خادم حسین رضوی کے جوڈیشل ریمانڈ میں ایک مرتبہ پھر توسیع

ای میل

پیشی کے موقع پر عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے — فائل فوٹو/ ٹوئٹر
پیشی کے موقع پر عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے — فائل فوٹو/ ٹوئٹر

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ججز کی سپریم کورٹ میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کے باعث تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور احتجاجی مظاہروں میں سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کیس پر سماعت ہوئی۔

خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کو تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ 18/958 میں عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: خادم حسین رضوی کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید توسیع

اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ عدالت نے خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر رکھا تھا لیکن ججز کی سپریم کورٹ میں اجلاس میں شرکت کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔

بعد ازاں خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30 مارچ تک کے لیے توسیع کردی گئی۔

واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر خادم حسین رضوی سمیت دیگر کو الزامات کی نقول تقسیم کی تھیں۔

یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر رہنماؤں کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف تحریک لبیک پاکستان کے پرتشدد مظاہروں کے دوران املاک کو نقصان اور توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: خادم حسین رضوی سمیت ٹی ایل پی کے دیگر رہنماؤں کی درخواست ضمانت مسترد

خادم حسین رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران 23 نومبر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا۔

اس کریک ڈاؤن کا آغاز آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف تحریک لبیک کی جانب سے مظاہرے دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔