سپریم کورٹ کا جھوٹے گواہوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

اپ ڈیٹ 20 مارچ 2019

ای میل

31 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان نے تحریر کیا—فائل فوٹو: اے پی پی
31 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان نے تحریر کیا—فائل فوٹو: اے پی پی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدلیہ کو جھوٹی گواہی پر کسی قسم کی لچک نہ دکھانے کی ہدایت کرتے ہوئے جھوٹے گواہ کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے یہ تحریری فیصلہ پولیس کانسٹیبل خضر حیات کی جانب سے مجرمانہ کیس میں جھوٹی گواہی سے متعلق جاری کیا گیا۔

31 صفحات پر مشتمل اس تحریری فیصلے کو چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے خود تحریر کیا اور اس میں قرآن پاک کی آیات کا بھی حوالہ دیا گیا۔

مزید پڑھیں: 'جھوٹے گواہوں نے نظام عدل کو تباہ کر کے رکھ دیا'

فیصلے میں عدلیہ کو جھوٹی گواہی پر کسی قسم کی لچک نہ دکھانے کا کہا گیا جبکہ ساتھ ہی یہ حکم دیا گیا کہ جھوٹی گواہی پر جھوٹے گواہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سچ انصاف کی بنیاد ہے، انصاف مہذب معاشرے کی بنیاد ہے، سچ پر سمجھوتہ دراصل معاشرے کے مستقبل پر سمجھوتہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہمارے عدالتی نظام کو سچ سے انحراف کرنے پر بہت نقصان ہوا، ان سنگین غلطی کو درست کرنے کا وقت آگیا ہے، جو ایک جگہ جھوٹا ہوگا وہ ہر جگہ جھوٹا ہوگا، گواہی کے کسی حصے میں جھوٹ پر پوری گواہی جھوٹی تصور ہوگی، عدالتیں ایسے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں۔

عدالت عظمیٰ نے رجسٹرار آفس کو اس فیصلے کی نقل تمام ہائیکورٹس اور ماتحت عدلیہ کے ججز کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ سچی گواہی دی جائے، چاہے سامنے کوئی عزیز یا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو، سچی گواہی کی عدم موجودگی میں انصاف ممکن نہیں، اسلام بھی گواہی میں حقائق چھپانے سے روکتا ہے۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ سچ کے خلاف جھوٹے کی حمایت سے ناانصافی اور انصاف کے خلاف جارحیت کو فروغ ملتا ہے، جھوٹی گواہی انصاف اور مساوات کو نقصان پہنچاتی ہے جبکہ جھوٹی گواہی عوام کے تحفظ اور سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم محمد الیاس کی سزا کے خلاف اپیل پر جھوٹی گواہی کا نوٹس لیتے ہوئے جھوٹے گواہ خضر حیات کو طلب کیا تھا جبکہ ملزم محمد الیاس کو عدم شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: قانون کے مطابق جھوٹی گواہی پر عمر قید کی سزا دی جاتی ہے، چیف جسٹس

یاد رہے کہ محمد الیاس پر 2007 میں ضلع نارووال کے علاقے میں آصف نامی شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا اور ٹرائل کورٹ نے محمد الیاس کو سزائے موت سنائی تھی۔

اس سے قبل جھوٹی گواہی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے تھے کہ جھوٹے گواہوں نے نظام عدل کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، تمام گواہوں کو خبر ہو جائے، بیان کا کچھ حصہ بھی جھوٹ ہوا تو سارا بیان مسترد ہو گا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عدالت میں کہا تھا کہ ’سچ کا سفر شروع کر رہے ہیں‘ جس میں ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی جو عدالتی مقدمات میں جھوٹی گواہی دیتے ہوئے پائے گئے۔