے پھولوں جیسے نرم ہاتھ تو اب کھردرے ہوچکے تھے، سمندری آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی تھی، رخساروں کی سرخی خیالات، فکریں اور گھریلو جھگڑے نچوڑ کر پی چکے تھے۔

اب

بے دھڑک سا اک سینہ

ماتھے پہ پسینہ

اور دل ہے کہ پتھر ہے

غاروں کا مکیں ٹھہرا

ایک دن عذرا کو یہ خبر ملی کہ پچھلے ہفتے اس کے والد کو گاؤں کے بڑے قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔ اس دن وہ اتنا روئی تھی کہ بنجر آنکھوں میں مزید دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں سارا ماضی گھومنے لگا تھا، اپنے باپ کے وہ کندھے یاد آنے لگے، جن پر وہ بے خوف و خطر چڑھ کر بیٹھ جایا کرتی تھی۔ وہ خود کو بار بار کوستی رہی اس دن، خدا سے رو رو کر معافیاں مانگتی رہی، وہ اپنے باپ کی قبر سے لپٹ کر رونا چاہتی تھی، وہ اپنے باپ سے معافی مانگنا چاہتی تھی وہ کہنا چاہتی تھی کہ اب دوبارہ کبھی حکم عدولی نہیں کرے گی لیکن اب پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا تھا، اب یہ اَن کہی خواہش زندگی بھر قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرسکتی تھی۔

ان اداس شاموں میں

بے نیاز آنکھوں سے

آنسوؤں کو گرنے دو

خود انہی کو مرنے دو

ان گنت خواہشوں کی

بے پناہ محبت کی

ٹوٹ ٹوٹ مرنے کی

جاں نثار کرنے کی

دودھیا سے رستے میں

پیار بیج بونے کی

دل سے اس کا ہونے کی

سزا انہی کو ملنے دو

ان اداس شاموں میں

بے نیاز آنکھوں سے

آنسوؤں کو گرنے دو

خود انہی کو مرنے دو

وہ اس دن کب تک روتی رہی اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں۔ وہاں کوئی بھی نہیں تھا اسے چپ کروانے والا، اسے دلاسا دینے والا، اسے گلے لگانے والا، اس کے آنسو پونچھنے والا۔ آصف بھی نہیں تھا، جس نے گھر سے بھاگتے ہوئے پہلی رات اس کے آنسو پونچھے تھے، اس کی دہکتی جبیں پر مرہم نما بوسے ثبت کیے تھے لیکن آج کوئی بھی نہ تھا۔ اس رات کمرے کے ایک کونے سے دیر تک سسکیوں اور کبھی ہچکیوں کے ساتھ رونے کی آواز آتی رہی تھی۔ اسے کب معلوم تھا کہ وہ زندگی بھر اپنی حویلی جانے والا راستہ نہیں دیکھ سکے گی۔ اسے دکھ تھا تنہائی کا، اسے ندامت تھی اپنے فیصلے کی، اسے رنج تھا آصف کے ان وعدوں کا، جو اس نے پورے نہیں کیے تھے۔

آصف گزشتہ ایک سال سے گھر رات کو دیر سے آ رہا تھا لیکن آج وہ اپنے ساتھ اپنی دوسری بیوی کو بھی لایا ہے۔ عذرا پہلے تو بہت شور کرنے لگی کہ یہ اس گھر میں اور میری بیٹیوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی لیکن گھر تو آصف کے نام تھا۔

اب وہ چیخ چیخ کر تھک ہار چکی ہے، آصف کا غصہ تیز ہوتا جا رہا ہے، وہ منتوں سماجتوں پر اتر آئی ہے۔ دونوں بیٹیاں اپنی ماں کو اس طرح باپ کے پاؤں پکڑے روتے ہوئے دیکھ کر مزید رو رہی ہیں۔ چودھری نذیر کی بیٹی آصف کے پاؤں چھوڑنے پر تیار نہیں ہے۔ اس کے زرد گال آصف کے جوتوں پر رکھے ہوئے ہیں، اس کی بنجر آنکھوں سے بہنے والے آنسو جوتوں پر پڑی گرد سے بھی بے وقعت معلوم ہو رہے ہیں۔ ہچکیاں بندھی ہوئی ہیں، پنجرے نما سینے سے ایک صدا وقفے وقفے سے نکل رہی ہے۔ مجھے اس گھر سے مت نکالیے، میں کہاں جاؤں گی، آپ خود سوچیں میں کہاں جاؤں گی؟