کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، 2محافظ جاں بحق

اپ ڈیٹ 22 مارچ 2019

ای میل

مفتی تقی عثمانی ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کر رہے ہیں— تصویر بشکریہ کراچی پولیس
مفتی تقی عثمانی ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کر رہے ہیں— تصویر بشکریہ کراچی پولیس

کراچی میں جامعہ دارالعلوم کے نائب مہتمم اور ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے جبکہ ان کے 2 محافظ جاں بحق ہو گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب دو کاروں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 محافظ جاں بحق ہوگئے جبکہ مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے۔

جاں بحق افراد کی شناخت محمد فاروق اور صنوبر خان کے نام سے ہوئی ہے۔

فائرنگ کے واقعے کے بارے میں پولیس کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے، ابتدا میں بتایا گیا کہ فائرنگ کا ایک واقعہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے قریب جبکہ دوسرا واقعہ گلشن اقبال کے علاقے نیپا پل کے قریب پیش آیا۔

بعد ازاں حملے کی مختصر سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی جس میں موٹر سائیکل پر سوار 2 مبینہ ملزمان کی نشاندہی کی گئی، تاہم ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ان ہی ملزمان نے گاڑیوں پر فائرنگ کی تھی یا نہیں۔

کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ کے سربراہ راجا عمر خطاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے علاقے میں دو گاڑیوں پر حملہ کیا گیا، دوسرا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: دارالعلوم حقانیہ کیلئے 27 کروڑ 70 لاکھ روپے گرانٹ کی سمری ارسال

فائرنگ کا نشانہ بنائی گئی دونوں گاڑیوں کا تعلق دارالعلوم کراچی سے ہے اور ان میں سے ایک میں مفتی تقی عثمانی سوار تھے۔

دارالعلوم کے ترجمان مفتی طلحہ رحمانی نے ڈان نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ مفتی تقی عثمانی خیریت سے ہیں۔

جن دو گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی ان میں سے ایک کار جس کا نمبر BKE-748 ہے وہ مفتی تقی عثمانی کے نام پر رجسٹرڈ ہے جبکہ دوسری گاڑی جس کا نمبر ATF-908 وہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے نام پر ہے۔

دونوں واقعات میں دارالعلوم کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا— فوٹو: اسکرین شاٹس

پولیس کے مطابق جائے وقوع سے 9 ایم ایم پستول کے خول ملے ہیں جنہیں قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

کس کے کہنے پر ہوا کچھ نہیں کہہ سکتا، مفتی تقی عثمانی

مفتی تقی عثمانی نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں بتایا کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان کی جانب سے فائرنگ کے وقت گاڑی میں ان کی اہلیہ اور 2 پوتے بھی موجود تھے تاہم وہ فائرنگ سے محفوظ رہے۔

انہوں نے حملے کی مختصر تفصیلات بتائیں کہ ایسا لگا کہ ہماری گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی ہو۔

حملے کے محرکات سے متعلق مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ کس کے کہنے پر یہ ہوا، اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

مفتی تقی عثمانی محفوظ ہیں، آئی جی سندھ

آئی جی سندھ سید کلیم امام نے واقعے کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مفتی تقی عثمانی واقعے میں بالکل محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے جوان نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے مفتی تقی عثمانی کو محفوظ رکھا جبکہ دوسری گاڑی پر فائرنگ میں بھی ایک شخص کے جاں بحق اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

انہوں نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی کے ساتھ سیکیورٹی موجود تھی اور وہ ہر جمعہ کو بیت المکرم مسجد میں نماز پڑھانے آتے تھے۔

‘واقعہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کا تسلسل نہیں‘

ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس امیر شیخ نے کہا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 دہشت گردوں نے گاڑی پر فائرنگ کی۔

انہوں نے کہاکہ یہ واقعہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کا تسلسل نہیں، یہ فرقہ واریت کی نہیں بلکہ کراچی کا امن خراب کرنے کے سازش لگتی ہے۔

’فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خطرات موجود‘

فائرنگ کے واقعے کے بارے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے انچارج راجا عمر خطاب کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ نرسری کے واقعے کا علم نہیں۔

علاوہ ازیں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گلشن اقبال طاہر نورانی نے ڈان کو بتایا کہ فائرنگ کے واقعے میں مفتی تقی عثمانی مکمل طور پر محفوظ رہے۔

انہوں نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی ہر جمعہ کو بیت المکرم مسجد میں نماز پڑھانے آتے تھے، آج جمعہ کی نماز سے کچھ دیر قبل نیپا چورنگی کے قریب ان کی کار پر دو موٹرسائیکلوں پر سوار 4 نامعلوم ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک پولیس گارڈ محمد فاروق جاں بحق جبکہ مفتی تقی عثمانی کا نجی سیکیورٹی گارڈ حبیب زخمی ہوگیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مفتی تقی عثمانی کی کار کے پیچھے دوسری گاڑی پر بھی ملزمان نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کار ڈرائیور صنوبر جاں بحق جبکہ مذہبی اسکالر عامر شہاب زخمی ہوگئے۔

محافظ جاں بحق، بیٹے کی تصدیق

فائرنگ کے واقعے کے بعد ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی کے صاحبزادے عمران تقی کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مفتی تقی عثمانی کو محفوظ رکھا لیکن ان کے محافظ جاں بحق ہوگئے۔

انہوں نے بتایا جاں بحق ہونے والے دو محافظوں میں ایک سندھ پولیس کا اہلکار جبکہ ایک نجی کمپنی کا گارڈ تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ والد صاحب کو کبھی کوئی دھمکی نہیں ملی، وہ ایک غیر متنازع شخصیت ہیں۔

’مفتی تقی عثمانی نے خطرات سے آگاہ کیا تھا‘

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں نے بڑی جانفشانی سے شہر کے امن کو بحال کیا، پی ایس ایل میں بہت خطرات تھے لیکن ہماری ایجنسیوں نے اسے کامیاب بنایا۔

انہوں نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی نے انہیں خطرات سے آگاہ کیا تھا، میری اُن سے بات ہوئی وہ خیریت سے ہیں لیکن ان کا گارڈ جاں بحق ہوگیا، یہ واقعہ پورا ٹارگٹڈ تھا اور وہ مفتی صاحب کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے شبہ سرحد پار عناصر کی طرف جاتا ہے، ہم آج رات تک ملوث عناصر کو پکڑلیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، آج کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے لیکن ہم نے اداروں کا ساتھ دے کر ایسے عناصر کو پکڑنا ہے۔

'حملہ گہری اور گھناؤنی سازش'

وزیر اعظم عمران خان نے مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ واقعے کی سازش بے نقاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

انہوں نے اپنے بیان میں مفتی تقی عثمانی کی خیروعافیت کی خبر پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی تقی عثمانی جیسی قابل قدر ہستی پر حملہ گہری اور گھناؤنی سازش ہے اور ان جیسے جید عالم دین ملک اور عالم اسلام کا اثاثہ ہیں۔

وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں کو علمائے کرام کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے فائرنگ میں مفتی تقی کے گارڈز کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین کی جانب سے مشترکہ بیانیے میں حملے کو افسوس ناک اور قابل مذمت قرار دیا گیا اور حکومت اس کے پس پردہ عوامل اور اسباب سے قوم کو آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مفتی محمد تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ کرنے کی جسارت کرنے والے عناصر اور ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر نشان عبرت بنایا جائے‘۔

انہوں نے حملے کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ’علمائے کرام سے سیکیورٹی واپس لینے والے اس حملے کے برابر کے ذمہ دار ہیں‘۔

دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پاکستان سپر لیگ کا کامیاب انعقاد دہشت گردوں سے برداشت نہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

علاوہ ازیں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد سے کراچی کے دشمن جل گئے ہیں لیکن کراچی کا امن خراب کرنے والوں کو سختی سے کچل دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے اور مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو پکڑ کر کراچی کا امن خراب کرنے کی سازش کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

دریں اثنا امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مفتی تقی عثمانی پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ مولانا محمد تقی عثمانی صاحب پر قاتلانہ حملہ انتہائی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے، اللہ تعالی کا لاکھ شکرہے کہ وہ اپنی اہلیہ اورپوتوں سمیت محفوظ رہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانےکی بڑی سازش ناکام ہوگئی، حکومت فوری طور پر سازش بے نقاب کرے اور حملہ آوروں اور ان کے سرپرستوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور کہا حکومت علماء کرام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے، حملہ آوروں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

مزید برآں مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے مفتی تقی عثمانی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی شخصیات پر فائرنگ شہر کا امن تباہ کرنے کی سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مولانا مفتی تقی عثمانی پر دہشت گرد حملے کی مذمت اور جاں بحق افراد کے ورثاء سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شیخ الاسلام جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کونسل مطالبہ کرتی ہے بزدلانہ حملہ میں ملوث افراد کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور حکومت ایسے امن کے داعیان علماء کی حفاظت کو یقینی بنائے‘۔

مفتی تقی عثمانی اور جامعہ دارالعلوم کراچی

مفتی محمد تقی عثمانی جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم ہیں جبکہ ان کے بھائی اور پاکستان کے موجودہ مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی بهی اس مدرسے کے رئیس وصدر ہیں۔

مفتی تقی عثمانی کی پیدائش 27 اکتوبر 1943 کو بھارت کےصوبے اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے قصبہ دیو بند میں ہوئی۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم مرکزی جامع مسجد تھانوی جیکب لائن کراچی میں حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی کے قائم کردہ مدرسہ اشرفیہ میں حاصل کی۔

مفتی تقی عثمانی1977 میں جنرل ضیاالحق کی جانب سے 1973 کے آئین کی روشنی میں تشکیل دی گئی اسلامی نظریاتی کونسل کے بانی ارکان میں سے تھے۔

مفتی تقی عثمانی کے والد مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی شفیع نے 1951 میں نانک واڑہ کراچی میں ایک پرانے اسکول کی بلڈنگ میں 2 اساتذہ اور چند طلبا پر مشتمل ایک مدرسہ قائم کیا، جسے دارالعلوم کراچی کا نام دیا گیا۔

بعد ازاں عالم دین حاجی ابراہیم نے دارالعلوم کے لیے 56 ایکڑ وسیع زمین دارالعلوم کے لیے وقف کی اور دارالعلوم 1957 میں کورنگی میں منتقل ہوا جبکہ نانک واڑہ میں حفظ ناظرہ اور تجوید قرأت کے شعبے موجود ہیں۔

جامعہ دارالعلوم کراچی میں علوم اسلامیہ کی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ پہلی جماعت سے میٹرک تک تعلیم کا بھی خصوصی انتظام موجود ہے۔

اس وقت دارالعلوم میں سیکڑوں علمائے کرام تعلیم دے رہے ہیں اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے ہزاروں طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

ان طلبہ میں سے تقریباً ایک ہزار 5 سو زائد طلبہ کے طعام و قیام، کتابوں کا انتظام جامعہ دارالعلوم کراچی کی طرف سے مفت کیا جاتاہے۔

اس کے علاوہ شہر و مضافات کراچی میں قرآنی تعلیم کے تقریباً 27 مدارس بھی قائم ہیں جن میں تقریباً 4 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کا فضائی منظر— فوٹو: اسکرین شاٹ
جامعہ دارالعلوم کراچی کا فضائی منظر— فوٹو: اسکرین شاٹ