آصف زرداری، بلاول بھٹو کی نیب راولپنڈی میں ایک مرتبہ پھر طلبی

ای میل

آصف زرداری اور بلاول بھٹو اسے قبل نیب راولپنڈی کی طلبی پر حاضر نہیں ہوئے تھے—فائل/فوٹو:ڈان
آصف زرداری اور بلاول بھٹو اسے قبل نیب راولپنڈی کی طلبی پر حاضر نہیں ہوئے تھے—فائل/فوٹو:ڈان

قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورشریک چیئرمین آصف علی زرداری کو پارک لین کمپنی کیس میں ایک مرتبہ پھر طلب کرلیا جبکہ پی پی پی کی جانب سے نوٹس ملنے کی تردید کر دی گئی۔

ترجمان نیب راولپنڈی کے مطابق آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو پارک لین کمپنی کیس میں طلب کیا گیا ہے اور الزام ہے کہ اس کیس میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشن جعلی بنک اکاونٹس سے کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے پارک لین کمپنی 1989 میں فرنٹ میں اقبال میمن کے ذریعے خریدی اور2009 میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو دونوں کمپنی کے شیئرہولڈر بنے۔

ترجمان کے مطابق آصف زرداری اور بلاول بھٹو کمپنی کے 25،25 فیصد حصص کے مالک ہیں اور سابق صدر مملکت آصف زرداری بطور کمپنی ڈائریکٹر اکاونٹس استعمال کرنے کا اختیار رکھتے تھے۔

مزید پڑھیں:رئیل اسٹیٹ کیس: نیب نے آصف زرداری، بلاول بھٹو کو طلب کرلیا

انہوں نے کہا کہ 2008 میں پارک لین کمپنی کے دستاویز پر آصف زرداری کے بطور ڈائریکٹر دستخط موجود ہیں جبکہ پارک لین کمپنی نے قرضوں کی مد میں بینکوں سے اربوں روپے حاصل کیے۔

دوسری جانب سندھ کے مشیراطلاعات و قانون بیرسٹر مرتضی وہاب نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو نیب کی جانب سے نوٹس ملنے کی تردید کی اور کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ابھی تک نیب کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ نوٹس وصولی سے قبل اجرا کی خبریں جاری کرکے نیب بظاہر ہراساں کررہا ہے، نیب کا کام کیا اب کردارکشی رہ گیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 'نیب کی گردن پر اسدمنیر جیسے شرفا کا خون ہے'۔

یاد رہے کہ نیب راولپنڈی نے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو رئیل اسٹیٹ کیس میں 13 دسمبر کو طلب کیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

اس طلبی کے حوالے سے نیب کے ترجمان نوازش علی عاصم نے بتایا تھا کہ کراچی کی رئیل اسٹیٹ کمپنی پارک لین اسٹیٹ (پرائیوٹ) لمیٹڈ سے متعلق کیس میں انہیں طلب کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے آصف علی زرداری سے کمپنی کی تشکیل میں درکار وسائل سے متعلق سوالات پوچھے جائیں گے اور بلاول بھٹو سے کمپنی کے حصص خریدنے کے لیے درکار فنڈز سے متعلق بھی سوالات ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:منی لانڈرنگ کیس اسلام آباد منتقل، آصف زرداری کی حفاظتی ضمانت منسوخ

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے کیپیٹل ڈیوپلمنٹ اتھارٹی حکام کی جانب سے پنجاب فورسٹ ڈپارٹمنٹ کی اراضی پارک لین اسٹیٹ (پرائیوٹ) لمیٹڈ کو الاٹ کرنے پر 23 مئی کو تحقیقات کی منظوری دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنی بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سمیت دیگر کے نام پر قائم تھی۔

خیال رہے کہ 15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے آصف زرداری، فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لے کر زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے میگا کرپشن کیس میں بینکنگ عدالت کی جانب سے کیس کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور بینکنگ عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنے اپنے وکلا کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ پہنچے، اس موقع پر عدالت کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

آصف زرداری نے اپنے وکلا کے ذریعے بینکنگ عدالت کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس کو اسلام آباد منتقل کرنے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔

سابق صدر نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ بینکنگ عدالت کی جانب سے مقدمہ منتقلی کے احکامات غیر قانونی ہیں اور استدعا کی کہ بینکنگ عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔